کرونا وائرس کی مہلک وبا ء نے پورے عالم کو اپنی چپیٹ میںلے لیا ہے۔اس مہلک وبا ء سے بچنے کیلئے ملک بھر میںبھی لاک ڈائون کا نفاذہے جس کے پیش نظر معمولات ِزندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں ہے۔تمام تر کاروباری سرگرمیوںپر بریک لگ گئی ہے۔ہمارے ملک میںآئے روز تعمیرو ترقی کے دعوئوںکی بوچھاڑ کی جاتی ہے تاہم موجودہ حالات میں سرکار کے تمام ترقیاتی دعوئو ںکی قلعی کھلتی ہی جاری ہے۔ایک طرف جہاںملک بھر میںلاک ڈائون کی وجہ سے تمام تر کاروباری سرگرمیاںٹھپ اورتجارتی طبقہ بری طرح متاثر ہوچکاہے وہیں مزدور طبقہ اور خاص طور پر پسماندہ اور دور اُفتادہ علاقوںمیںرہنے والے لوگ کسمپرسی کی حالت میں شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہیںکمانے کا کوئی ذریعہ نہیں، کھانے کے لالے پڑے ہیں۔ کہیںسے کوئی اچھی خبر نہیںمل رہی ہے، چہار سو مایوسی کا عالم ہے، گھروںمیںچولہے ٹھنڈے پڑ ے ہیں، بنیادی سہو لیات کا فقدان ہے ،راشن کی عدم دستیابی ہے، سرکار کے مفت راشن دینے کے دعوے محض دعوے ثابت ہو رہے ہیں،دور دراز علاقوں کے لوگوںکو ابھی تک وہ راشن بھی نہیںمل پایا ہے جو معمول کے مطابق ملا کرتا تھا۔اِدھر گھروںسے باہر نکلنے کی اجازت نہیں،اشیا ء ضروریہ کی دکانیں بند پڑی ہیںکیونکہ اِن دکانوںمیںاب فروخت کرنے کیلئے کچھ باقی رہا ہی نہیں، ایسے میں لوگ فاقہ کشی کا شکار نہیںہونگے تو اور کیا ہوگا؟سرکاری آفیسران (Stay at Home)کے سلوگن پر کچھ اِس طرح عمل کرتے ہیںکہ وہ صرف Stay at Officeہیں، لوگوںکی مشکلات سے وہ جیسے لاتعلق ہوچکے ہیں۔ وہ پریشان ہیںتوشاید بس اِس بات کو لیکر کہ لاک ڈائون کی وجہ سے اُن کی چور دروازے سے ہونے والی کمائی پر بھی لاک لگ گیا ہے۔ فائل تو اُن کے ٹیبل کی دھول چاٹ رہی ہے لیکن سائل کو چمڑی اُتارنے کا کوئی موقعہ نہیںملتا۔
ٍ غرضیکہ دور دراز علاقوںمیںرہنے والے غریب اور سادہ لوح لوگوںکی داد رسی کیلئے کوئی بھی سنجیدہ نہیں، یہاں اگرسرکاری نمائندوںکے علاوہ سول سوسائٹیز ، این جی اوز اور دیگر فلاحی تنظیموںکی بات کی جائے تو وہ بھی دور دراز علاقوںمیںجانے کے بجائے سرکاری دفاترکے اِردگرد ہی گھوم گھوم کر اپنا فوٹو سیشن کر رہی ہیں، سماجی تنظیمیں سماجی فلاح و بہبود کے نام پرانتظامیہ کے سامنے اپنا وقار بنانے ، اپنی دھاک بڑھانے اور اپنا اُلو سیدھا کرنے کے چکر میںیہ سب کر رہی ہیں۔نیک نیتی سے کام کرنا اگراُن کا مقصد ہوتا تو خود کو سماجی فلاح و بہبود کے ٹھیکیدار کہلانے والے اِس مشکل دور میںاُن دور افتادہ علاقوںمیںرہنے والوں کی امداد کیلئے آگے آتے جن کا کوئی بھی پرسان حال نہیں،جنہیںسرکار اور انتظامیہ نے بھی اپنے حال پر چھوڑ رکھا ہے لیکن سماجی تنظیموںمیں خدمت ِ خلق کا جذبہ نہیںبلکہ نمود و نمائش کا نشہ ہے جسے وہ انتظامیہ کی ناک کے نیچے ہی انجام دیتے ہیںکیونکہ یہاںوہ سرکاری آفیسران کی نظروںمیںآتے ہیںاور پھر سرکاری آفیسر ان کیساتھ محبت کی پینگیں بڑھاتے ہیںاور اپنا کام کر جاتے ہیں۔ مسائل درے کے درے رہ جاتے ہیں بلکہ سماجی ٹھیکیداروں کے گھروںمیںمفت بجلی کنکشن، پانی کنکشن، پانی کی ٹینکی، مفت باتھ روم ،غیر قانونی بالن کی لکڑی پہنچ جاتی ہے۔ یہ سب ہوگیاتو اُن کی نظروںمیں سماج کافی ترقی کر رہا ہے ۔لوگ اگر مسائل کو لیکر کبھی احتجاج کریں تو اُس وقت بھی یہ سماج دشمن عناصر سرکار ی آفیسران کی جی حضوری کر کے عوام کو خاموش کرانے کا کام کرتے ہیں،دور دراز علاقوںمیںکس کس طرح سے غریب اور سادہ لوح عوام کا استحصال کیا جا رہا ہے یہ بیان کرنا محال ہے۔
