اللہ تعالی نے قرآن وحدیث میں جہاں کہیں امم سابقہ کے سلسلے میں عذاب وعتاب کا ذکر کیا ہے وہاں عین مقصد یہی ہے کہ لوگ اللہ تعالی کی وحدانیت کا اقرار کرکے اللہ تعالی کے مطیع وفرمانبردار ہو کر اسی کے قوانین تلے زندگی گزاریں۔جب جب امت غفلت کی شکار ہوئی ہے، اللہ نے اس امت کو کسی ناکسی طرح بیدار کیا۔کبھی کسی نبی کو مبعوث کرکے تو کبھی کسی اور طریقے سے۔آج سے کچھ دن پہلے پوری دنیا کی یہ حالت تھی کہ بے حیائی ،شراب،جوا،سٹہ بازی،زنا،سودخوری،رقص وسرور کی محفلیں،ناچ گانے ،فحشیات ،آپس میں بوس وکنار، مرد وزن کا اختلاط، والدین اور بڑے بزرگوں کی نافرمانی ،قطع تعلقی ،انسانیت سوزی جیسے واقعات کا پرچا رکیا جارہا تھا اور اس کو ماڈرن سوچ کہا جارہا تھا۔اسکے خلاف لب کشائی کرنے والے کو دقیانوسی سوچ کا لیبل دیا جاتا تھا ،چنانچہ رب نے اپنی قدرت کا اظہار ایک چھوٹے سے وائرس کے ذریعے کیا اور پوری امت کو بیدار کر دیا،کہ ابھی بھی موقع ہے سب ملکر دربار الٰہی کی طرف متوجہ ہوجاؤ،صدق دل سے توبہ واستغفار کرو۔
لہٰذا کورونا وائرس پر لعنت مت بھیجیں اس لئے کہ اس نے انسان کو دربارہ اس کی انسانیت کی طرف ،اس کے خالق کی طرف،اسکے اخلاق کی طرف متوجہ کیا ہے ۔کیا یہ کافی نہیں کہ اس نے پوری دنیا میں عیش وعشرت کے مراکز بند کرادئیے؟سینماگھر،نائٹ کلب،رقص گاہیں، شراب خانے ، جو اخانے،جنسی بے راہ روی کے مراکز،بلکہ سود کی شرح بھی کم کردی ہے،اس نے خاندانوں کو ایک طویل جدائی کے بعد انکے گھر وں میں اکٹھا کرادیا،اس نے مرد وعورت کے آزادانہ اختلاط سے بھی روکوادیا،اس نے عالمی ادارہ صحت کواس بات کے اعتراف پر مجبور کیا کہ شراب پینا تباہی ہے لہٰذا اس سے اجتناب کیا جائے،اس نے تمام اداروں کو یہ بات کہنے پر مجبور کیا کہ حرام جانور،درندے ، حشرات ،شکاری پرندے،خون،مردار اور مریض جانور صحت کے لئے تباہ کن ہیں۔اس نے انسان کو سکھایا کہ چھینکنے اور کھانسنے کا طریقہ کیا ہے؟ صفائی کس طرح کی جاتی ہے ،جس کو ہمارے نبی اکرم ﷺ نے آج سے1450سال پہلے بتادیا تھا،اس نے فوجی بجٹ کا ایک تہائی حصہ صحت کی طرف منتقل کرادیا،اس نے آزادانہ اختلاط کو مذموم قرار دیاہے، اس نے دنیا کے تمام بڑے ممالک کے لوگوں کو یہ بتادیا کہ لوگوں کو گھروں میں پابند کرنے ناجائز اور جبری کرفیو لگانے اور انکی شخصی آزادی چھین لینے کا معنی کیا ہوتا ہے ،جس کا شکار کشمیری اور فلسطینی مسلمان ہیں،(کہیں دنیا کو فلسطینی وکشمیری بے سہارا ماؤں بہنوںکی آہ تو نہیں لگی ہے)، اس نے لوگوں کو اللہ سے دعا مانگنے اور گریہ وزاری کرنے، استغفار اور تسبیحات کی طرف متوجہ کردیا ہے،گناہ اور منکرات چھوڑنے پر آمادہ کیا ہے،اس نے متکبرین کے کبر وغرور کا سر پھوڑ دیا اور انہیں عام انسانوں کی طرح لباس پہنادیا۔حجاب کی مخالفت اور پابندی لگانے والوں کو ایسا عبرت ناک لباس پہنایا ہے کہ دیکھ کر مریخ کی مخلوق معلوم ہوتے ہیں،مسلمانوں کی نسل کشی کرنے کے لئے فنڈ ریزنگ کرنے والے ممالک اب اپنی نسلوں کی حفاظت کے لئے فنڈ مختص کرنے پر مجبور ہیں،اس نے دنیا میں کارخانوں کی زہریلی گیس اور دیگر آلودگیوں کو کم کرنے کی طرف متوجہ کیا ہے۔اس نے ٹکنالوجی کو رب ماننے والوں کو دوبارہ حقیقی رب کی طرف متوجہ کیا ہے۔اور سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے انسانوں کو اللہ کی وحدانیت کی طرف متوجہ کیا ہے،معبودان باطل سے مدد مانگنے والے بھی آج ایک اللہ کی مدد مانگ رہے ہیں ۔جن ملکوں کی گلیاں اذان کی آواز کو ترستی تھیں آج وہاںرب کا نام ببانگ دہل گونج رہا ہے۔
