پی ڈی پی عوام کے مفادات کوتحفظ فراہم کرنے کیلئے ہمیشہ تیار:عبدالحمیدچوہدری
جموں اور لداخ کو نظر انداز کرنے کا الزام بے بنیاد:ویدمہاجن
جموں//چیف کوآرڈی نیٹر پی ڈی پی عبدالحمیدچوہدری نے کہاہے کہ پی ڈی پی جموں وکشمیرکے لوگوں کی اُمنگوں کوتحفظ فراہم کرنے کیلئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرے گی۔انہوں نے کہاکہ پی ڈی پی نے عوام کے منڈیٹ کااحترام کیااور عوامی کی توقعات پرکھرااترنے کیلئے ہزاربارقربانیاں دینے کیلئے تیارہے۔انہوں نے کہاکہ پی ڈی پی کشمیرمیں امن بحالی کیلئے ہرممکن اقدامات اٹھاتی رہے گی۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی نے حکومت سے حمایت واپس لے کرعوام کی توقعات کی پاسداری نہیں بلکہ عوام کے ساتھ کھلواڑکیا۔علاوہ ازیں جموں اور لداخ کے ساتھ امتیازی سلوک رواں رکھنے کے بی جے پی کے الزام کو سختی کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے پی ڈی پی کے جنرل سیکریٹری نے کہا کہ 2014کے تباہ کن سیلاب کے باعث وادی کی طرف خصوصی توجہ دینا لازمی تھا ۔ بی جے پی کے وزراء کی خامیوں کے باعث جموں میں تعمیراتی سرگرمیوں کا فقدان رہا ۔ تفصیلات کے مطابق جموں میں پارٹی کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی پی کے جنرل سیکریٹری وید مہاجن نے جموں اور لداخ کو تین برسوں کے دوران نظر انداز کردینے کے بھارتیہ جنتا پارٹی کے الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کو پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ حکومت میں دونوں اکائیاں شامل تھیں اور جتنے بھی فیصلے لئے گئے وہ مشترکہ طور پر لئے گئے ۔ پارٹی کے جنرل سیکریٹری نے کہا کہ 2014کے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے وادی کشمیر میں تباہی اور بربادی ہوئی تھی اور بنیادی ڈھانچے کو تعمیر کرنے کیلئے وادی کی طرف خصوصی توجہ دینا لازمی تھا ۔ انہوںنے کہا کہ مخلوط حکومت کے تین سالہ دورِ ِاقتدار میں ریاست کے تینوں خطوں کی یکساں ترقی کیلئے اقدامات اٹھا ئے گئے تاہم بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیروں کی اپنی خامیوں اور غفلتوں کی وجہ سے جموں صوبے میں تعمیراتی سرگرمیوں کا فقدان رہا ۔اس موقعے پر پی ڈی پی کے کارڈینیٹر چودھری عبدالحمید نے پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہمیشہ موقعہ پرستی کا ثبوت فراہم کیا ہے اور مخلوط حکومت کے دوران ریاست کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ڈی پی نے کئی بار حکومت سے حمایت واپس لینے کا فیصلہ ترک کر دیا ۔
صدرہندخصوصی اختیارکااستعمال کرکے اسمبلی تحلیل کریں : بھیم سنگھ
جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی ، اسٹیٹ لیگل ایڈ کمیٹی کے ایکزیکیوٹیو چیرمین اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پروفیسربھیم سنگھ نے صدر جمہوریہ رامناتھ کووند سے ہندستانی آئین کی دفعہ 370کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے جموں وکشمیر میں ایمرجنسی کا اعلان کرنے اور ریاستی گورنر کو اسمبلی تحلیل کرکے ریاست میں امن بحالی کے لئے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دینے کی درخواست کی ہے۔