جموں //کورونا وائرس سے احتیاطی طور پر نمٹنے کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے 21دنوں تک مکمل لاک ڈائو ن کے 5ویں دن صوبہ جموں کے مختلف اضلاع میں انتظامیہ کی جانب سے عائد پابندیوںکو یقینی بنانے کیلئے سختی برتی جارہی ہے جبکہ ہدایت ناموں کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف پولیس کارروائی بھی کر رہی ہے تاہم پابندیوں کیساتھ ساتھ دیہات اور قصبوں میں عوامی مسائل بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں ۔پورے صوبہ کی سڑکیں سنسان ہیں جبکہ کچھ مقامات پر لوگ پیدل سفر بھی کرتے ہیں ۔متعدد دیہات میں جہاں غذائی اجناس کی قلت کی شکایت موصول ہونا شروع ہو چکی ہیں وہیں دستیاب ضروری اشیاء کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ ہورہا ہے اور زیادہ قیمتیں وصول کی جارہی ہیں ۔جموں شہر کیساتھ ساتھ خطہ چناب ،پیر پنچال اور دیگر اضلاع میں جہاں معیاری سبزیوں اور میوہ جات کی شدید قلت ہے، وہاں ان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے گھروں میں محصور لوگوں کی دقتوں میں مزید اضافہ ہو چکا ہے ۔صوبہ کے درجنوں دیہات میں لوگوں کو غذائی اجناس کی قلت کا بھی سامنا کرنا پڑرہا ہے لیکن انتظامیہ کی جانب سے ہوم ڈیلوری کا ابھی تک کوئی معقول بندوبست نہیں کیا جاسکا ہے ۔انتظامیہ کی جانب سے صوبہ کے قصبوں میں کسی بھی شخص کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جار ہی ہے جس کی وجہ سے دیہات میں لوگوں کو بنیادی سہولیات کی قلت کا بھی سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔مکینوں نے بتایا کہ دیہات میں قائم دکانوں پر غذائی اجناس مناسب مقدار میں دستیاب نہیں ہوتی جس کی وجہ سے ان کو قصبوں کا رخ کرنا پڑتا ہے لیکن اب قصبوں میں مکمل پابندی کی وجہ سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہو چکا ہے ۔خطہ پیر پنچال میں حالانکہ انتظامیہ کی جانب سے میڈیکل سٹور کھولنے کی اجازت دی گئی تھی تاہم کچھ معاملات مثبت آنے کے بعد اب سٹور مالکان نے احتیاطی طور پر ادویات کی دکانیں بھی بند رکھنا شرو ع کر دی ہیں حالا نکہ انتظامیہ کی جانب سے مکینوں کو ادویات خریدنے کیلئے گھروں سے باہر آنے کی اجازت دی جاتی ہے تاہم ٹریفک نہ ہونے کی وجہ سے کئی مریضوں کو ادویات جیسی بنیادی سہولیات بھی دستیا ب نہیں ہیں ۔جموں شہر میں انتظامیہ کی طرف سے لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جبکہ غذائی اجناس کو پورا کرنے کیلئے کچھ جگہوں پر چھوٹ بھی دی جارہی ہے البتہ مریضوں کو ادویات جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے میڈیکل سٹور کھلے رہتے ہیں ۔اس کے علا وہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں پر پولیس نے شکنجہ کستے ہوئے اٹھک بیٹھک کیساتھ ساتھ لوگوں کو گھروں میں ہی رہنے کی ہدایت جاری کی جارہی ہیں ۔اس کے علا وہ سانبہ ،کٹھوعہ اور ادہم پور اضلاع میں انتظامیہ کی جانب سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں جبکہ انتظامیہ کی جانب سے عوامی نقل حرکت پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے ۔دیگر ریاستوں سے جموں وکشمیر آنے والے لوگوں کی جانچ کیلئے کٹھوعہ میں انتظامیہ متحرک ہے جبکہ مشتبہ افراد کیلئے قرنطینہ مراکز بھی قائم کئے جارہے ہیں ۔خطہ پیر پنچال کے دونوں اضلاع میں جہاں پابندیاں عا ئد ہیں وہائیں حالیہ دنوں میں ضلع راجوری کی تحصیل منجا کوٹ میں 3کیس مثبت آنے کی وجہ سے لوگوں میں خوف و ہراس پیدا ہو چکا ہے ۔ضلع انتظامیہ راجوری نے جاری ایک تازہ حکم نامے میں کچھ دیہا ت کو ریڈ زون کے زمرے میں بھی رکھا ہے ۔دونوں اضلاع کی انتظامیہ کی طرف سے جاری حکم ناموں میں رواں ماہ کی 29تاریخ تک صرف میڈیکل سٹور کھلے رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی تھی جبکہ دیگر تمام طرح کے تجارتی مراکز بند رکھنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے ۔ضلع انتظامیہ راجوری کی جانب سے جاری شدہ ایک حکم نامے کے تحت کریانہ دکانیں ،سبزیاں و میوہ جات ،پٹرول پمپ ،بینک ،اے ٹی ایم بند رکھے جائیں گے جبکہ ٹریجری کیساتھ منسلک ہی بینکوں کے کام کاج کو بحال رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی ہیں جبکہ پولیس ،ہوم گارڈ ،سیول ڈیفنس ،فائر اینڈ ایمرجنسی ،ڈئزاسٹر مینجمنٹ ،ضلع انتظامیہ ،ٹریجری ،بجلی سپلائی ،جل شکتی ،صفائی ستھرائی سے منسلک ملازمین ،مواصلاتی نظام سے منسلک ملازمین کو ہی باہر نکلنے کی اجازت دی گی تھی تاہم مثبت کیس اور کچھ مشتبہ افراد سامنے آنے کے بعد راجوری تا بھمبر گلی سڑک کو نجی و مسافر گاڑیوں کیلئے مکمل طورپر بند کر دیا گیا جبکہ ضلع انتظامیہ پونچھ نے بھی ضلع میں آنے اور باہر جانے والے تمام راستوں کو بند کرنے کا حکم جاری کیا ہے ۔اسی طرح خطہ چناب کے ضلع رام بن ،ڈوڈہ اور کشتواڑ میں انتظامیہ کی جانب سے سختی سے پابندیوں کی عمل آوری کا سلسلہ جاری ہے ۔لاک ڈائون کے سبب کشتواڑ ضلع میں دودھ ،سبزی و کھانے پینے کی دیگر اشیا کی کمی کی وجہ سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ دوکانداروں نے بھی عوام کو لوٹنا شروع کر دیا ہے ۔مکمل بند کی وجہ سے کئی علا قوں میں لوگوں کو غذائی اجناسی کی قلت کا سامنا بھی کرنا پڑرہا ہے ۔ڈوڈہ ضلع میں گزشتہ کئی دنوں سے مکمل بند ہونے کی وجہ سے لوگوں کی نقل و حرکت کیساتھ ساتھ گاڑیوں کی آمد و رفت بھی بند رکھی گئی ہے تاہم اس دوران سڑکوں پر ایمبولینس گاڑیوں و مریضوں کے علا وہ اشیاء ضروری کی گاڑیوں کو لے جانے کی اجازت دی جارہی ہے ۔لوگوں نے انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ قصبوں کیساتھ ساتھ دیہات میںتازہ سبزیاں اور میوہ جات کی قیمتوں کی چیکنگ اور دیگر غذائی اجناس کی قلت کو پورا کرنے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جائے تاکہ لوگوں کی مشکلات کم ہو سکیں ۔