جہاں آج پوری دنیا کورونا کی وباء سے جنگ لڑ رہی ہے، وہیں ہندوپاک کی سرحدیں ابھی بھی گولہ باری کی سماعت شکن آوازوں سے گونج رہی ہیں! ۔ایک طرف ساری دنیا محاصرے میں ہے اور دوسری طرف یہ دونوں ملک سرحدوں پہ سینہ تان کے کھڑے ہیں۔ پچھلے کئی دنوں سے مرکزی زیر انتظام علاقہ جموں کشمیر کے ضلع پونچھ کے بالا کوٹ سیکٹر ، ضلع کپواڑہ کے کیرن سیکٹر ، بارہمولہ کے اوڑی سیکٹر ، راجوری کے نوشہرہ سیکٹر اور کٹھوعہ کے سرحدی علاقوں میں دو طرفہ گولہ باری سے سرحدی آبادی کو جانوں کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا دو ممالک چاہتے ہیں؟کیا اب بھی ان کو احساس نہیں کہ کیسے موت اس وقت پوری دنیا کا پیچھا کررہی ہے اور یہ اس حقیقی موت سے بچنے کی بجائے سامان حرب و ضرب سے سرحدی آبادی کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اپنے آپ کو دنیا کاسپر پاور کہلانے والے امریکہ نے بھی کورونا قہر کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں لیکن ہند و پاک ابھی بھی اپنے ذاتی جھگڑوں اور مفاد میں ہتھیاروں سے لیس ایک دوسرے کو زک پہنچانے کے فراق میں ہیں۔اگرہندوپاک اب بھی نہیں سمجھیں گے تو آخر کب سمجھیں گے؟ چین، اٹلی، فرانس ،سپین جیسے ٹیکنالوجی اور معاشی اعتبار ہندوپاک سے کہیں ترقی یافتہ ممالک بھی اس وقت کورونا جیسی وباء کے آگے دم توڑ رہے ہیں ۔ترکی اور سعودی عرب جیسی مستحکم معیشتیں بھی کورونا کے عتاب کا نشانہ بنی ہوئی ہیں۔
حد متارکہ پر عام زندگی ہر دن خوف میں گزرتی ہے کہ نہ جانے کب اور کس گولی پہ کس کا نام ہوگا، عام لوگوں کو کورونا جیسی تباہ کن اور خطرناک وباء کا کوئی خوف نہیں، بلکہ وہ تو رات رات بھر اپنی کچی چھتوں والے گھروں کے نیچے بال بچوں کو لے کر دُبکے رہتے ہیں اور اس ڈر میں بیٹھے رہتے ہیں کہ اب گولی آئی کہ تب آئی۔ ان بیچاروں کو تو یہ بھی فکر نہیں کہ اگر کھانے کو گھر میں کچھ نہ ہوا تو کیا کھائیں گے۔ ان کو تو بس یہ فکر ستاتی رہتی ہے کہ پتہ نہیں کب گولی آ لگے گی اور مر جائیں گے ، بھوک کا احساس تو گولی کے ڈر نے بالکل مارہی دیا ہے۔یہ لوگ اِس ڈر میں ہیں کہ کہیں کھانے کا نوالہ ہاتھ میں ہی نہ رہ جائے اور گولہ ہمیں ہی نہ کھا لے ۔
سبھی ممالک اس وقت آپسی رنجشیں بھلا کر دنیا میں پھیلے کورونا کے قہر سے نپٹنے کی تدابیر ڈھونڈ رہے ہیں۔ایران اور امریکہ جو پچھلے کچھ عرصے میں جنگ کے دہانے پہ کھڑے تھے، انہوں نے بھی اپنے جنگی جھنڈے جھکا دئیے ہیںاور زندگی کی جنگ جیتنے کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ان دونوں ممالک میں آئے دن کورونا وباء سے متاثر ہ افرادکی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ لوگوں کو لاک ڈاؤن کی وجہ سے کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ لوگ بیماری سے ، بھوک سے اور خوف سے مر رہے ہیں لیکن جموں کشمیر کے سرحدی علاقوں کے لوگ ہندوپاک افواج کی شلنگ سے مر رہے ہیں۔ بے گناہ کمسن بچے ، عورتیں، جوان ، بزرگ مرد اوربے زبان جانوروں کو یہ گولہ باری آئے دن چھلنی کرتی جا رہی ہے۔
