جموں//لیفٹنٹ گورنر گریش چندر مرمو نے یہاں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران اگلے چار برسوں میں دودھ کی پیداوار دوگنا کرنے کے لئے نقشِ راہ پر تبادلہ خیال کیا۔میٹنگ میں لیفٹنٹ گورنر کے مشیر آر آر بھٹناگر ، سیکرٹری پشو پالن و ڈیری مرکزی سرکار اَتل چترویدی ، چیف سیکرٹری جموں وکشمیر بی وی آر سبھرامنیم ، فائنانشل کمشنر خزانہ ارون کمار مہتا ، پرنسپل سیکرٹری پشو و بھیڑ پالن ڈاکٹر اصغر حسن سامون ، جوائنٹ سیکرٹری سی اینڈ ڈی ڈی محکمہ پشو و بھیڑ پالن مرکزی سرکار مِہر کمار ، کمشنر سیکرٹری کواپریٹیو عبدالمجید بٹ ، چیئرمین جے اینڈ کے بینک آر کے چبر اور کئی دیگر محکموں کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔میٹنگ میں جانکار ی دی گئی کہ جموںوکشمیر میں روزانہ 70لاکھ لیٹر دودھ کی پیداوار ہوتی ہے جس میں سے 2.5لاکھ لیٹر دودھ کی پروسسنگ کوپرایٹیوز اور پرائیویٹ کمپنیاں کرتی ہیں ۔ علاوہ ازیں 177.66 ہزار میٹرک ٹن دودھ اور دودھ کی اشیا ء 962.92کروڑ روپے مالیت کے سالانہ درآمد کئے جاتے ہیں۔محکمہ نے 29فیصد مصنوعی تخم ریزی کا ہدف حاصل کیا ہے اوراگلے دو برسوں کے دوران 70فیصد نشانہ حاصل کیا جائے گا تاکہ ڈیری فارمنگ کو ایک تجارتی نہج دے کر اس میں روزگار کے زیادہ سے زیادہ وسائل پیدا کئے جاسکیں۔پشو پالن کے مرکزی سیکرٹری اتل چترویدی نے کہا کہ کسانوں کو مصنوعی تخم ریزی پروگرام کے تحت ان کی دہلیز پر 100فیصد مرکزی معاونت فراہم کی جار ہی ہے اور سال میں دو بار 53کروڑ پشوئوں کی ٹیکہ کاری کرنے کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ دودھ کی پیداوار دوگنا کرنے اور مویشی پالنے والوں کی آمدن میں اضافہ کرنے کے لئے مرکزی سرکار سہ رُخی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے اور بیماریوں سے مبرا بہتر نسل کے جانور دستیاب کرائے جارہے ہیں۔لیفٹنٹ گورنر نے متعلقہ اَفسروں کو ہدایت دی کہ وہ ٹیکہ کاری کے دائرے میں لائے گئے تمام مویشیوں کا جامع ڈیٹا بیس تیار کریں اور مصنوعی تخم ریزی کی شرح میں مزید اضافہ کریں تاکہ اعلیٰ نسل کے مویشی تیار کئے جاسکیں۔اُنہوں نے کہا کہ ڈیڑی ڈیولپمنٹ سیکٹر میں کافی وسائل موجود ہیں اور کسانوں کی سماجی و اقتصادی حالت بہتر بنانے میں یہ سیکٹر اہم رول ادا کرسکتا ہے۔اُنہوں نے مرکزی سکیموں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے اور اہداف کی حصولیابی کے لئے ایک فعال طرزِ عمل اِختیار کرنے کی ضرورت پر بھی زوردیا۔ میٹنگ کے دوران جموں وکشمیر یوٹی میں دودھ کی پیداوار اور سپلائی میں تفاوت میں دور کرنے کے لئے نتائج پر مبنی ایک حکمت عملی وضع کرنے کے تعلق سے بھی سیر حاصل تبادلہ خیال کیا گیا۔ بہتر نتائج کی حصولیابی کے لئے کئی دیگر پہلوئوں کو بھی زیر بحث لایا گیا۔دیہی ترقی علاقوں تک پہنچنے کیلئے لیفٹنٹ گورنر نے متعلقین پر زور دیا کہ وہ کلسٹر لائحہ عمل اختیار کریں ، نچلی سطح پر دودھ جمع کرنے کے مرکز قائم کریں۔انہوں نے اَفسروں کو ہدایت دی کہ وہ سیلف ہیلپ گروپوں اور ڈیری کواپریٹیو ز کی حوصلہ افزائی کریں اور عام لوگوں میں بیدار ی پیدا کریں اور اُنہیں سمجھائیں کہ پشو و پالن سیکٹر میں اُن کے لئے اِقتصادی ترقی کے کافی وسائل موجود ہیں۔