جموں//فوج کی شمالی کمان کے جنرل افسر کمانڈنگ ان چیف لیفٹنٹ جنرل رنبیر سنگھ نے کہاہے کہ رواں برس 225سے زائد جنگجو مارے گئے اور مقامی اطلاعات ملی ٹینسی مخالف آپریشنوں کی کامیابی کی وجہ بنی ۔اعلیٰ فوجی افسر نے دعویٰ کیاکہ حکومت اور سیکورٹی فورسز کی طرف سے اپنائی گئی حکمت عملی کے باعث ملی ٹینسی میں کمی واقعہ ہوئی ہے اور مقامی نوجوانوں میں انتہا پسندی کا رجحان بھی کم ہواہے۔کپرتھالہ میں واقع سینک سکول میں ایک تقریب کے حاشئے کے دوران ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے رنبیر سنگھ نے کہا’’ہمارے آپریشن پیشہ وارانہ طرز پر انجام دیئے گئے ہیں، ہم بڑی تعداد میں ملی ٹینٹوں کو مار گرانے میں کامیاب ہوئے ہیں،رواںبرس آج تک 225سے زائد ملی ٹینٹوں کو ماراجاچکاہے ‘‘۔انہوںنے کہاکہ اس میں اہم بات یہ ہے کہ جنگجوئوں کی نقل و حرکت کی اطلاع مقامی لوگوں کی طرف سے فورسز کے پاس آتی ہے جس سے کافی مثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں ۔ ان کاکہناتھا’’ہم اس اطلاع سے فائدہ اٹھاکر ملی ٹینٹوں کو موثر طریقہ سے مار گرانے کے قابل ہوتے ہیں‘‘۔انہوںنے مزید کہاکہ پاکستان مزید جنگجوئوں کو جموں وکشمیر میں دھکیلنے کی کوشش میں ہے لیکن ہمارا حل واضح ہے کہ ان جنگجوئوں کو اپنی مرضی کے مطابق کارروائیاں انجام دینے کی کوئی جگہ فراہم نہیں کی جائے گی اور اگر انہوں نے کارروائی کی تو انہیں ماراگرایاجائے گا۔انہوںنے کہاکہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ جموں و کشمیر میں امن و استحکام بحال ہو ۔انہوں نے کہاکہ سرجیکل سٹرائیک سے یہ ممکن ہواکہ بھارت بڑی حد تک ملی ٹینسی پر قابو پاسکا۔انہوں نے کہاکہ سرجیکل سٹرائیک فوج کے پاس ایک متبادل دستیاب ہے ،اس کے ملک پر مثبت اثرات ہیں ،ہم ملی ٹینسی پر بڑی حد تک قابو پانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔جنرل رنبیر سنگھ نے کہاکہ پڑوسی ملک کشمیر میں ملی ٹینسی پھیلانے کیلئے کوشاں ہے لیکن فوج کی طرف سے تمام تر اقدامات کئے جارہے ہیں ۔کرتارپور راہداری کھولے جانے کی سراہنا کرتے ہوئے فوجی افسر نے کہاکہ یہ ایک حوصلہ مند اقدام ہے جس سے لوگوں کاآپس میں رابطہ ہوسکے گا لیکن جہاں تک حد متارکہ کا سوال ہے تو جب تک درانداز سرحد عبور کرنے کی کوشش کریں گے انہیں مار گرایاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ فوج کی طرف سے حد متارکہ پر پاکستانی سنائپروں کا بھرپور جواب دیاجارہاہے ۔