وادیٔ کشمیر میں بھی تواتر کے ساتھ پھیل رہی کوروناوَباء اور مسلسل لاک ڈائون کے نتیجہ میں ہونے والی تباہ کاریوں کے باعث جہاںزندگی کے تقریباً تمام شعبے ٹھپ پڑے ہیںوہاںکاروبارِ زندگی بھی مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔ دو مہینوں سے جاری اس تباہ کُن صورت حال میںکشمیری بے حال ہوچکے ہیں، خاص طورپر محدود ذرائع آمدن والے طبقے بالکل ہی کنگال ہوچکے ہیں،جن کے لئے اب جسم و جان کا رشتہ بحال رکھنا بھی محال بن گیا ہے۔ لوگوںکو صورت حال کا مقابلہ کرنے اور جسم و جان کا رشتہ بحال رکھنے کے لئےجہاں زبردست دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہیں حکومت اور بعض رفائی تنظیموں کی طرف سے اُنکے لئے راحت کاری کی کوششیں اور کام کسی حد تک اطمینان کا باعث بن رہے ہیں ۔مگر اس کے ساتھ ہی اپنی اس وادی میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوںکا معاملہ بھی انتہائی تکلیف دہ حقیقت بنا ہوا ہے، جس سے مصیبت زدہ عوام کے مسائل میںاضافہ ہورہاہے ۔اگر چہ ہم غیر سرکاری لوگوں کے پاس اس سے چھٹکارا پانے کی کوئی ٹھوس صورت نہیںہے تاہم اس پر گفتگو کئے بنا بھی نہیں رہ سکتے ہیں۔ روز مرہ استعمال کی جانے والی کھانے پینے کے چیزوںکی بات کی جائے تو بنیادی ضرورت کی ہر شئے کی قیمتوں میںاعتدال نام کی کوئی چیز ہی نظرنہیں آرہی ہے بلکہ ہر چیز ،جن میں سبزیاں،گوشت ،مرغ ،دودھ ،پنیر ،دالیں،آٹا،کھانڈ،چاول،میوے ،کھانے کے تیل ،اور دوسرے کھانے پینے کی اشیاء قابل ذکر ہیں، کی قیمتوں میں من مانے اضافے کا عمل جاری ہے۔ایک طرف جہاں حکومتی ادارے عوام کو راحت پہنچانے کے کاموں کے اعدادو شمار الیکٹرانک میڈیا اور دیگر ذرائع کی وساطت سے پیش کرتے رہتے ہیں وہیں دوسری طرف یہاں کی کچھ دینی، سماجی اور فلاحی تنظیمیں بھی رضاکارانہ طور پر لوگوں کو راحت کاری کے سامان بہم پہنچانے میں مصروفِ عمل ہیںلیکن اس کے باوجود وادی کشمیر میں ایک ایساکوتاہ اندیش ،لالچی اور کم ظرف طبقہ بھی موجود ہے جو اس ہلاکت خیز غمگین و نازک صورت حال میں بھی اپنی استحصالی کاروائیوں سے باز نہیں آرہا ہے اور لوگوں کی بے بسی اور لاچاری کا ناجائز فایدہ اٹھاکر بدستور وہی کچھ کررہا ہے جس سے مجبورلوگوں کی زندگی دن بہ دن اجیرن بنتی جارہی ہے۔حالانکہ اسلام ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ ہمارے لئے ہر دن انصاف و برابری کا ہونا چاہئے ،کسی بھی شخص کوکسی بھی وقت کسی پر ظلم و ناانصافی کرنے کی اجازت نہیں ہے بلکہ ہر وقت مفلوک الحال انسانوں کی خدمت گزاری ہر صاحبِ استطاعت انسان کا فرض ہے اورمسلمان کی یہ خاص ذمہ داری ہے کہ کوئی بھوکا نہ سوئے ،کوئی قرض میں نہ ڈوبے ،ناداروں اور غریبوں کی دست گیری کرے ،ہر ایک کو عزت ملے اور ہر کسی کو اپنا حق بہم پہنچے ۔