انہوں نے صدر سے ریاست کو مزید تباہی سے بچانے کے لئے مداخلت کرنے کی اپیل کی ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست امن وقانون کی بحالی کے لئے تمام انتظامی اور پولیس حکام کو خود سے اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہئے۔انہوں نے ریاست کی تمام حکمراں سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس، کانگریس ، بی جے پی یا پی ڈی پی کی ایمانداری پر شبہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام سابقہ حکمراں جماعتوں نے گزشتہ 70برسوں میں ریاست کو لوٹنے کا ہی کام کیا ہے اور یہی ریاست کے موجودہ حالات کے لئے ذمہ دار ہیں۔انہوں نے کہاکہ صدر جمہوریہ ہی واحد ایسی طاقت ہیں جو ہندستانی آئین کے تحت ریاستی امور میں مداخلت کرسکتے ہیں وہی ایسی طاقت ہیں جو ریاست میں مختصر مدت کے لئے ایمرجنسی نافذ کرسکتے ہیں جس سے خودغرض، بدعنوان، فرقہ پرست اور ناپسندیدہ قیادت کو ڈسپلن میں رکھا جاسکے اور جموں وکشمیر کے لوگ بلاکسی خوف و خطر کے پرامن زندگی جی سکیں۔
شیعہ طبقہ کو انتظامی کونسل میں نمائندگی دی جائے:عاشق خان
جموں//شیعہ فیڈریشن نے ریاستی گورنر سے اپیل کی ہے کہ جموں و کشمیر کی شیعہ برادری کو بھی انتظامیہ میں نمائندگی دیتے ہوئے طبقہ سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو گورنر کا صلاحکار بنایاجائے ۔یہاں جاری ایک پریس بیان میں فیڈریشن صدرعاشق حسین خان نے کہاکہ گورنر کی طرف سے سابق بیروکریٹوں کو اپنا مشیر مقرر کیاگیاہے جس کا وہ خیر مقدم کرتے ہیں لیکن جموں کشمیر کی شیعہ برادری کے کئی مسائل ہیں جن کے حل کیلئے آج تک کوئی بھی اقدامات نہیں کئے گئے لہٰذا اس طبقہ کی پسماندگی کو دیکھتے ہوئے کسی سابق بیروکریٹ کو گورنر کا صلاحکار بنایاجائے تاکہ لداخ سے لیکر پونچھ تک طبقہ کے مسائل حل ہوسکیں ۔ عاشق خان نے کہاکہ طبقہ کے ایسے کئی سینئر اور قابل بیروکریٹ ہیں جو نمائندگی کرسکتے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں اس کا موقعہ فراہم کیاجائے ۔ان کاکہناتھاکہ پوری ریاست اور خاص کر جموں صوبہ میں بس رہی شیعہ آبادی گوناگوں مسائل سے دوچار ہے اور ہر ایک حکومت کی طرف سے طبقہ کو طفل تسلیاں دی گئیں جبکہ حقیقی معنوں میں آ ج تک کوئی ٹھوس اقدام نہیںہوا۔ ان کاکہناتھاکہ کربلا کمپلیکس کی اراضی پر پولیس نے قبضہ کررکھاہے جس کو ہٹانے کیلئے دھرنے تک دیئے گئے مگر حکام کی طرف سے یقین دہانیوں سے آگے کچھ نہیں کیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ معاملہ گورنر کے نوٹس میں بھی ہے اور انہیں اب اس کا تصفیہ نکالناچاہئے اور پولیس تھانہ پیر مٹھاکو کسی دوسری جگہ منتقل کیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ اسی طرح سے شیعہ بستیوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں جو آ ج تک ان سے محروم ہیں ۔ عاشق خان نے کہاکہ جموں کشمیر کے شیعہ طبقہ کے مسائل کے حل کیلئے یہ ضروری ہے کہ طبقہ کو انتظامی کونسل میں نمائندگی دی جائے اور انہیں امید ہے کہ ریاستی گورنر ایسا کرکے اس طبقہ کو بھی ترقی کرنے کے مواقع فراہم کریں گے ۔
ایڈوکیٹ جنرل گور نر سے ملاقی
