جموں// گزشتہ روز کے ایل سہگل ہال کلچرل اکیدمی جموں میںپیر پنچال ادبی فورم کے اشتراک سے فانی ؔایاز احمد گولوی کی کتاب’’گول گلاب گڑھ و دیگر قابل ِ دید مقامات‘‘کی رسم رونمائی سابقہ ڈی سی و کسٹوڈین جنرل غلام قادر مغل کی صدرات میں ہوئی ۔تقریب میں سیکریٹری کلچرل اکیڈمی جموں و کشمیر عبدالعزیز حاجنی بطور مہمان خصوصی موجود تھے ۔بشیر بدرواہی،سہیل کاظمی،اسیر کشتواڑی،اور فانیؔ ایاز احمد گولوی بھی ایوان صدارت میں شریک تھے۔ خطبہء استقبالہ میں اسیر کشتواڑی نے پیش کیااورظاہر بانہالی نے کتاب سے متعلق ایک فکر انگیز مقالہ پڑھا جبکہ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر شاہنواز نے انجام دی اور شکریہ کی تحریک فانیؔایاز احمد گولوی نے پیش کی۔اس موقعہ پر حسرت گڈھا، عبدالمجید بیچوچیئرمین جموں وکشمیر سٹیٹ کونسل،ہاجرہ پرواز،فاروق انور،جاوید راہی ،محمد شفیع جرال،نسیم گلابگڑی زیڈای او گول چودھری عبدالخالق،رنکو کول، عبدالرشید گیدرمت،گلدیپ راج دوبے وغیرہ موجود تھے ۔ گول سے تعلق رکھنے والے فانیؔ ایاز گولوی کے مطابق اہلیان ِ گول گلاب گڑھ کی اردو دوستی منظر عام پر نہ آنے کی کئی وجوہات ہیں لیکن یہ امر انتہائی مایوس کن ہے کہ گول گلاب گڑھ کے عاشقان ِ اردو کو نہ ہی سرکاری طورپر کبھی حوصلہ افزائی کی گئی اور نہ ہی سماجی سطح پر اْردوکو فروغ دینے والوں کو کبھی حوصلہ دیا گیا۔اس موقعہ پر مقررین نے کہاکہ گولوی کی کتابی شکل اْردو زبان کے تئیں اپنی محبت کا ثبوت پیش کرنا علاقہ گول گلاب گڑھ کیلئے ایک فخریہ اقدام ہے۔انہوں نے کہاکہ فانی ؔایازاحمد گولوی ایک نوجوان شاعر، ادیب،محقق اور نثر نگار ہیں اسی لئے سماج اور خاص کر اپنے علاقے کے نوجوان طبقے کا اْردو زبان کی جانب راغب کرنا اْن کی ذمہ داری بنتی ہے۔انہوں نے کہاکہ فانی نے علاقہ گول گلاب گڑھ کی بہت ہی خوبصورت انداز میں منظرکشی کی ہے جس کی وجہ سے گول گلاب گڑھ کی کتاب پڑھ کر لوگ سیرو سیاحت کے لئے بے تاب رہیں گے۔ان کاکہناتھاکہ اس کے علاوہ را ج گڑھ ،نیل ،مہو بانہال ،چنہنی ناشری ٹنل کی بھی بہت خوبصورت منظرکشی کی ہے جس کو پڑھ کر قارئین حضرات اہم معلومات سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ان کاکہناتھاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ فانی ؔایاز احمد گولوی نے اْردو زبان کیساتھ والہانہ محبت کیلئے دور دراز علاقو ں کی خاک چھانی ہے جس کا ثبوت اْن کی کتاب میں شامل مختلف ابواب کا مطالعہ کر کے بخوبی حاصل ہو جاتا ہے۔ تقریب میں شریک تمام لوگوں نے فانی ؔکی اِس کوشش کی سراہنا کی۔