جموں //خصوصی تشخص کی تنسیخ کے بعد حکومت ہند کی طرف سے جموں وکشمیر میں قبائلی طبقوں کیلئے جنگلات کے حقوق کاقانون نافذ کئے جانے کا امکان ہے ۔اس مقصد کیلئے وزارت قبائلی امور کے مشیروں کا ایک گروپ عنقریب جموں وکشمیر کا دورہ کرکے اس قانون کی عمل آوری کیلئے حکمت عملی تیار کرے گا۔ڈائریکٹر قبائلی امور جموں وکشمیر سلیم خا ن نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کشمیرعظمیٰ کو بتایاکہ جنگلاتی حقوق قانون کو جموں وکشمیر میں نافذ کیاجارہاہے اوراس کی عمل آوری کے سلسلے میں ان کی 16مارچ کو نئی دہلی میں وزارت قبائلی امور کے افسران کے ساتھ میٹنگ بھی ہوئی ہے ۔انہوںنے بتایاکہ حکومت ہند اپنے مشاور جموں وکشمیر بھیجے گی یاپھر تربیت کیلئے ہمیں دہلی بلایاجائے گا۔ انہوںنے بتایاکہ وزارت کی طرف سے یہ بتایاگیاہے کہ ایس ڈی ایمز ،ڈی ایف اوز ، اے سی آر جیسے افسران اور قبائلی طبقوں کے لوگوں کو تربیت فراہم کی جائے گی ۔انہوںنے بتایاکہ یہ تربیت اس لئے دی جائے گی تاکہ اس قانون کی عمل آوری کا طریقہ کار پتہ چل سکے ۔قبائلی سکالر ڈاکٹر جاوید راہی کا اس ضمن میں کہناہے کہ اس قانون کے نافذ ہونے سے قبائلی طبقہ بااختیار بنے گا۔انہوںنے بتایاکہ اس قانون کے تحت ایک خاندان 32کنال اراضی حاصل کرسکتاہے جسے وہ اپنے ذریعہ معاش کے لئے استعمال کرے گا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ جنگلات کے حقوق کا قانون پورے ملک میں 2006میں نافذ کیاگیاتھا تاہم جموں وکشمیر میں اسے نافذ نہیں کیاجاسکا۔