سرینگر/ سینئر ایڈوکیٹ ڈی سی رینہ نے آج یہاں راج بھون میں گورنر این این ووہرا کے ساتھ ملاقات کی ۔ ایڈوکیٹ رینہ نے حال ہی میں ایڈوکیٹ جنرل جے اینڈ کا عہدہ سنبھالا ہے۔گورنر نے رینہ سے کہا کہ وہ یاست جموں وکشمیر سے متعلق ہائی کورٹوں/ سُپریم کورٹ میں التواء میں پڑے تمام اہم معاملات سے متعلق موجودہ صورتحال کے بارے میں اُن کے ساتھ تبادلہ خیال کریں۔
۔ شری امر ناتھ یاترا2018
10038یاتریوں نے درشن کئے
سرینگر/ شری امر ناتھ جی یاترا کے17 ویں روز آج 11038یاتریوں نے پوتر گھپا میں شولنگم کے درشن کئے۔ یاترا شروع ہونے سے اب تک1,76,044 یاتری اب تک پوتر گپھا میں شو لنگم کے درشن کرچکے ہیں۔
کمشنر سیکرٹری پی ڈبلیو ڈی نے محکمہ کی کارکردگی کا جائیزہ لیا
جموں/ کمشنر سیکرٹری تعمیرات عامہ خورشید احمد شاہ نے یہاں منعقدہ افسروں کی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے محکمہ تعمیراتی عامہ کے کام کاج کا جائزہ لیا۔میٹنگ میں ڈیولپمنٹ کمشنر ورکس ستیش رازدان، چیف انجنئیر آر اینڈ بی سدھیر شاہ کے علاوہ متعلقہ محکمہ کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔میٹنگ کے دوران کمشنر سیکرٹری نے نبارڈ، سی آر ایف اور جموں خطہ میں سٹیٹ سیکٹر سکیموں پر جاری پیش رفت کا تفصیلی جائیزہ لیا۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ سٹیز اینڈ ٹاؤن پلان کے تحت جموں میں3295.86 کلو میٹر سڑکوں کو بلیک ٹاپ کیا گیا اور سی آر ایف کے تحت151 پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی جن میں سے 44 پروجیکٹ مکمل کئے گئے۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ نبارڈ۔ آر آئی ڈی ایف کے تحت منظورہ شدہ208 کاموں میں سے30 کام مکمل کئے گئے ہیں۔کمشنر سیکرٹری نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ وہ جاری پروجیکٹوں کی تکمیل مقررہ مدت کے اندر یقینی بنائیں۔اس سے قبل کمشنر سیکرٹری نے محکمہ تعمیرات عامہ کی طرف سے جاری بڑے پروجیکٹوں کا معائنہ کیا جن میں گاندھی نگر میں200 بستروں والے میٹرنٹی ہسپتال، نگروٹہ میں آئی آئی ٹی اینڈ آئی آئی ای، سچیت گڑھ سڑک، ریونیو کمپلیکس اور منی سیکرٹریٹ آر ایس پورہ شامل ہیں۔
کشمیرکے حالات کیلئے مرکزی حکومت ذمہ دار:اصلاحی کمیٹی
جموں//گوجربکروال اصلاحی کمیٹی نے کہاہے کہ کشمیرکی گذشتہ ستربرسوں سے اب تک کی ابترصورتحال کیلئے مرکزی حکومتیں ذمہ دارہیں۔یہاں جاری پریس بیان میں گوجربکروال اصلاحی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری چوہدری اخترحسین نے کہاکہ مرکزی حکومتوں نے ہمیشہ ہی کشمیریوں کی قربانیوں کونظراندازکیاہے۔انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کی وجہ سے ہندوستان کاسربلندہے ،اگرپاکستان کشمیرمیں قبائلی نہیں بھیجتاتو کشمیرمہاراجہ ہری سنگھ کی بہترین ریاست ہوتی لیکن کانگریس نے ہمیشہ ہی کشمیریوں کااستحصال ودھوکہ دیاہے ورنہ یہ ریاست امن کاگہوارہ ہوتی۔چوہدری اخترنے کہاکہ وہی غلطیاں موجودہ مرکزی بھاجپاحکومت آرایس ایس کے کہنے پردوہرارہی ہے ۔پی ڈی پی نے ڈھال بن کر آرایس ایس ایجنڈااپنایاتھا۔ انہوں نے کہاکہ 13 اگست 1953 میںنیشنل کانفرنس کواچانک برطرف کرکے شیخ محمدعبداللہ کوگلمرگ سے گرفتارکیااورادہم پورجیل میں 22 سال بندکیاتھا۔سرینگرمیں حالات خراب وجمہوریت کی پامالی کی گئی ۔