حال ہی میں نیشنل ہائیڈرو پاور کارپوریشن یا NPHCنے کہا کہ 1997میں چالو ہونے سے اب تک اوڑی اول پن بجلی پروجیکٹ سے سالانہ سب سے زیادہ بجلی پیدا ہوئی۔یہ جموںوکشمیر کیلئے بھی اچھی خبر تھی کیونکہ جب بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوتا تو ہمیں ملنے والی 12فیصدمفت بجلی میں بھی اضافہ ہوناطے تھا۔اوڑی اول پروجیکٹ کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کو جہلم میں پانی کی مقدار میں اضافہ سے جوڑا گیا۔ایسا ہی معاملہ یونین ٹریٹر ی میں قائم دیگر پن بجلی پروجیکٹوںکے ساتھ بھی ہوا جہاں ایسے ہی وجوہات کی بناء پر اندازوں سے زیادہ بجلی پیدا ہوئی۔تاہم پیداوار میں اضافہ ہونے کے باوجود بھی جموںوکشمیر کے بجلی صارفین کو بادی النظر میں حکومت کی جانب سے مہذب اندا ز میں ایجاد کی گئی اصطلاح ’’لوڈ شیڈنگ‘‘سے کوئی راحت نصیب نہیں ہورہی ہے۔صارفین کو ابھی بھی متواتر بجلی کٹوتی کا سامنا ہے اور بدقسمتی سے سابق سال کی نسبت امسال خاص کر سردیوں میں بجلی کٹوتی طویل ،بار بار اور پریشان کن رہی ہے۔محکمہ بجلی کی جانب سے مشتہر کئے گئے کٹوتی شیڈول پر کبھی بھی مکمل طور عملدرآمد نہ ہوا اور صارفین کو مشتہر شدہ شیڈول کے مقابلے میں کہیں زیادہ بجلی کٹوتی کا سامنا کرناپڑا۔
لوڈ شیڈنگ کے اس دائمی منظر نامہ میں یہ دیکھنے لائق ہے کہ جموں وکشمیر ،جو پہلے ریاست تھی اور اب یونین ٹریٹری تک سکڑ چکی ہے ،دیگر ریاستوں اور یونین ٹریٹریوں کی نسبت سب سے زیادہ بجلی طلب (Peak Demand)میں کہاں کھڑا ہے۔2019-20کے اعداد وشمار کا سرسری جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ جموںوکشمیر کی سالانہ سب سے زیادہ طلب کل ہند طلب کا محض 1.8فیصد تھا۔کل ہند سطح کی1لاکھ84ہزار میگاواٹ سب سے زیادہ طلب کے مقابلے میں جموںوکشمیر کی طلب محض3400میگاواٹ تھی۔
تاہم جب ہم ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کی صورتحال پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں تو کوئی بھی یہ دیکھنے سے نہیں رہ سکتا کہ تمام ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں جموںوکشمیر میں سب سے زیادہ طلب اور سب سے زیادہ سپلائی میں سب سے زیادہ کمی تھی۔سال2019-20 میں جموںوکشمیر میں سالانہ سب سے زیادہ ڈیمانڈ اور سب سے زیادہ کھپت میں فرق681میگاواٹ تھی جو کل ہند سطح پر تقریباً54فیصد کی کمی ظاہر کرتا ہے۔لہٰذا جموںوکشمیر سالانہ سب سے زیادہ طلب میں محض1.8فیصد کا حصہ دار ہے جبکہ کل ہند سطح پر سب سے زیادہ کمی یا خلیج میں اس کا حصہ تشویشناک حد تک54فیصد ہے۔اتنا زیادہ فرق یقینی طور پر تشویشناک ہے۔
یہ ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک ایسی ریاست ،جس کو1905میں بھارت میں پہلا پن بجلی پروجیکٹ (4میگاواٹ مہورا پن بجلی پروجیکٹ ،بارہمولہ)چالو کرنے کا امتیاز حاصل تھا،کوآج ملک کی سبھی ریاستوں اور یونین ٹریٹریوں میں سب سے زیادہ بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔681میگاواٹ بجلی کی کمی کے ساتھ جموںوکشمیر ملک میں پہلے نمبر پر ہے جبکہ دو سرے نمبر پر اترپردیش ہے جہاں اوسط اعلیٰ طلب ہمارے مقابلے میں سات گنا زیادہ ہے۔
