امام بخاریؒ نے رقم کیا ہے کہ ایک دفعہ اللہ کے رسول حضرت محمدِ عربی ؐکے سامنے سے کسی آدمی کا گزر ہوا ،تو اللہ کے ر سول ؐنے ابو ذر غفاری ؓ سے اُس آدمی سے متعلق دریافت کیا کہ اس کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو۔ابو ذر غفاری ؓنے بتایا کہ یہ شخص معزز لوگوں میں سے ہے اور اللہ کی قسم یہ اس قابل ہے کہ ا گر یہ نکاح کا پیغام بھیجے تو اس کا نکاح کردیا جائے اور اگر یہ سفارش کرے تو اس کی سفارش بھی قبول کرلی جائے۔ کچھ دیر بعد ایک دوسرا آدمی وہاں سے گزرا ‘ تو رسول اللہ ؐنے ابو ذر غفاریؓ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا۔ابو ذر غفاری ؓ نے پہلے کے برعکس جواب دیا’’ یہ آدمی مسلمانوں کے ایک غریب طبقہ سے ہے۔یہ ایساہے کہ اگر یہ کسی کو نکاح کا پیغام بھیجے تو اس کا نکاح نہ کیا جائے اور اگر یہ کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے اور کچھ کہے تو اس کی بات نہ سنی جائے‘‘۔ اس پر اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک پچھلا محتاج شخص اگلے مالدار شخص (گو ویسے آدمی زمین بھر ہوں)سے بہتر ہے۔
اس حدیث نبویؐ سے فقر کی فضیلت عیاں ہے لیکن ہمارے یہاں بہت سے لوگوں نے فقر کی غلط تشریح اور تفہیم کرکے مختلف فتنوں کو وجود بخشا ہے،لہٰذا فقر کی درست تشریح لازم آتی ہے۔فقر کے لغوی اور بنیادی معنی تنگدستی،مفلسی اور مختاجگی کے ہیں۔ مولانا عبدالحفیظ بلاویؒ نے ’’مصباح اللغات‘‘ میں فقر کے معنی مفلس ہونا کے ہی رقم کئے ہیں۔تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اکثر انبیائِ کرام اور اولیاء اللہ کی زندگی فقر اور تنگدستی میں ہی بسر ہوئی لیکن یہ تنگدستی اور فقر صبر کے تابع ہوتی تھی اور ان کے پاس جو کچھ ہوتا، اسے علمِ دین حاصل کرنے میں صرف کرتے تھے،جیسا کہ امام بخاری ؒ سے متعلق مشہور ہے کہ آپ نے علمِ حدیث کی طلب میں جب اپنا وطن (بخارا)چھوڑااور دیگر ممالک کا رخ کیاتو اس دوران سفر میں انہوں نے کئی مرتبہ گاس پھوس اور درختوں کے پتوں سے اپنی بھوک مٹائی۔گویا کہ انہوں نے محض دین کی خاطر فقر کا راستہ اختیار کیا وگرنہ حقیقت یہ ہے کہ اما م بخاری ایک مالدار اور تجارت پیشہ آدمی تھے، وہ مضاربت پر مال دیکر دوسروں سے تجارت کرواتے اور خود علمِ دین کے حصول کے لئے جد و جہد کرتے لیکن افسوس اور صد افسوس کہ آج جسمانی اذیت کو فقر پر قیاس کیا جاتا ہے اور طرح طرح کے مراقبے کئے جاتے ہیں۔یہ تصور زیادہ تر اہلِ تصوف کے یہاں پایا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دینِ اسلام میں فقر سے متعلق ایسا کوئی بھی تصور موجود نہیںہے۔اوپر مذکورحدیث میں فقیر اُس مومن کو کہا گیا ہے جو دنیاوی اسباب میں تنگدست ہونے کے باوجود قرآن وسنت کا پابند ہواور ہر حال میں اپنے رب کا شکرواحسان مانتا ہو۔اور ایسا فقر انبیاء کے درمیان پایا جاتا تھا۔ جیسا کہ اس حدیث کی شرح میں مولانا داودرازؒ لکھتے ہیں:’ ’ فقیری سے مراد مال و دولت کی کمی ہے،لیکن دل کے غنا کے ساتھ یہ فقیری محمود اور سنت ہے انبیاء اور اولیاء کی۔ لیکن دل میں اگر فقیری ساتھ ساتھ حرص لالج ہو تو اس فقیری سے آنحضرتؐ نے اللہ کی پناہ مانگی ہے۔‘‘
ایسا شخص جو دنیاوی اسباب میں تنگدست ہو لیکن اللہ تعالیٰ پر یقینِ کامل رکھتا ہو اور شکر و احسان کے ساتھ اس کی بندگی بجا لاتا ہو،رسول اللہؐ نے ایسے فقیر کو جنت کی بشارت دی ہے۔چنانچہ صحیح بخاری کی کتاب الرقاق میں عمران بن حصین ؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ اللہ رسولؐنے فرمایا کہ میں نے جنت میںاکثر غریب لوگوں کو دیکھا۔بقول علامہ اقبال ؒ ؎
اگرچہ زر بھی جہاں میں ہے قاضی الحاجات
جوفقر سے ہے میسر تونگری سے نہیں
دولت مند ہونا اگر چہ کوئی گناہ یا عیب نہیں ہے تاہم تاریخ شاہدِ عادل ہے کہ اکثر اصحابِ ثروت گمراہی اور ضلالت میں مبتلا رہے ہیں یہاں تک کہ یہ بھی ایک بین حقیقت ہے کہ سماج میں جو بھی بے حیائی اور برائیاں جنم لیتی ہیں، ان اصحابِ ثروت کی بدولت ہی لیتی ہے۔لیکن یہ بھی ذہن میں رہے کہ اگر ایک صاحبِ ثروت شخص قرآن وسنت پر قائم ہو تو وہ ایک بہترین معاشرہ تعمیر کرنے کی قوت بھی رکھتا ہے جیسا کہ کئی صاحبِ ثروت صحابہ ؓسے اس کا ثبوت ملتا ہے۔بہر حال میرا اصل موضوع لفظ’’ فقر‘‘ہے۔جس کے تعلق سے عرض کر چکا ہوں کہ فقر تنگدستی‘محتاجگی اور مفلسی سے عبارت ہے۔چنانچہ اس ضمن میں قرآن کا بیان بھی واضح ہے’’ صدقات توصرف فقیروں کے لئے ہے‘‘(9:60)۔
رابطہ :سیرجاگیر سوپوکشمیر، 8825090545