جموں//سابقہ گورنمنٹ ٹرانسپورٹ انڈر ٹیکنگ /جے کے ایس آر ٹی سی پنشرس ایسوسی ایشن نے جے اینڈ کے ایس ٓر ٹی سی پنشرنس کے مطالبات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے مطالبات حل کرنے کیلئے عرصہ دراز سے جد و جہد کر رہے ہیں۔ایک پریس بیان کے مطابق اس سلسلہ میں جمعہ کے روز یہاں ایک اجلاس منعقد ہوا ،جس میںسرکار سے اپنے مطالبات حل کرنے کی مانگ کی۔اجلاس میں کہا گیا کہ سرکار نے 1979 میں جے اینڈ کے سٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن قائم کی ،جس میں گورنمنٹ ٹرانسوپرٹ انڈر ٹیکنگ کو ضم کیا گیا ۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ جے اینڈ کے ایس ٓر ٹی سی میں جی ٹی یو کو ضم کرنے کے لئے مقرر کردہ شرائط حکم نمبر 25-TR of 1979 میں وضع کئے گئے ہیں۔ان سابقہ ملازمین نے مبینہ الزام لگایا کہ ان کے ٹائم بوائنڈ ترقیوں میں تفاوت کی گئی ،جو کہ ایس آر او 28 of 1996 کے تحت ابھی بھی موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایس آر او 33 of 2018 بتاریخ 02/08/2018 کے تحت کلرکل سٹاف کو تنخواہ بہتر کیا گیا ہے جبکہ سٹیٹ سروسز کے اُسی درجہ کے ملازموں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ جموں وکشمیر سٹیٹ فارسٹ کارپوریشن کے ملازموں کا اسکا فاعدہ دیا گیا ہے جبکہ ایس آر ٹی سی کے ملازموں کو اس سے نظر انداز کیا گیا ہے۔ اجلاس میں سرکار سے انکے جائز مطالبات پر ہمدردانہ غور کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ اجلاس میں محمد سلیم قریشی، سلکھار سنگھ ، ایشور سنگھ ، دلیپ سنگھ ، بی ڈی شرما ، اجیت پرکاش، گردھاری لعل ، و دیگران نے بھی شرکت کی۔