وادی کشمیر کی شروع سے یہ بدقسمتی رہی ہے کہ یہاں اشیائے ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اعتدال رکھنے کا کوئی سسٹم ہی نہیں رہا ہےبلکہ ہر دور میں یہاں استحصالی ٹولے کی طرف سےعام لوگوں کو لوٹنے کا رواج ہی جاری رہا اوراس پر ستم یہ کہ کوئی بھی حکومت اس رواج کو بدلنے میں کامیاب ثابت نہ ہوسکی۔ محض پچھلے ایک عشرہ پر ہی نظر ڈالی جائے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا آج کی قیمتوں سے موازنہ کیا جائے، تو ہوش اُڑ جاتے ہیں،صرف اشیائے خوردنی ہی نہیں بلکہ ہر چیز یہاں تک کہ زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں بھی اس عشرے کے دوران آٹھ سو فیصد اضافہ ہوا ہے،جبکہ تشویشناک امر یہ ہے کہ اتنی زیادہ قیمتیں ادا کرنے باوجود لوگوں نہ اصلی دوا ملتی ہے اور نہ معیاری کھانے پینے کی اشیاء۔
قارئین کرام! یہاں کا ہر بالغ فرد بخوبی جانتا ہے کہ زندگی میں روز مرہ استعمال ہونے والی ہر چیز کی قیمتیں بلا کسی کھٹکے ایک سال میںپانچ سات بار بڑھائی جارہی ہیںاور من مانی قیمتیں وصول کی جارہی ہیں، جس سے عام آدمی کی معشیتی اذیتوں میں حد سے زیادہ اضافہ ہوتا رہتا ہے ،خاص طور معاشرے کا وہ طبقہ جن کی آمدنی محدود ہے اور جن کی آمدنی میں متناسب اضافہ بھی نہیں ہوتا ،بُری طرح متاثر ہورہا ہے اور کوئی ماں کا لال اس بدنظمی اور ظلم کے خلاف کچھ نہیں کرپاتا ہے۔ 2014ء کے سیلاب کی تباہ کاریوں نے کشمیر کی بیشتر آبادی کے تانے بانے بکھیر کر رکھ دئے تھے لیکن اس کے باوجود حکومتی اور عوامی سطح پر مہنگائی اور استحصالی ٹولے کی کارستانی کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیااور نہ کوئی سبق یا عبرت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ ہر سطح پر فرائض،انصاف ،اخلاص اور ایمانداری کی ادائیگی میں روایتی تغافل شعاری کی صورت حال بدستورجاری رہی اور وہی طرز عمل دہرایا گیا جو شروع سے ہی عوام کے لئے عذاب ِ جان بن چکا ہے۔ یہ بات بھی درست نہیں کہ مہنگائی میں اضافے کا مسئلہ صرف وادیٔ کشمیر میں ہے بلکہ ملک کی دوسری ریاستوں اور بعض بیرونی ملکوں میں بھی یہ مسئلہ درپیش آتا ہے لیکن جن ریاستوں اور ملکوں کی حکومتیں عوام کے سامنے جواب دہ اور اُن کے مفادات کی محافظ ہیں وہاں عوام کو مہنگائی کے دبائو سے بچانے کی تدابیراختیار کی جاتی ہیں اور عام لوگوں کی اشیائے ضرورت کا معاملہ پہلی فہرست میں رکھ کر ایسی پالیسیاں مرتب کی جاتی ہیں جن سے ان اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہتی ہیں، ایک طرف وہ صنعت کاروں اور تاجروں کو اپنی سرگرمیوں کے لئے مناسب ماحول مہیا کرتی ہیں اور دوسری طرف یہ خیال رکھتی ہیں کہ عوامی ضرورت کی اشیاء کی قیمتیں عام شہریوں کی آمدن کے تناسب سے قوت خرید کے اندر رہیں۔