دنیا میں سب سے خطرناک ترین جگہ کون سی ہے؟ برسوں پہلے اس سوال کا جواب سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے دیا تھا۔ اس نے زور دے کر کہا تھا کہ دنیا کی سب سے خطرناک ترین جگہ کشمیر کی لائن آف کنٹرول ہے۔ برسوں بعد آج بھی یہ بات درست ہے۔ یہ خونی لکیر آج بھی جوں کی توں موجود ہے اور خونی کھیل جاری ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ س کی وحشت ناکی میں کئی گنااضافہ ہوا۔ یہ اب ایک ہیبت ناک جگہ ہے، جہاں ہندو پاک کی افواج ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی رہتی ہیں۔ جہاں اکثر گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور گولوں کی گن گرج سنائی دیتی ہے۔ جہاں آئے دن کسی نہ کسی بے گناہ کا خون ہوتا رہتا ہے۔ آئے دن کوئی غریب خانہ بدوش، کوئی فاقہ مست کسان، کوئی لاچار و مجبور اور بے کس اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ کئی لوگوں کے گھروں کو گولہ باری سے نقصان پہنچتا ہے اور کئی ایک کوزیر زمین بنکروں میں پناہ لینی پڑتی ہے تاہم اکثر جگہیں بنکروں سے خالی ہیں۔اُوڑی جیسی کئی جگہیں ہیں جہاں بنکروں کا نام و نشان نہیں۔
کہنے کو تو یہ ایک لکیر اور انگریزی کے دو لفظوں کا مجموعہ ہے۔ لیکن ان دو لفظو ں میں انسانیت کو درپیش المیوں ، المناک داستانوں اوردکھ و فراق کاایک جہاں آباد ہے جو سسک سسک کر اور بِلک بِلک کر اپنی داستان بیان کر رہے ہیں۔ یہ مشکلات اور مسافتوں کی کوکھ سے جنم لینے والی ایک کہانی ہے، جو گزشتہ 73برسوں سے رقم ہو تی چلی آ رہی ہے اور مستقبل قریب میں بھی یہ آخری موڑ مڑتی نظر نہیں آتی۔یہ لکیر صرف ایک قطعہ زمین اور اس پر بسنے والے انسانوں کو ہی تقسیم نہیں کرتی بلکہ یہ کئی تہذیبوں،خونی رشتوں، انسانی جذبوں اور میل ملاپ کے خوابوں کو بھی ایک نوکدار خنجر اور خاردار تار سے جدا کرتی ہوئی آگے بڑھتی ہے۔اِس خونی لکیر کا رنگ جوں ہی ماند پڑتا ہے توفائرنگ کا ایندھن صرف انسانی جانیں ہی نہیں بلکہ بے زبان جانور بھی بنتے ہیںاور یہ لکیر پھر رنگین ہو تی جاتی ہے۔ گھر ماتم کدے بن گئے ہیں، آئے روز شہادتیں ہو رہی ہیں،کھڑی فصلیں، مویشی ،دکانیں سب کچھ گولہ باری کی زد میں ہیں۔لڑائی سے حاصل شُدہ تباہی کی ہزاروں داستانیں ہمارے سامنے بھی ہیں لیکن پھر بھی دونوں طرف مزید نقصان کے لئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔جوپیسہ انسانی جانیں لینے کے لئے ضائع ہو رہا ہے ، اُسی پیسے سے انسانی جانیں بچائی بھی تو جا سکتی ہیں؟۔کاش یہ دونوں طرف کے حکمرانوں کے دلوں میں اتر جائے یہی بات !
رابطہ : کلر راجوری جموں و کشمیر
ای میل: [email protected]