اس لئے دور اُفتادہ علاقوں میںرہ رہے سرکاری اورانتظامیہ کی بے رخی اور عدم توجہی کے شکار لوگوںکو اب غربت اور مصیبت میںزندگی بسر کرنے کی عادت سی ہو گئی ہے۔بے یاری، بے بسی اور لاچارگی میںزندگی کے ایام گزارنا اب اُن کی زندگی کا معمول بن چکا ہے۔بہت سے لوگ تو غربت کی سطح سے نیچے اپنی زندگی کے ایام گزار رہے ہیں۔ مگراِن بے یار و مددگار لوگوںکیلئے اب ایک ایسی مصیبت آن پڑی ہے جس نے انہیںشدید پریشانی میںڈال رکھا ہے۔اِس میںکوئی شک نہیںکہ بیماری اپنی آمد سے پہلے یہ نہیں دیکھتی کہ وہ غریب پر نازل ہو رہی ہے یا امیر پر۔ اب ایسی صورتحال میںجب انسان پہلے سے ہی ایک ایسی وبا ء میںجوجھ رہے ہیںاوراُس کا مقابلہ کرنے کیلئے گھروںمیںقید و بند ہوںتو پھردیگر بیماریوںکے حملے ایک غریب شخص کیلئے موت کا پیغام ہی ہوتے ہیں کیونکہ ایسی صورتحال میںوہ غریب لوگ کہاںجائیںاور کس کے پاس جائیں ، وہ کس سے اپنی اِس مصیبت کے بارے میںبات کریں۔وہ کسے اپنی روائیداد سنائیں، طبی اداروںمیںتعینات آفیسران و ملازمین کا رویہ تو یوںبھی تلخ ہوتا ہے اور آج کل تو اُن کا پارہ بہت چڑھاہوا ہے ۔ وہ آج ’’مثبت، منفی اور قرنطینہ ‘‘جیسے تین الفاظ کے اِرد گرد ہی گھومتے ہیں، یہیںتک محدود ہیں، دیگر بیماریوں میںمبتلا سینکڑوں، ہزاروں اور لاکھوںمریضوںکی جان جائے تو جائے بس کرونا وائرس کی وبا ء کا شکار کوئی نہیںہونا چاہیے۔ دور اُفتادہ علاقوں میںتقریباًتما م تر طبی اداروںمیںتعینات عملہ مریضو ںکے تئیںاپناغیر سنجیدہ رویہ کچھ اسی طرح اپنا رہا ہے۔
یہاںیہ بات قابل ِذکر ہے کہ آج سے قبل جب بھی کہیںکوئی بیمار ہوتا تھا تو وہ سرکاری ہسپتالوںمیںتعینات عملے کے تلخ اور غصیلے رویوں کو دیکھتے ہوئے سرکاری ہسپتالوںمیںجانے کے بجائے لوگ نجی کلینکوںکا رُخ کرتے تھے جہاںپر وہ مہنگے داموںاپنا علاج کراتے تھے لیکن اب جب کہ موجودہ وقت میںتمام پرائیویٹ طبی ادارے بند ہیں،ایسے میںلوگوںکو چار و ناچارسرکاری ہسپتالوںمیںجانا پڑ رہا ہے۔مگر المیہ یہ ہے کہ غریبوں کیلئے بنائے گئے یہ شفاخانے بھی غریب کی طرح خستہ حالی کا شکار ہیں۔ ایک اہم مسئلہ جس کا سامنا ہر سرکاری ہسپتال کی راہ چلنے والے کو کرنا پڑتا ہے وہ انتظامیہ کی مریضوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی نا اہلی ہے۔یہاںمریض شفا کیا خاک پائیں گے؟ہسپتالوںکا نظام اِس قدر خستہ حالی کا شکار ہے کہ ہسپتالوںمیںتعینات طبی عملہ بیشتر فنڈز کو اپنے جیب کا مال بنا لیتے ہیں، سرکاری خزانے سے پولیو مہم کے اشتہارات کیلئے فنڈز تو آتے ہیںلیکن اشتہار بازی کیلئے مساجدمیںاعلان کرائے جاتے ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں، یہاںتو ایک ادنیٰ سا میڈیکل اسسٹنٹ بلاک میڈیکل آفیسر کے دستخط تک کر لیتا ہے اور یہ سب آپسی ملی بھگت سے انجام دیا جا رہا ہے۔