1984 میں دوبارہ فاروق عبداللہ کی حکومت برطرف کرکے گل شاہ کواقتداردیاگیا۔ چوہدری اخترنے کہاکہ وہی غلط موجودہ مرکزی حکومت نے کیاہے۔پی ڈی پی حکومت سے حمایت واپس لی اوراب دوبارہ پی ڈی پی کے ایم ایل ایزکوتوڑنے کے بعدجموں کاہندوچیف منسٹربنانے جارہی ہے تاکہ کشمیری ایم ایل ایزکی مددسے دفعہ 370کوکمزورکیاجاسکے اورسابقہ وزیراعلیٰ نے ایساکرنے سے سیدصلاح الدین ویاسین ملک تیارہونے کی دھمکی مرکزی حکومت دے دی ہے جو کشمیریوں کے ساتھ ناانصافی ،دھوکہ اورجمہوریت پرچوٹ ہے اورکشمیریوں کاالیکشن سے بھروسہ اٹھ چکاہے ۔اخترچوہدری نے کہاکہ مرکزی حکومت کوکشمیریوں کے جذبات کااحترام کرناچاہیئے تاکہ پرسکون ماحول قائم کیاجاسکے ،کشمیرپرتجربات سے گریزکیاجاناچاہیئے۔
سوامی راج آنندکی وفات پراظہارتعزیت
جموں//بٹوالس انڈیاکاایک تعزیتی اجلاس منعقدہواجس میں سوامی راج آنندکی سڑک حادثے میں ہوئے اچانک موت پرگہرے صدمے کااظہارکیا۔ اس دوران بٹوالس انڈیاکے عہدیداران کیپٹن کمل چندموٹن ،صوبیدارمیجرریٹائرڈگونی رام کیتھ ،نائب صوبیدار(ریٹائرڈ) مست رام کیتھ، حوالدار(ریٹائرڈ)ڈلی رام کیتھ،ماسٹررگھبیرلال لکھوترہ، نائب سرپنچ رام لال لکھوترہ ،کمل سنگھ کیتھ، پریتم چند کیتھ اوربلجیت کیتھ نے سوامی راج آنندکی وفات پرگہرے افسوس کااظہارکیااورلواحقین کے ساتھ گہری ہمدردی ظاہرکی۔سوامی راج آنندگذشتہ روز بٹوت۔ڈوڈہ ہائی وے پرایک سڑک حادثے میں لقمہ اجل بن گئے تھے۔
لیہہ لداخ کی بلندپہاڑیوں پر آکسیجن کی کمی دورکرنے کاہدف
جہانگیرنیازنے آکسیجن پلانٹ لگاکرسیاحوں کی مشکلات دورکیں
لداخ// سیاحوں کے لئے پہاڑی علاقہ لداخ بلند پہاڑوں اور قدرتی وسائل سے مالا مال اپنی خوبصورتی سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ ان بلند پہاڑوں کے آنچل میں ایک نوجوان نے یہاں کے لوگوں اور سیاحوں کے لئے آکسیجن پلانٹ لگا کر نئی زندگی دینے کافریضہ انجام دیا ہے ۔ اس نوجوان کا نام "جہانگیر نیاز" ہے اور اب اسے یہاں لداخی لوگ اور سیاح لداخ آکسیجن مین کے نام سے پکارتے ہیں اور اسطرح اس نوجوان کو لداخ آکسیجن مین کا لقب حاصل ہوا۔جہانگیر نیاز کیلئے لیہہ لداخ میں اس پلانٹ کو لگانا آسان نہیں تھا انہوں نے اس آکسیجن پلانٹ کی بنیاد 2010 میں تو رکھی مگر نیاز کیلئے ابھی بھی یہ کام آسان نہیں تھا کیونکہ ان پہاڑوں کے درمیان میں بہت ساری مشینوں کو لانا اور پلانٹ کو تعمیر کرنا بے حد مشکل تھا مگر اس نوجوان نے ہمت نہیں ہاری اپنے حوصلہ کو بلند رکھا، علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے کہ " خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے ، خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے " اور کچھ عرصہ کے بعد ہی نیاز نے پلانٹ میں آکسیجن سلنڈر اور میڈیکل آکسیجن سلینڈر کی شروعات کر دی تھی لیہہ لداخ کی ان اونچی اونچی پہاڑیوں پر یہ بھاری سلینڈر لے جانا جان جوکھم کاکام تھا لیکن اس نوجوان کی جو خواب تھے کہ وہ یہاں آئے سیاحوں کی مدد کرنا چاہتا تھا ۔ان اونچی پہاڑوں پر سیاح آکسیجن کی کمی محسوس کرتے ہیں اور جس کے سبب اکثر بیماری کے شکار ہو جاتے ہیں اس نوجوان کا خواب تھا کہ لداخ میں سیاحوں کو آکسیجن کی کمی نہیں ہونے دیں گے تاکہ ریاست جموں و کشمیر کی کم آبادی والے خطہ لداخ میں دوگناسیاحوں کا آمد ہو سکے لیکن ان بھاری سلنڈروں کو اونچے پہاڑوں پر لے جانا سیاح کیلئے مشکل ہی نہیں نا ممکن تھا ۔