جموں //ایجوکیشن محکمہ میں اپنے خدمات انجام دینے والے پلس ٹو کنٹر یکچول لیکچراروںنے اپنی مانگوں کو لے کر احتجاج جاری رکھتے ہوئے انتظامیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ ان کی مانگوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہاہے ۔پریس کلب جموں میں آل جموں وکشمیر کنٹریکچول لیکچرار فورم کے بینر تلے کی جارہی بھوک ہڑتال کے دوران ایسوسی ایشن کے صدر ارون بخشی نے کہاکہ ملازمین اپنے مطالبات کے سلسلہ میں746دنوں سے احتجاج کر رہے ہیں تاہم ریاستی انتظامیہ کی جانب سے ملازمین کے مسائل کو حل کرنے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی جارہی ہے ۔موصوف نے کہاکہ محکمہ تعلیم میں عارضی بنیادوں پر اپنی خدمات انجام دینے والے ملازمین ایک لمبے عرصہ سے احتجاج کررہے ہیں لیکن ان ملازمین کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ملازمین کے وفود نے ریاستی گورنر کے مشیر خورشید گنائی کیساتھ ملاقات کر کے ملازمین کی مانگوں کے بارے میں جانکاری بھی فراہم کی تھی اور انہوں نے عارضی لیکچراروں کی مانگوں کو ترجیح بنیادوں پر حل کر نے کی یقین دہانی بھی کروائی لیکن اس کے بعد عملی طورپر کو ئی قدم نہیں اٹھا یا گیا ۔موصوف نے کہا کہ اپنی مانگوں کے سلسلہ میںفورم کے وفود نے ریاستی گورنر سے بھی ملاقاتیں کی جنہوں نے ملازمین کے مطالبات کو حل کرنے کا یقین دلایا تھا لیکن اسی دوران سیکریٹری سکول ایجوکیشن کی جانب سے ایک حکم نامہ زیر نمبر 78Edu,2019 کے تحت ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن کو ہدایات جاری کی گئیںکہ محکمہ میں نئی تعیناتیوں کے سلسلہ میں اقدامات اٹھا ئے جائیں،جوان کے کیساتھ نا انصافی ہے ۔احتجاج کررہے پلس ٹو کنٹر یکچول لیکچراروں نے ریاستی گورنر انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ ان کی مطالبات کو حل کیا جائے تاکہ ملازمین کو درپیش مسائل حل ہو سکیں ۔