اس مقصد کے لئے حکومتیں سبسڈیز دینے کے علاوہ قانونی اختیارات بھی استعمال کرتی ہیں تاکہ انتہائی ضرورت کی چیزیں عام لوگوں کی قوت خرید سے باہر نہ ہوسکیںاور لوگوں کو اُن کی استطاعت کے مطابق سہولت مل جائے۔بھارت کی کئی ریاستوں میں بھی لازمی ضرورت کے کھانے پینے کی اشیاء اور خصوصاًادویات کی قیمتوں پر گہری نظر رکھی جاتی ہے ،یہی وجہ کہ ان ریاستوں میں انتہائی ضرورت کی اشیاء،مثلاًآٹا،چاول، روٹی ،دودھ،سبزیاں ،دالیں، گھی، تیل، مکھن، گوشت ،مرغ ،مچھلی وغیرہ عام آدمی کی قوت خرید سے شاذ و نادر ہی باہر ہوجاتی ہے ،چونکہ بیشتر ریاستوں میں غربت بہت زیادہ ہے ،اس لئے حکومتی پالیسیوںکے اثرات وسیع پیمانے پر ظاہر نہیں ہوتے لیکن وادی ٔ کشمیر کے مقابلے میں وہاں کا عام آدمی زیادہ تعداد میں حکومتی پالیسیوں سے مستفید ہوتا ہے۔ جموں و کشمیر میں آج تک ایسی کوئی پالیسی نہیں بنائی گئی جس سے عام آدمی کو اشیائے ضرورت کی حصولیابی میںکوئی راحت نصیب ہوتی بلکہ ہر معاملے کی طرح اس مسئلے کو بھی یہاں کی حکومتوں نے صرف دعووں اور وعدوں تک ہی محدود رکھا ہے۔شائدکشمیر کی یہ بد قسمتی رہی کہ یہاں جو کوئی حکمرانبنا ،وہ محض اپنی انا کو تسکین دیتا رہا ، اپنی مرعوبیت کے لئے دوسروں کو دھتکارتا رہااوراپنی اہمیت جتانے کے لئے بڑے بڑے دعوے اور خوش کُن تقریریں کرتا رہا،جس سے اُن کی اور اُن کے حواریوںکی تو عیش ہوگئی مگر نہ کشمیر کو کچھ ملا اور نہ ہی کشمیریوں کا کوئی بھلا ہو سکابلکہ اس طرز عمل سے کشمیری معاشرہ بُری طرح متاثر ہوگیا ،زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں بگاڑ پیدا ہوا،جس کے نتیجے میں ملی اور معاشرتی زندگی میں خود غرضی عام ہوگئی اور ہرکوئی صرف پیسہ اور سہولت کا طلبگار بن گیا ،کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پیسہ حاصل کرنے کے چکر میںجائز اور ناجائز میں فرق کرنا تک بھول گیا اور اس طرح اس سوچ نے کرپشن،غبن،جرائم،منشیات اور نقلی ادویات کے دھندے،ناجائز منافع خوری اور اشیائے خوردنی کے قیمتوں میں بلا جواز اضافے کو ایک متبادل معشیت کے طور پر رائج کردیا گیا۔جس نے نہ صرف اخلاقی اقدار کو تباہ کردیا ہے بلکہ اس صورت حال میں عام لوگوں کے لئے جینا بھی دشوار بن گیا۔ ظاہر ہے کہ کورونا کی وَباء اور لاک ڈاون کی تباہ کاریوںنے کشمیر کے عام لوگوں کومزید مختلف مصائب اور مشکلات سے دوچار کردیا ہے ،بہتوں کا کاروبار ختم ہوچکا ہے اور بے شمار افراد کا نانِ شبینہ تک باقی نہیں رہ گیا اور اب اُن پراشیائے ضرورت کے حصول کے لئے ناقابل برداشت مہنگائی کی مار ہو،تو وہ کس طرح اور کہاں تک جسم و جان کا رشتہ بحال رکھ پائیں گے؟اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ایک طویل عرصہ سے وادی میں آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت ،بے روز گاری،اور محدود آمدنی کے باعث پہلے ہی مختلف مسائل سے دوچار ہے جبکہ پچھلے ایک سال سے وہ لاک ڈاون میں ہی جی رہا ہے اور اب کورونا کی آفت نےاُسے مزید شدید مصائب میں مبتلا کردیا ہے ۔اس کے باوجود معاشرے کا ایک مخصوص حصہ اپنی خود غرضانہ کاروائیوں سے باز نہیںآرہا ہے اور بدستور وہی کچھ کئے جارہا ہے جس سے شیطان بھی شرمسار ہورہا ہے۔انتہائی بدقسمتی یہ ہے کہ عذاب ِ الٰہی سے ہونے والی بُربادیا ں اور تباہ کاریاں بھی ان لوگوں کے مرُدہ ضمیر کو بیدار نہیں کرپاتیں،لکیر کے فقیر بن کر حسب معمول وہی کام کررہے ہیں، جس سے نہ اُن کی دنیا بنتی ہے اور نہ آخرت۔اور جہاں تک یہاں کی موجودہ حکومت کا تعلق ہے اس کا بھی کوئی شعبہ ابھی تک ایسا کوئی قابل قدر اقدام نہیں اٹھا پارہا ہے ، جسے اُس کی کوئی بہتر اہلیت دکھائی دیتی کہ وہ اس ظلم اور ناانصافی کے خلاف کوئی کاروائی کرسکیں ۔اب اس وقت جن کے اختیارات اور احکامات کے تحت سرکاری کام کاج چل رہا ہے ،اُن کو چاہئے کہ وہ اپنی قانونی کاروائی کا دائرہ اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں بلاجواز اضافے تک محدود نہ رکھے بلکہ مجموعی طور پر اس پورے نظام کا احتساب کرے، جس کی مافیانہ سرگرمیوں کے تحت حد سے زیادہ مہنگائی سے عام لوگوں کا استحصال ہورہا ہے۔اس صورت حال کے ذمہ دار صرف مخصوص مفادات رکھنے والے عناصر ہی نہیں بلکہ انتظامیہ کے ذمہ دار افسر اورا ہلکاربھی ہیں،جو تمام معاملات کا ادراک رکھنے اور مکمل اختیارات ہونے کے باوجود مصلحتوں اور مفادات کے تحت غفلت کا مظاہرہ کرتے چلے آرہے ہیں۔یہ کاروائی محض اخباری بیانات تک محدود نہیں ہونی چاہئے بلکہ مہنگائی کے پِسے ہوئے عوام کو عملاً کچھ نظر آنا چاہئے،قیمتوں پر کنٹرول کرنے کے ایک غیر موثر نظام کو دوبارہ موثر صرف اسی صورت میں بنایا جاسکتا ہے کہ مہنگائی کے ذمے دار حکومتی اہلکار اور غیر حکومتی عناصر کو شکنجے میں کسنے کا ایک سخت نظام بنایا جائے کیونکہ بلا جواز مہنگائی کرنا کسی ریاست کے خلاف نہ صرف بغاوت بلکہ دہشت گردی ہے،اگر حکومت ایسا نہ کرسکی تو لاک ڈاون کے دوران بھی مہنگائی کے عذاب میں مبتلا لوگوں کی مایوسی انتہائی صورت حال اختیار کرسکتی ہے۔ اُن دینی ،اصلاحی اور سماجی اورتنظیموں ،جنہوں نے رضاکارانہ طریقے پر ہر مشکل دور میںخاص طور پر 2014ء کے سیلاب کے دوران متاثرین کی راحت کاری کے لئے بے لوث کار کردگی انجام دی ہے اور آج کرونا کی وبائی صورت حال میں اپنی جانوں پر کھیل کر مجبور و مستحق لوگوںراحت پہونچارہے ہیں،پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سوجھ بوجھ سے کام لے کر اشیاء ضروریہ کی نرخوں کو عوام کی قوت خرید کے اندر رکھنے کے لئے جتن شروع کریںتاکہ بلاجواز نفع خوری کے ظالمانہ عمل کو قابومیں لایا جاسکے۔