ہر چیز کے دوپہلو ہوتے ہیں۔اگر اس نظریہ کو مدنظر رکھیں تو ہم نے جہاں کورونا کے مثبت اثرات بیان کئے وہیں اس کے منفی اثرات سے پہلوتہی نہیں کرسکتے ۔کورونا دنیا بھر میں قہر الٰہی بن کر ٹوٹ پڑا ہے،تاریخ میں پہلی بار گھر بار،اسپتال،مساجد اور اعوانِ صدر سب غیر محفوظ قرار پائے ہیں۔ امیر غریب،ملزم قاضی،ماتحت افسر حاکم اور محکوم سبھی کمزور اور عاجز نظر آرہے ہیں۔پریشان تو سبھی ہیں لیکن سب سے زیادہ پریشان حال وہ غریب طبقہ ہے جن کی زندگی روز مرہ کی مزدوری پر چل رہی تھی جو دن بھر محنت مزدوری کرکے اپنا اور اپنے اہل خانہ کا پیٹ بھرتے تھے وہ آج کورونا کے سبب چل رہے کرفیو یا لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنے خاندان کا تو دور خودکا بھی پیٹ بھرنے سے قاصر ہیں،اکثر تو وطن سے دور دیارِ غیر میں پھنس کر رہ گئے ہیں لاک ڈاؤن کی وجہ سے کام بند ہونے کے سبب شہروں کی ہر ایک شاہراہ پر ہزاروں داستانیں بکھری پڑی ہوئی ہیں، جنہیں کورونا کا تو خوف شاید ہو یا نہ ہو لیکن بھوک کی شدت سے زندگی کھو دینے کا خوف شدت سے ستا رہا ہے۔ جو آس بھری نظروں سے آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ خدا ان کو یا تو ان کے گھر پہنچا دے یا ان کے رہنے اور کھانے کا انتظام کردے۔
دوسری طرف پوری دنیا میں قیامت سے پہلے قیامت کا سامنظر ہے،ہر شخص ایک دوسرے سے بھاگ رہا ہے ایک دوسرے کے قریبی ہونے کے باوجود فاصلے بنانے پر مجبور ہیں،آج زندگی کی اہمیت ہر ایک کو نظر آرہی ہے،آج ہر کسی کو صرف اپنی جان کی پڑی ہوئی ہے ،نہ جانے کتنے مریض ایسے ہیں جو بھرا پرا خاندان رکھنے کے باوجود تنہائی کا شکار ہیں،صرف اس ڈر سے گھر والے مریض کے قریب جانے کو تیار نہیں کہ کہیں ان کو بھی یہ وائرس نہ لگ جائے،کہیں وہ بھی اس بیماری کا شکار نہ ہوجائیں۔آج سے پہلے دنیا کا ایسا حال کبھی ہم نے نہیں دیکھا ہوگا کہ ماں بچے سے میاں بیوی سے بھائی بھائی سے بہن بہن سے امام نمازی سے نمازی امام سے عاشق معشوق سے ڈر رہے ہیں۔ جہاں کسی کو ایک معمول کی چھینک آنے پر بھی ہم شک کی نظر سے دیکھنے لگ جاتے ہیں کہ کہیں اسکو کورونا تو نہیں ہوگیا؟ اور جو واقعی اس مرض میں مبتلا ہیں ان کو انکے اہل خانہ مجبوری میں ہی سہی خود سے دور رکھ کر اپنی زندگی کی فکر میں مبتلا ہیں۔ جن اپنوں کی خاطر انسان پوری زندگی داؤ پر لگا دیتا ہے آج وہی اپنے کسی کام نہیں آرہے۔
کورونا کامثبت پہلو یہ تھا کہ دراصل یہ کورونا رجوع اللہ کا بہترین ذریعہ ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیر کی بھی ضرورت ہے۔ ان دونوں کا دامن تھام کر اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے ’’ جب جب امت غفلت کا شکار ہوگی رب کی طرف سے ایسے جھٹکے تو آئینگے ہی، وہ کہتے ہیں نہ کہ اس کی طرف طوعاً چلے جاؤ ورنہ وہ کرھاً اپنی طرف بلائے گا‘‘۔اس آیت کے تناظر میں ہمیں اس مصیبت یا عذاب سے مل رہے رجوع الی اللہ کے مواقع کو اپنے لئے زاد راہ سمجھنا چاہئے اور توبہ استغفار کرکے اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہئے۔
رابطہ :براری پورہ ہندوارہ،موبائل : 8887899412