جموں//سنگھم فائونڈیشن لکھنؤ (رجسٹرڈ) نے پروفیسرشہاب عنایت ملک ،صدرشعبہ اُردو اورڈین فیکلٹی آف آرٹس ،جموں یونیورسٹی کواس سال کے معروف ’’اودھ رتنا ایوارڈ‘‘کیلئے نامزدکیاہے۔ فائونڈیشن کی طرف سے یہ وقاری ’’اودھ رتناایوارڈہرسال مختلف زمروں بشمول اُردوادب عطاکیاجاتاہے۔پروفیسرشہاب عنایت ملک کواُردوزبان وادب کیلئے نمایاں خدما ت کے سلسلے میں یہ ایوارڈعطاکیاجارہاہے جواُترپردیش اکیڈمی لکھنؤ میں3مارچ کوسنگھم فائونڈیشن کے زیراہتمام منعقدہونے والی پروقارتقریب میں دیاجائے گا۔پروفیسرشہاب عنایت ملک اُردوکے معروف ادیب اورتنقیدنگارکے ساتھ ساتھ اُردوکالم نگارکی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ موصوف کے ریاست اوربیرون ریاست کے مختلف اُردواخبارات میں سماجی ،سیاسی اورادبی مسائل سے متعلق مضامین آئے روزشائع ہوتے رہتے ہیں۔اب تک پروفیسرشہاب عنایت ملک 3ہزارسے زائد کالم تحریرکرکے قارئین سے دادوتحسین حاصل کرچکے ہیں۔پروفیسرملک کے مضامین کونہ صرف ہندوستان بلکہ بیرونی ممالک مثلاً ماریشس ،لندن ،پاکستان اورمصرکے ادبی حلقوں میں بھی عزت کی نگاہ سے دیکھااورسراہاجاتاہے۔20اُردوکتابوں کے مصنف پروفیسرشہاب عنایت ملک جموں یونیورسٹی میں مختلف عہدوں مثلاًاسسٹنٹ ڈین،ایسوسی ایٹ ڈین سٹوڈنٹس ویلفیئراورڈائریکٹرکشتواڑکیمپس کے طورپرخدمات انجام دے چکے ہیں اورفی الوقت تیسری مرتبہ صدرشعبہ اُردوجموں یونیورسٹی کے طورپرفرائض منصبی انجام دے رہے ہیں۔ پروفیسرموصوف کواُردوزبان وادب کیلئے نمایاں خدمات کیلئے جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ ،لکھنویونیورسٹی لکھنؤ کے علاوہ ملک کی مختلف اُردوتنظیموں کی طرف سے اعزازات سے نوازاجاچکاہے ۔پروفیسرملک فی الوقت مختلف یونیورسٹیوں مثلاً کشمیریونیورسٹی،پنجاب یونیورسٹی چندی گڑھ اورپنجابی یونیورسٹی پٹیالہ کے بورڈآف سٹڈیزکے رُکن کے علاوہ آل انڈیا اُردویونیورسٹی ٹیچرس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری بھی ہیں۔موصوف عالمی کانفرنسوں کے سلسلے میں مختلف ممالک کادورہ کرکے وہاں عالمی سیمیناروں میں شرکت اوران میں تحقیقی مقالات بھی پیش کرچکے ہیں۔مختلف ادبی اورثقافتی تنظیموں مثلاً جموں کشمیراُردوفورم، رساجاودانی میموریل لٹریری سوسائٹی، ادبی کنج جموں، انجمن فروغ اُردوزبان اورفنکارکلچرل آرگنائزیشن سرینگرنے پروفیسرشہاب عنایت ملک کووقاری ’’اودھ رتناایوارڈ‘‘کیلئے نامزدگی پرمبارکبادپیش کرتے ہوئے نیک تمنائوں کااظہارکیاہے۔