ہم سب کشمیری اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ انسان میں شعور ہے ،عقل ہے ،بس ا س شعور کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔جب یہ شعور بیدار ہوجاتا ہے تو نہ صرف اچھے اور بُرے کی تمیز صاف نظر آتی ہے بلکہ اپنی ذمہ داریوں کا بھی احساس پیدا ہوجاتا ہے، جس کے تحت وہ اپنے اور اپنے معاشرے کے کئی مسائل کاحل خود ڈھونڈنکالتا ہے۔بغور دیکھا جائے تو کشمیر کے لوگ مشترک قدروں کے امین ہیں۔عوامی سطح پر یہ ایک دوسرے کا خیال رکھنے والے،محبت کرنے والے،قربانیاں دینے والے اور ایثار کی خو رکھنے والے لوگ ہیں،ان میں جو بھی کمی یا احساس ِ ذمہ داری کا فقدان نظر آتا ہے وہ ان میں سیاست کاروں،مفاد پرستوں،استحصالی ٹولوں،نوکر شاہوں،رشوت خوروں،اور نام نہادنا عاقبت اندیش عوامی غمخواروںکا پیدا کردہ ہے جو ان پر حکمرانی کرتے چلے آرہے تھے ،جو انہیں محرومیوں میں اور غفلت میں پڑا رکھنا چاہتے تھے تاکہ وہ جبر سے ،طاقت سے ،مکرو فریب سے اُنہیں بے وقوف بناتے رہے اور خود ان پر مسلط رہے۔حالانکہ کشمیر کی تاریخ میں جب بھی کو ئی ایسا موقع آیا کہ قوم کے کسی حصے کو کسی مصیبت و آلام یا آفت سماوی و ارضی نے آگھیرا تو کشمیری ایک ہوکر ساتھ دینے ،مدد کرنے اور دُکھ بانٹنے کے لئے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہوئے اور آج بھی وہ اُسی عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
کورونا کی تباہ کاریوں سے قبل ہی وادی کے لوگوں کے لئے جس طرح شدید نوعیت کے مصائب و مشکلات پیدا ہوچکے ہیں ،اُ ن پر قابو پانے کے لئے حکومتی دعوے تاحال بے معنی ثابت ہورہے تھے کہ ایک نئی آفات ِالٰہی اُن پر آن پڑی ہے۔اس سے کب نجات ملے گی قبل از وقت کچھ کہا نہیں جاسکتا ،تاہم اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ہر حکومتی ادارے کو اپنی ساکھ کی فکر ہے ۔یقیناً حکومتی اداروں کے منتظمین عوام کو درپیش مشکلات پر قابو پانے کے لئے کوششیں بھی کررہے ہوں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ متاثرین کے تکالیف کو کم کرنے کے لئے کہیں کوئی مربوط اقدام نظر آتا ہے اور نہ ہی عام لوگوں کو درپیش مشکلات سے چھٹکارا دلانے کا کوئی ٹھوس انتظام دکھائی دیتا ہے۔ہر سو وہی پرانی روایتی گھِسی پِٹی تجاہل پسندانہ پالیسی اور ناقص کارکردگی منظر عام پر آرہی ہے،جس پر لوگ کل بھی ناراض تھے اور آج بھی نالاں ہیں۔