لوٹ کھسوٹ کا رواج عروج پر ہے۔ اوپر سے نیچے تک ہر جگہ انسانوں کو مختلف حیلوں اور طریقوں سے لوٹا جاتا ہے۔ ڈاکٹر ایک مسیحا کے طور پر جانے جاتے ہیں، جو مریضوں کا علاج کرکے انہیں زندہ رہنے کا حوصلہ دیتے ہیںلیکن اگر اسی روپ میں یہ اِس مشکل دور میںبھی لوٹتے رہے تو پھر غریب کے لیے جینے کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔جب کوئی انسان کسی موذی مرض کا شکار ہو اور ڈاکٹر سے علاج کے علاوہ اس کے پاس کوئی متبادل راستہ بھی نہ ہوتو ایسے میں اُس کے ساتھ مسیحائی کی آڑ میںظالمانہ سلوک کیا جائے ،تو پھر انسانیت، ہمدردی، مسیحائی اور صلہ رحمی جیسے الفاظ کو ہماری لغت سے خارج کردینے کے علاوہ کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔اس بات سے مفر نہیں کہ سرکاری ہسپتالوںمیںتعینات اِن ڈاکٹروںکا ایک روپ اور بھی ہے جو مریض کے تئیںکافی ہمدردانہ، محبوبانہ اور شفقت والا ہوتا ہے لیکن یہ روپ دیکھنے کیلئے نجی کلینکوںکا رُخ کرنا پڑتا ہے ، جہاںیہی ڈاکٹر مریض کے ساتھ انتہائی ، شفقت اور پیار و محبت سے پیش آتے ہیں، یہاںاِن کا رویہ کافی اطمینان بخش ہوتا ہے ،یہاں اِن کی شیریں زبانی دل کو چھو جاتی ہے اور مریضوں کی نصف بیماری تو چیک اپ کے دوران ہی ختم ہو جاتی ہے ،یہاں یہ مسیحائی روپ میںمریضوںکو لوٹتے تو ہیںلیکن محسوس نہیںہونے دیتے۔ یہاںسمجھنے کی بات یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر حضرات چندفی صد کمیشن کے عو ض نجی کلینکوںپر مریضوںکا علاج کافی سنجیدگی سے کر رہے ہیںتو پھر ہسپتالوںمیںاِن کا رویہ قصائی جیسا کیوںہوجاتا ہے؟ یہاںتو یہ ہزاروںاور لاکھوںکے حساب سے تنخواہیں لیتے ہیں،کیا سرکاری خزانے سے نکلنے والی رقم کو یہ خیرات سمجھ رہے ہیںجو یہ مفت میںہضم کرتے رہتے ہیں۔
یہی ڈاکٹر حضرات جب اِن دور دراز علاقوںکے ہیلتھ سنٹروںمیںتعینات ہوتے ہیںتو وہاں پر معمولی سے درد میںمبتلا کسی مریض کا چک اپ کرنا بھی گوارہ نہیں سمجھتے بلکہ اپنے سر سے بلا ٹالنے کا فارمولہ اپنا یاجاتا ہے اور بڑی آسانی سے مریضوںکو ضلع صدر مقام یا پھر جموں و سرینگر ریفر کیا جاتا ہے۔نااہلی اور درندگی کی حد تو ہے کہ ریفر کرنے پر اس حالت ِ وباء میںاگر محکمہ صحت سے ایمبولینس سہولیت مانگی جائے تو سرے سے انکار کیا جاتا ہے کہ ٹرانسپورٹ سہولیت میسر نہیں ہے۔جہاںایک طرف ٹرانسپورٹ پر مکمل طور پابندی ہے وہیںطبی ادارے اگر مریضوںکو ریفر کر کے انہیںایمبولینس سہولیت نہیںدیں گے توکیا یہ کرونا وائرس کی آڑ میںدیگر امراض میںمبتلا مریضوںکی زندگیوںکے ساتھ کھلواڑ نہیں ہے ؟کیایہ قتل ِعام نہیں ہے؟ ۔حاصل کلام یہ کہ غلطی سرکار کی ہو، انتظامیہ کی ہو ،عوامی نمائندوں کی ہو ، سماجی ٹھیکیداروںکی ہویا پھر ڈاکٹر حضرات کی ،بھگتتا ہمیشہ غریب عوام کو ہی پڑتا ہے۔ شاید غریب کے گھر کی ہر شئے کی طرح اس کی جان بھی بے مول ہی ہے۔
رابطہ: 9797110175، 7780918848