ایک دو سال پہلے کی بات ہے مجھے کسی یونیورسٹی نے اسکائپ کے ذریعے ایم فل کے مقالے کے وائیوا کے لیے دعوت نامہ بھیجا۔ مجھے بے انتہا تعجب ہو کہ اب ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالوں کے وائیوا بھی آن لائن ہوا کریں گے ۔میں نے فورا معذرت ظاہر کرلی کیونکہ میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ اس سے وائیواکا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔
در اصل تعلیم پر سب کا حق ہے۔ ادنی اعلی، امیر غریب سب کو اس سے ایسے ہی مستفید ہونے کا حق ہے جیسے کہ ہوا اور پانی سے مستفید ہونا سب کا بنیادی حق ہے تاکہ امیت کا خاتمہ کیا جائے،ناخواندگی کا قلع قمع کیا جائے، علم کے ذریعے اس دنیا کو ترقی کی پٹری پر سرعت کے ساتھ دوڑایاجائے۔ اسی مقصد کے تحت انیسویں صدی میں ڈسٹینس ایجوکیشن یعنی فاصلاتی تعلیم کا آغاز کیاگیا۔ یورپ اورامریکہ نے اس کا بے انتہا اہتمام کیا۔ وہاں سے ہوتے ہوئے یہ ہم تک بھی پہنچا لیکن ہندوستان میں اس کا اتنا اہتمام نہیں کیا گیا جتنا کہ یورپی ممالک میں کیاگیا۔ کیونکہ یہ سمجھاجاتا رہا ہے کہ کلاس روم ٹیچنگ ڈسٹینس ایجوکیشن سے بہتر ہے۔ کلاس روم میں طالب علم استاد کے سامنے بہت ساری چیزیں سیکھتا ہے جو ڈسٹینس والا طالب علم نہیں سیکھ پاتا۔ ریگولر موڈ میں پڑھنے والا طالب علم اپنی صلاحیت، تجربہ اور علم وادب میں ڈسٹینس ایجوکیشن کے ذریعے پڑھنے والے طالب علم سے درجہا بہتر ہوتا ہے۔ اسی لیے ریگولر تعلیم کی اہمیت ہمارے یہاں ابھی بھی قائم ہے۔
آج کل جب کہ کرونا وائرس نے ہماری زندگیوں کو پٹری سے اتار دیا ہے، ہمارے روز وشب کو بدل کر رکھ دیا ہے، ہمیں ہمارے گھروں میں بند کردیا ہے ،ہمارے روٹین کو بدل دیا ہے،ہمارے سونے جاگنے اور کام کرنے کے اوقات پر بھی اثر انداز ہوگیا ہے،ہمارے سکول اور مدارس بند ہوچکے ہیں، ہماری یونیورسٹیاں بھی لاک ڈاؤن موڈ پر ہیں اور یہ معلوم بھی نہیں کہ یہ سلسلہ کب تک چلے ۔ اگر یہ سلسلہ طویل ہوا اور ارباب حل وعقد نے کچھ عملی اقدامات نہیں اٹھائے تو دنیا کتنا پیچھے چلی جائے گی، اس کے تصور سے بھی روح کانپ اٹھتی ہے۔ لہٰذا ارباب اقتدار نے فیصلہ کیا کہ گھروں سے ہی دفاتر کے کام کیے جائیں۔ گھروں میں بیٹھ کر بچوں کو تعلیم سے آشنا کیا جائے۔ بچوں کوسٹیڈی مٹیریل اور نوٹ فراہم کیے جائیں۔ انہیں آڈیو اور ویڈیو لیکچر فراہم کیے جائیں تاکہ کسی نہ کسی طرح ان کے مستقبل کو ضائع ہونے سے ہم بچاسکیں۔ چنانچہ آج آن لائن ایجوکیشن کی اہمیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ سوشل میڈیا کے جتنے وسائل ہیں ،سب کے ذریعے بچوں کی کلاسوں کا اہتمام کیاجارہا ہے۔طلبہ کی کلاسیں لی جارہی ہیں۔ سکول والے بھی آن لائن ہیںاور یونیورسٹی والے بھی۔ بچوں کو مواد فراہم کیا جارہا ہے، انہیں آڈیو اور ویڈیو لیکچر فراہم کیے جارہے ہیں کہ اگر اس بحران کا سلسلہ خدا نخواستہ طویل ہوابھی توکم از کم بچوں کے تعلیمی سال کوضائع ہونے سے بچایا جاسکے گا۔ بچے بھی خوش ہیں کہ اب انہیں کلاس روم کی طرح کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ پڑھنے والے سنجیدہ بچے تو ویسے بھی کچھ نہ کچھ سیکھ ہی لیتے ہیں ۔وہ آج بھی اساتذہ سے رابطہ کرکے کچھ نہ پڑھ اور سیکھ رہے ہیں۔البتہ وہ طلبہ جو کلاس میں بھی نہیں دھیان دیتے تھے، وہ بھی خوش ہیں کہ چلو ایسے انھیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ وہ چاہے پڑھیں یا نہ پڑھیں انہیں کوئی دیکھنے والا نہیں۔ ذمہ دار بھی خوش ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہورہے ہیں۔ تعلیم بھی ہورہی ہے۔ اساتذہ بھی خوش ہیں کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق چلیں گے، جس وقت طبیعت چاہے گی کلاس لیں گے۔
یہ دنیا بھی عجیب وغریب ہے۔ ہر روز نئے پینترے دکھاتی ہے۔ ہر روز نئے رنگ وروپ میں سامنے آتی ہے۔ آج کے اس لاک ڈاؤن کے ماحول میں آن لائن کلاسوں کی اہمیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اگر یہ سلسلہ کامیاب ہوگیا تو مجھے ڈر ہے کہیں اکیڈمک بلاکوں اور طلبہ وطالبات کے ہوسٹلوں کی تعمیر پر زر کثیر صرف کرنے کے بجائے آن لائن کلاسوں کو ترجیحات میں شامل نہ کرلیا جائے کہ اس سے وقت بھی بچے گااورپیسہ بھی۔
بہر حال اس کائنات کے خالق کا کوئی بھی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس لاک ڈاؤن کے ذریعے اس کائنات کو کیاکیا نقصانات یا فائدے حاصل ہونے والے ہیں ،یہ ابھی غیب کی زنبیل میں قید ہے۔ کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ بس ہمیں پوری کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اپنے اقوال وافعال کے ذریعے انسانیت کے تحفظ کی کوشش کریں۔باقی کائنات کے خالق پر چھوڑ دیں۔ اللہ بس باقی ہوس!
رابطہ :صدر شعبۂ عربی، بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری،9086180380