وباء کے ان حالات میں جموںوکشمیر میںکیا کچھ ہورہاہے ،اس بارے میں کچھ زیادہ سننے کو نہیں مل رہا ہے۔لیکن ایسے حالات میں بھی جب وہاں کے لوگ کورونا وائرس کے پھیلائو پر فکر مند ہیں،ہندوتوا حکمران جموںوکشمیر کی یونین ٹریٹری کا ڈیزائن بنانے میں مصروف ہیں۔کشمیر کے عوام کیلئے حقوق دبانے میں کوئی کمی نہیں آئی ہے جس کا انہیں اگست2019سے سامنا ہے۔
جموںوکشمیر کا لاک ڈائون بھارت کے لاک ڈائون سے پہلا آیا جو مکمل 8ماہ تک رہا۔وہ لاک ڈائون کسی وباء یا طبی ایمر جنسی کی وجہ سے نہیں ہوا۔یہ ایک سیاسی لاک ڈائون تھا جس کے ساتھ جموںوکشمیر کے عوام کے آئینی اور جمہوری حقوق پر شب خون مارا گیاجس کے نتیجہ میں مودی حکومت کے ذریعے ریاست اوردفعہ370کے تحت حاصل اس کی خصوصی پوزیشن کو ختم کردیاگیا۔یہ یلغار بنیادی حقوق اور شہری آزادیوں پر مکمل قدغن ،ہزاروں سیاسی لیڈروں و کارکنوںکی نظربندی ،انٹرنیٹ کی بندش اور پریس کی آزادی سلب کرنے اور سکول و عوامی نقل و حمل کی بندش کے ساتھ آئی۔
دوسرے لاک ڈائون ،جو باقی ہندوستان میں25مارچ کو شروع ہوا ،یلغار میں تیزی لائی گئی۔ایک ایسے وقت جب لوگ وائرس سے لڑ رہے ہیں،یوٹی انتظامیہ ،جو براہ راست مرکزی وزارت داخلہ چلا رہی ہے ،آبادیاتی تناسب کیلئے بنیادیں استوار کرکے کشمیری شناخت ختم کرنے کے درپے ہے۔مستقبل کی بے اختیار اسمبلی کیلئے اسمبلی حلقوںکی حدبندی اورایک کٹھ پتلی سیاسی جماعت کو سامنے لانے کی خاطر سیاسی سیٹ اپ کی سر نو شیرازہ بندی کیلئے جاریہ سیاسی پروجیکٹ پر بھی کام چل رہا ہے۔
کورونا وباء سے نمٹنے والی انتظامیہ عوامی مشکلات سے مکمل طور لاتعلق ہے ۔تاحال جتنی تعداد میں لوگ مثبت قرار دئے گئے ہیں ،وہ آبادی کے لحاظ سے دیگر بیشتر ریاستوںسے کہیں زیادہ ہے۔طبی نظام وباء سے نمٹنے کیلئے افسوسناک حد تک نامعقول ہے ۔ایسی خبریں آرہی ہیں کہ 7ملین کی آبادی والی وادی میں صرف97وینٹی لیٹر ہیں۔لاک ڈائون کے دوران فراہم کیاجانے والا اقتصادی ریلیف بھی نہ ہونے کے برابر ہے جو ملک کی دیگر ریاستوںکی نسبت بہت کم ہے۔سطح افلاس سے نیچے گزر بسر کرنے والے کنبوںکیلئے مفت راشن اور تعمیراتی ورکروں کیلئے کنسٹریکشن ورکرس ویلفیئر فنڈ سے فی کس ایک ہزار روپے کی امداد کا اعلان کیاگیا ہے اور اس پر بھی جزوی عملدرآمد ہوا ہے۔روزگار سے محروم ہونے والے ہزاروں مزدوروں اور کاریگروں کیلئے کوئی نقدی امداد نہیں ہے اور نہ ہی غریب کنبوں کیلئے انکم سپورٹ کا کوئی دوسرا طریقہ۔
پہلے لاک ڈائون نے پہلے ہی سیاحت اور دستکاری شعبہ میں ہزاروں لوگوںکوبیروزگار کردیاتھا۔باغبانی سیکٹر میں سیب اور زعفران کو ناسازگار موسمی حالات او ٹرانسپورٹ سہولیات و مارکیٹنگ کی عدم دستیابی کی وجہ سے بے پناہ نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔اب دوسرے لاک ڈائو ن نے اس بحران اور نقصان کو مزید سنگین بنادیا ہے۔اسکے باوجود مرکز کے زیر انتظام علاقہ کے حکام عوام کو پولیس کی لاٹھی سے ہانکنے اور اختلاف رائے کی تمام علامات کوجڑسے اکھاڑ پھینکنے پر اپنی ساری توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔
گزشتہ دنوں تین صحافیوں کو نشانہ بنایاگیا۔ان میں سے ایک خاتون فوٹو صحافی مسرت زہراکیخلاف غیر وضاحت شدہ فیس بک پوسٹ پرکالے قانون UAPAکااطلاق کیاگیا ہے ۔دیگر دو کے خلاف بھی کیس درج کئے گئے ہیں۔کشمیر میں مرکزی حکومت یا مودی اور شاہ کی تنقید کرنا صحافیوں کیلئے دہشتگردی کے الزامات عائد کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔
