جموں//دیگر ریاستوں سے تحریک لیتے ہوئے ریاست جموں وکشمیر میں پنچایتی اِنتخابات میں نوجوان اور اعلیٰ تعلیم یافتہ امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔سندھو بالا شرما کشتواڑ ضلع کے ٹھکری علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک امید وار اس کی ایک مثال ہے۔شراون شرما کی اہلیہ نے سنسکرت میں ایم فل کی ڈگری حاصل کی ہے اور وہ اپنے گائوں میں سرپنچ نشست کا انتخاب لڑ رہی ہے۔سندھو بالا نے کہا کہ اُنہوں نے ملک کی سب سے کم عمر سرپنچ چھوی رجاوت سے تحریک حاصل کی ہے جو راجستھان کے ایک ریگستانی گائوں کی سرپنچ ہے۔قابل ذکر ہے کہ چھوی رجاوت نے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی ہے۔سندھو بالا نے کہا ’’ چھوی رجاوت کی اپنے آبائی گائوں کی ترقی کے لئے لگن کو دیکھتے ہوئے میں نے پنچایت انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا تاکہ میں اپنے گائوں کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں اپنا رول اد ا کرسکوں ۔انتخابات میں حصہ لینے والی ادھمپور کے دور دراز گائوں سے تعلق رکھنے والی اعلیٰ تعلیم یافتہ آر تی شرما بھی شامل ہے ۔آر تی شرما گور ڈی خاص کے وارڈ نمبر 6 میں سرپنچ کا انتخاب لڑ رہی ہے جو ضلع اودھمپور کے رام نگر تحصیل میں واقع ہے ۔آرتی شرما نے کہا’’ اگر لوگوں نے مجھے ووٹ دیا تو میں ان کے بنیادی مسائل حل کروں گی۔میں خواتین کی بااختیاری کے لئے کام کرنے کی خواہاں ہوں ‘‘۔ڈاکٹر پرتھوی راج جنہوں نے باٹونی میں پی ایچ ڈی کی ڈگر ی حاصل کی ہے ، کشتواڑ ضلع کے دور دراز علاقے لوہا راناسے سرپنچ کا انتخاب لڑ رہے ہیں۔اسی طرح ضلع کشتواڑ کے دچھن علاقے کے لوہارانا بھی حلقے سے انگریزی اور پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرس ڈگری رکھنے والے منصور حسین سرپنچ کی نشست کے لئے انتخاب لڑرہے ہیں۔یہ سبھی اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اپنے اپنے علاقوں کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کام کرنے کے خواہشمند ہیں ۔