دنیا ایک مہلک وباء کرونا وائرس میں مبتلا ہوچکی ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کیلئے ہر سطح پرکوششیں کی جارہی ہیں۔ خیر نتیجہ جو بھی ہو ، دنیا کے سبھی ممالک نے سائنس دانوں کو لیبارٹیریز میں قید کرکے کورونا وائرس کا علاج تلاشنے کا عمل شروع کیا ہے۔ کئی ممالک نے نئی طبی مصنوعات تیار کرکے دنیا کیلئے وقف کر رکھی ہیں، بالخصوص ان ممالک کیلئے جہاں کورونا نامی وبا نے خطرناک صورت اختیار کی ہے۔ دنیا کی نظریں امریکہ پر ٹکی ہوئی تھیں کہ امریکہ جیسا طاقتور ملک اس مہلک وبا کی دوا دریافت کرنے میں دیری نہیں کرے گا مگر تاحال ایسا کچھ دیکھنے یا سننے کو نہیں ملا۔
اگر دیکھا جائے تو امریکہ سمیت کئی دیگر ممالک نے انسانوں کی بیخ کنی کیلئے جوہری ہتھیار ، میزائل وغیرہ بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔مہلک ہتھیاروں کے بنانے کا یہ سلسلہ برابر جاری ہے اور اس صورتحال نے دنیا کے ایک وسیع فکر مند طبقے کو تشویش و فکر مندی کے اتھاہ بھنورمیں ڈالا ہے۔ بلا شبہ یہ ہتھیار صرف اور صرف انسانوں کے خاتمے کیلئے ہی بنائے جارہے ہیں۔ امریکہ ان گنت ڈالر خرچ کرکے جدید اسلحہ بنارہا ہے اور اپنے حمایتی ممالک کو بھاری رقم کے عوض سپلائی کرتا ہے۔ امریکی تنازعات کا سطحی جائزہ لینے کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جہاں امریکی مفادات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے تو وہیں امریکی رویے میں بے جا سختی نظر ااتی ہے جس کی تازہ مثال امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا ہندوستان کے خلاف’کلورو کواین‘ دوائی کے حوالے سے بیان ہے۔ امریکہ کا سالانہ دفاعی بجٹ باقی ماندہ ممالک سے کئی گنا زیادہ ہے۔ عالمی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے والے تین بڑے ادارے اقوام متحدہ، عالمی بنک اور نیٹو امریکی فنڈنگ کے بغیر قائم نہیں رہ سکتے۔
امریکہ سمیت دنیا کے اکثر و بیشتر ممالک کو اس بات کا احساس ہو ہی گیا ہوگا کہ آخر انہوں نے ایک بڑی رقم اسپتالوں ، اسکولوں، قومی سڑکوں وغیرہ جیسے انسانی فلاح و بہبود کے امور کے بجائے ایسے خطرناک اور انسان دشمن ہتھیاروں میں ضائع کردئے جن سے انسانی دنیا کو فائدہ پہنچنا بعید از امکان ہے۔ امریکہ کا غرور چور چور ہوگیا ہے اور آج اس آفت کے سامنے سر جھکانا ہی پڑا ہے جس آفت کی وجہ سے ایک ہی دن میں امریکہ کے1500 کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ دنیا کا طاقتور ترین ملک طبی امداد کی بھیک مانگنے کیلئے مجبور ہوگیا ہے۔ امریکہ ایسا ملک ہے جس کو ایک محفوظ جگہ تصور کیا جاتا تھا اور ہر کوئی وہاں پرسکون زندگی گزارنے کی خواہش رکھتا تھا۔ مگر حالات اس کے بالکل برعکس ہیں اور امریکہ کا اندرون بہت کمزور ہے۔
امریکہ دنیا کا واحد سپر پاور ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ساری دنیا امریکہ کی مرضی سے چلے گی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے حالات میں باہمی اختلافات کو یکطرف رکھ کر امریکہ انسانیت کی بقاء کیلئے آگے آئے اور ایران سمیت کیوبا، ونیزویلا اور شمالی کوریا سے پابندیاں ہٹاکر دنیا میں انسانی جانوں کے تحفظ و سلامتی میں اپنی خدمات اور ذمہ داریاں بہم رکھیں اور دنیا میں اپنے جنگی وسائل و سازوسامان کے بجائے انسانیت کی خدمت کرکے حقیقی معنی میں سپر پاور ہونے کا ثبوت پیش کرے۔