دنیا میں الگ الگ تاریخوںکو الگ الگ چیزوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔ کسی تاریخ کو یومِ اساتذہ اور کسی کو یومِ مادراں،کسی کو ماحولیات کا عالمی دِن وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح گزشتہ ایک صدی سے تسلسل و تواتر کے ساتھ پوری دُنیا میں ہر سال یکم مئی کو یومِ مزدور کے طور منا یا جا تا ہے ۔دُنیا کے مختلف شہروں میں اس مناسبت سے مختلف النوع پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں ۔ سیمیناروں کا انعقاد کیا جا تاہے، لچھے دار تقریریں کی جاتی ہیں،نظمیں پڑی جاتی ہیں۔ اسطرح سے مزدوروں کے مختلف مسائل اُجاگر کئے جاتے ہیں۔ غرض بڑے دھوم دھام سے پوری دنیا میں مزدوروں کا عالمی دِن منا یا جا تا ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ جس روز یہ دِن منایا جا تا ہے اُس روز بہت سارے ممالک میں سرکاری چھٹی ہوتی ہے اور دفتروں میں کام کرنے والے ہزاروں ملازمین اس دن گھروں میں بیٹھ کر خوب مزے لیتے ہیںلیکن مزدور طبقہ اس روز بھی کارخانوں اور کھیت کھلیانوں میں عرق ریزی سے کام کرتے ہیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا گزشتہ ایک سو سال سے یکم مئی کو بطور ِ یوم مزدور منانے سے مزدوروں کے حقوق بحال ہوسکے۔ کیا اِن لوگوں کو ظلم و جبر سے نجات مل سکی۔ کیا ان محنت کشوں کواپنی محنت کے مطابق معاوضہ مل سکا۔ کیا سرکار ان لاکھوں کروڈوں لوگوں کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تا دمِ تحریر مزدوروں کے مسائل جوں کے توں ہیں اور کڑوا سچ یہی ہے کہ عالمی سطح پر ہونے والی ان گنت تقریبات مزدوروں کے حقوق بحال کرنے کے حوالے سے نشتند ،گفتند،برخاستند ثا بت ہوچکی ہیں۔ مزدور تب بھی معاشی پسماندگی کا شکار تھا اور اب بھی مفلو ک الحال ہیں۔ مزدور تب بھی مظلوم تھا اور اب بھی ظُلم و جبر کی چکّی میں پِس رہا ہے۔ مزدوروں کے جذبات کے ساتھ تب بھی کھلواڑ ہوتا تھا اور اب بھی انکی عزتِ نفس کو پائوں تلے روندا جا رہا ہے۔
یہ بات الم نشرح ہے کہ دنیا میں تعمیر شدہ فلک بوس عمارتوں، کشادہ سڑکوں، فیکٹر یوں، کار خانوں، دانشگاہوں اور رہایش گاہوں کو تعمیر کرنے میں مزدور کا رول کافی زیادہ۔ مزدور کی محنت شاقہ سے کھیت کھلیا نوں میں بے شمار سبزیاں تیار ہوتی ہیں۔ مزدور اپنا پسینہ بہاکرسمندروں کی گہرائیوں اور پہاڑوں کی اونچائیوں سے اپنا رزق تلاش کرتا ہے۔رسول رحمت ﷺ نے مزدوروں کی اہمیت کو ملحوظِ نظر رکھتے ہوئے فرمایا کہ مزدورکو پسینہ خشک ہونے سے قبل اُسکی مزدوری دیا کرو۔ مزدور کے ساتھ بہتر طریقے سے پیش آنے کی تعلیم دی گئی ہے۔رمضان المبارک کے اس مقّدس مہینے میں مزدوروں کے ساتھ ہمداردانہ برتائوکرنے کی تعلیم دئی گئی۔ یہ ہمارے سماج کا ایک اہم انگ ہے۔ انکے ساتھ کسی بھی قسم کا ظلم کیا جانا گناہِ کبیرہ میں شمار کیا جاتا ہے۔ مزدورں کی عزت کرنا، بھر وقت معاضہ ادا کرنا اور بھر پور کھلانا پلانا ثواب میں شمار ہوتا ہے۔ اللہ کے حبیب ﷺ نے ارشاد فرمایا محنت کش اللہ کے دوست ہوتے ہیں۔ جناب رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہ تمہارے بھائی ہیں جن کو اللہ نے تمہارے ماتحت بنا دیا ہے انکو وہی کھلائو جو خود کھائو ،وہی پہنائو جو خود پہنو، ان سے ایسا کام نہ لو کہ جس سے وہ بالکل نڈھال ہو جائیں( بخاری شریف)،اگر ان سے زیادہ کام لو تو ان کی اعانت کرو ( ترمذی)۔
جموں و کشمیر میں کام گاروں کے متعلق ایک محکمہ لیبر ڈیپارٹمنٹ کے طور کام کر رہا ہے۔ لیبر ڈیپارٹمنٹ میں تا دم تحریر 3.5 لاکھ مزدور کا اندراج ہوا ہے جن میں تقریباً15 لاکھ مزدور فعال ہیں ۔ لیبر ڈیپارٹمنٹ کی وساطت سے کام گاروں کو فائد پہنچانے کی غرض سے بہت ساری اسکیمیں متعارف کی گئی ہیں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے یا ضلع صدر مقامات پر واقع ضلعی دفتر سے رابط کرکے مزدور ان اسکیموں کا استفادہ اُٹھا سکتے ہیں۔ مزدوروں کی حالت بہتر بنانے کے سلسلے میںسرکار کے دعوے اگر چہ بہت بلند ہیں لیکن عملی میدان میں مزدوروں کی حالت بالکل وہی ہے جو 1884 ء میں امریکہ کے شہر شکاگو میںتھی۔ سرکاری نرخ نامہ کے تحت مزدور کی روزانہ آمدانی اُسکے روزانہ اخراجات سے بہت کم ہے جسکی وجہ سے مزدور طبقہ غریب سے غریب ہوتا جارہا ہے اور معاشی پسماند گی سے اُنکا نکلنا جوئے شیر لانے کے مترادف بن چکا ہے۔ ایم نریگا اسکیم کے تحت کام کرنے والے مزدوروں کے معاوضہ جات چھ چھ مہینوں کے بعد واگزار کئے جاتے ہیں۔
مزدوروں کے حقوق بحال کرنے کے سلسلے میں سرکار کو ایک نئی حکمت عملی وضع کرنی چا ہئے جس سے مزدوروں کی حالت بہتر ہوسکے۔ کورونا کے چلتے وادی میں لاکھوں کام گار گھروں میں بے روزگار ہوچکے ہیں بلکہ بہت سارے مزدور فاقہ کشی پر مجبور ہوچکے ہیں ۔اس ضمن میں سرکار کو فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزدو طبقہ کے لئے ایک خصوصی پیکیج کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ مزدوروں کے بقایا جات فی الفور واگزار کرنے چا ہئیں ۔
رابطہ 9622669755