ان اونچے پہاڑوں پر پھنسے سیاحوں اور لوگوں کے لیے اب اس نوجوان نے کم وزن والے آکسیجن سلنڈر مہیا کرنے کا فیصلہ کیا جو کہ بڑی آسانی سے ان سلنڈر کو لیا جا سکتا تھا ابھی بھی بھاری تعداد میں کم وزن والے سلینڈروں کا پلانٹ لگانا آسان نہ تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اور ہمت سے آخر کر پلانٹ کو تعمیر کر لیا جہاں یہاں کے لوگ اور سیلانی اس آکسیجن پلانٹ کا بھر پور فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔اس کم وزن کے آکسیجن سلنڈر نے سیاحوں کی لطف اندوزی کی راہ کو اور آسان بنا لیا ہے ۔اس نوجوان ویکی نیاز یعنی جہانگیر نیاز کو لداخ آکسیجن مین کے نام سے پورے ملک میں جانے جاتا ہے اس نوجوان نے اب تک کئی مرتبہ یہاں کے غریب عوام کو آکسیجن کی کمی کے باعث میں انہیں موفت میں آکسیجن دے کر نئی زندگی دی ہے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں کے لوگوں کو اور سیاح کو اس آکسیجن پلانٹ کے لگنے سے بے حد فائدہ ہوا ہے جس کی لداخ میں سخت ضرورت تھی اسوقت ہٹلس، ریسٹورنٹ، گاڑیوں میں اسی پلانٹ کا آکسیجن استعمال ہوتا ہے جو کہ کم دام میں ملتا ہے یہاں لداخ کے لوگوں کا ماننا ہے کہ اس پلانٹ کے لگنے سے سیاحوں کی آمد میں بھی دوگنہ اضافہ ہوا ہے جسکی وجہ سے روزگار میں بھی لوگوں کو اضافہ ہوا ہے اسی طرح دنیا بھر میں جہانگیر نیاز نے لداخ آکسیجن مین کی نام کی اپنی پہچان بنائی اور 2018 انڈیا بزنس ایوارڈ سے بھی اس نوجوان جہانگیر نیاز کو نوازا گیاہے جہانگیر نیاز کا جنم 07 اکتوبر 1981 لداخ میں ہوا اور انہوں نے 2006 میں بی ٹیک این انفارمیشن کی ڈگری حاصل کی ہے ان کا پریوار عام غریب پروار کی طرح ہی تھا انہوں نے اپنے مامو ں محمد اقبال کے ساتھ 2006 سے ہی کام کرنے لگا گئے تھے مگر اس نوجوان کے کچھ خواب تھے ہنر کے ساتھ من میں کچھ خواب دامن مں سمیٹے یہ نوجوان لداخ خطے کیلئے کچھ الگ کرنا چاہتا تھا نیاز نے بتایا کہ ہر سال کم از کم 15 زائد افراد آکسیجن کی کمی کے کارن لقمہ اجل بن جائے کرتے تھے انہوں نے بتایا کہ 8 جون 2016 کی وہ صبح ساڑھے یارہ بجے ابھی بھی یاد ہے جب عبدالحق نامی ڈرائیور سمیت 4 سیاح برف کے نتیجے دب گئے تھے قریب شام سات بجے ان کو صحیح سلامت اس برف کی نیچے سے باہر نکالا گیا تھا عبدالحق ڈرائیور کی گاڑی میں آکسیجن سلینڈر تھا جس نے ان کی زندگی کو ایک نئی زندگی دی ہے اور وہ اس آکسیجن کو گاڑی میں تھوڑا تھوڑا کر کے چھوڑتا رہا قریب آٹھ گھنٹوں کے زائد وقت کے بعد ان چار سیاح اور ڈرائیور عبدالحق کو برف کے نیچے سے بازیاب کر لیا گیا تھا نیاز نے بتایا کہ 2010 کے بعد کافی حد تک آکسیجن کی کمی کے کارن موت کا ہونا کم ہوا ہے ۔
رُکن کشمیرعظمیٰ کوصدمہ
جموں//ادارہ کشمیرعظمیٰ کے رُکن محمدالیاس ملک کی دادی گذشتہ روز دُنیائے فانی سے کوچ فرماگئیں ۔مرحومہ ایک نیک سیرت خاتو ن تھیں ۔ادارہ اس دُکھ کی گھڑی میں محمدالیاس ملک ودیگرلواحقین کے غم میں برابرکاشریک ہے اوراللہ تعالیٰ سے مرحومہ کی مغفرت کیلئے دعاگوہے۔(ادارہ)