میڈیا پر یہ قدغن اس وقت عمل میںلائی جارہی ہے جب وادی میں آبادیاتی تناسب تبدیل کرنے کے عمل کیلئے زمین ہموار کرنے کی خاطر ایک بہت بڑا قدم اٹھایاگیا ہے۔یکم اپریل کو جاری کئے گئے ایک اعلامیہ نے جموںوکشمیر میں ڈومیسائل کی حیثیت ہی تبدیل کردی ہے ۔اس سے قبل جموںوکشمیر کی اسمبلی ہی فیصلہ کرسکتی تھی کہ پشتینی باشندے کون سکتے ہیں۔وہ اب تبدیل ہوچکا ہے اور ڈومیسائل کی حیثیت اب انتظامی سطح پر بھی دی جاسکتی ہے۔قوانین تبدیل کئے گئے ہیں تاکہ کوئی بھی ایسا شخص ،جو جموںوکشمیر میں15سال تک رہا ہو ،ڈومیسائل کیلئے دعویٰ کرسکے۔اسی طرح اگر کوئی مرکزی حکومت یا مرکزی حکومت کے زیر نگراں نیم خودمختار اداروں کا ملازم وہاں دس تک رہا ہے ،وہ بھی ڈومیسائل کا حقدار بن جاتا ہے اور ویسے ہی اُس کے بچے بھی۔نوٹیفکیشن میں کہاگیا ہے کہ درجہ چہارم نوکریاں ڈومیسائلو ںکیلئے مخصوص ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اس یونین ٹریٹری کے باہر کے لوگ بھی اب وہاں نوکری کیلئے درخواستیں دے سکتے تھے۔اس نوٹیفکیشن پر جموںسمیت سماج کے سبھی طبقوں نے برہمی کا اظہار کیااور نتیجہ کے طور پر دو روز بعد قوانین میں تبدیلی کی گئی اور سبھی زمروں کی حکومتی نوکریاں ڈومیسائل ہولڈروںکیلئے مخصوص رکھی گئیں تاہم اس سے ڈومیسائل کی وضاحت تبدیل نہ ہوئی۔اس نئے قانون کے ذریعے جموں وکشمیر سے باہر کے لوگ وہاں ڈومیسائل حاصل کرسکتے ہیں اور پھر سرکاری نوکریاں پانے کے علاوہ زمین بھی خرید سکتے ہیں۔اس سے اُن سبکدوش ملازمین کیلئے دروازے کھل جاتے ہیں جو وہاں رہائش پذیر ہوکرزمین خرید کرسکتے ہیں جو دراصل بی جے پی اور آر ایس ایس کا بنیادی منصوبہ تھا۔
ان اقدامات کو عملیانے کیلئے لاک ڈائون کو استعمال کیاجارہا ہے ۔جموں وکشمیر میں موجود آمرانہ بیروکریٹک نظام کوایک غالب قوت کے طور برتائو کرنے کیلئے استعمال کیاجارہا ہے۔زیر نظربند ہزاروں لوگوں کو بیرونی جیلوں میں بند رکھاگیا جن میںسے بیشتر اتر پردیش اور ہریانہ کے جیلوں میں مقید ہیں۔کورونا وباء پھیلنے کے بعد ان کی رہائی اور وادی واپسی کا مطالبہ کیاجارہاہے۔گزشتہ ایک ماہ سے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بندی کے حکم ناموںکی تنسیخ کا عمل شروع کیاگیا اور یوپی و ہریانہ جیلوں میں مقید چند سو لوگوں کی رہائی کا حکم نامہ صادر کیاگیالیکن یہاںبھی انسانیت غائب ہی ہے ۔اتر پردیش میں قیدیوں سے کہاگیا کہ ان کے اہل خانہ رہائی کا حکم نامہ لیکر آنے چاہئیں اور انہیں کشمیر واپسی کیلئے ٹرانسپورٹ کا انتظام بھی خود کرلینا چاہئے۔درجنوں ایسے کنبوں کو اتر پردیش سڑک کے راستے جانے میں بے پناہ مشکلات سے دوچار ہونا پڑا۔اس عمل میں انہیں بین ریاسی بندشوں سے گزرناپڑا اور گاڑیوں کے حصول کیلئے بہت زیادہ پیسہ صرف کرنا پڑا۔انہیں حکومت نے نظر بند کیاتھا اور انہیں باہر کی جیلوں سے واپس لانا بھی حکومت کی ہی ذمہ داری تھی تاہم ایسا نہ ہوسکا۔
اسی اثناء میں کشمیر میں ملی ٹینسی واقعات اور حملوں میں اضافہ ہوا ہے جس کا خدشہ بیجا نہ تھا کیونکہ جمہوری حقوق ظالمانہ انداز میں سلب کئے جارہے تھے۔کسی سیاسی عمل یا جمہوری سرگرمیوںکی عدم موجودگی میں ریاست یعنی حکومت تشدد اور جوابی تشدد کے خوفناک سائیکل سے دوچار کرتی ہے جس میں عام لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔اب حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ کشمیر کے لوگ اُن دو وبائوں میں تمیز کرنے سے قاصر ہیں جس کا انہیں فی الوقت سامنا ہے اور یہ دو وبائیں کورونا وائرس اور جمہوری حقو ق کی سرکوبی ہیں۔
(پرکاش کرأت سی پی آئی ایم کے پولٹ بیورو ممبر ہیں)