ملک گیر سطح پر بجلی سیکٹر کے ڈاٹا کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ بھارت توانائی میں اب خود کفیل ہے (دونوں پیداواری صلاحیت اور بجلی سپلائی میں)۔ایسے منظر نامہ میں یہ تلخ حقیقت کہ جموںوکشمیر میں ابھی بھی طلب اور سپلائی میں وسیع خلیج ہے ،ایک اہم سوال اجاگر کردیتا ہے کہ کیوںکر جموںوکشمیر میں ابھی بھی سب سے زیادہ طلب اور سپلائی میں اس قدر خلیج ہے جس کے نتیجہ میں جموںوکشمیر میں بھاری بجلی کٹوتی کرناپڑرہی ہے۔جب طلب سے ہم آہنگ کرنے کیلئے پیداوار میں کمی کی جائے تو ا سکا مطلب ہے کہ کسی بھی ریاست یا یونین ٹریٹری میں بجلی کٹوتی کی ضرورت نہیں ہے ۔اگر استعمال کنندہ ادائیگی کیلئے تیار ہے تو اسے توانائی خریدنے کے اہل ہونا چاہئے۔
مارچ 2020میں جموںوکشمیر میں بجلی کی طلب سب سے زیادہ3400میگاواٹ تک پہنچ گئی۔اس کا مطلب ہے کہ گزشتہ دس برسوں میں سب سے زیادہ طلب میں50فیصد اضافہ ہوا ہے۔طلب میں خاص طو ر گزشتہ تین چار برسوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔گزشتہ تین برسوں میں سالانہ طلب میں 10فیصد اضافہ ریکارڈ کیاگیا۔یہ اوسط سالانہ اضافہ ،سب سے زیادہ طلب کی پیشگوئی کرنے کیلئے توانائی کی منصوبہ بندی میں سالانہ اوسط شرح کی نسبت غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔
مارچ میں سب سے زیادہ طلب کی نسبت جو سپلائی کی گئی ہے ،وہ طلب کی نسبت 20فیصد کم تھی۔جب ہم گزشتہ کئی برسوں ماہانہ طلب پوری کرنے کے اعدادوشمار کاجائزہ لیتے ہیں تو ہم آسانی سے دیکھ سکتے ہیں کہ ان تمام مہینوں میں سب سے زیادہ سپلائی اسی شرح پر رہی ہے ،یعنی سب سے زیادہ طلب کی نسب20فیصد کم ۔جب زیادہ سے زیادہ طلب کم سے کم2500میگاواٹ اور زیادہ سے زیادہ 3400میگاواٹ تھی ،تاہم 20فیصد خلیج کی شرح متواتر طور اور بطور عقیدہ ان تمام برسوںمیں برقرار رکھی گئی ہے۔سیدھے سادھے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ زیادہ سے زیادہ سپلائی ہمیشہ زیادہ سے زیادہ طلب سے ہم آہنگ رہی ہے اور یہ سپلائی بھی اسی شرح سے بڑھتی چلی گئی جس شرح سے طلب بڑھتی چلی گئی ۔نتیجہ کے طور پر اتنے برسوں میں جو خلیج تھی ،وہ وہیں کی وہیں رہی ہے۔
موسمیاتی سیزنوں کے برعکس اس خلیج کو برقرار رکھاگیا ہے حالانکہ پن بجلی پروجیکٹوں سے پیداوار مختلف مہینوںمیں مختلف رہتی ہے۔بجلی پیداوار میں اس سیزنل تفاوت کی ایک مثال کے طور ہمارے پن بجلی پروجیکٹوں(دونوں جموںوکشمیر سٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور این ایچ پی سی پروجیکٹ) سے ماہانہ پیداوارسردیوںکے سیزن (نومبر تافروری)محض60کروڑ یونٹ ہے جودریائوں میں پانی کے بہائو میں اضافہ کے مہینوں(مئی تا اگست )میںساڑھے تین گنا اضافہ کے ساتھ220کروڑ یونٹ فی ماہ تک پہنچ جاتی ہے تاہم ان دونوںسیزنوں میں سب سے زیادہ طلب اور سب سے زیادہ سپلائی کے درمیان 20فیصد خلیج کو برقرار رکھا جاتا ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوںکرگزشتہ کئی برسوں(ستمبر2016سے)ہر ماہ خلیج کی اسی شرح کو برقرار رکھاجارہا ہے حالانکہ ان برسوں میں طلب میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے ۔یہ معاملہ دلچسپ ہی نہیں بلکہ حیرتناک بھی ہے۔وقتاً فوقتاً صارفین کو یہ کہانیاں سنائی گئیں کہ سابق ریاست خاص کر کشمیر وادی میں ترسیلی نظام اس قدر معقول اورمناسب نہیں تھا کہ زیادہ سے زیادہ طلب پوری کی جاسکے اور یہ کہ حکومت بجلی کی طلب پورا کرنے کیلئے ترسیلی نظام کو اپ گریڈ کررہی ہے۔گوکہ حکومتی بیانیہ کے اس حصہ سے کسی کواعتراض نہیں ہے ،تاہم جو سوال ذہن میں ابھر کرآتا ہے ،وہ یہ ہے کہ اگر موجود ترسیلی نظام آسانی سے 2750میگاواٹ لوڈ برداشت کرسکتا ہے (20مارچ کو سب سے زیادہ اتنی بجلی سپلائی ہوئی ہے)تو اس 2750میگاواٹ کی سپلائی کو پورے سال برقرار کیوں نہیں رکھاگیا ؟۔
چلیں ،کسی ایک سال کیلئے زیادہ تفصیل سے معاملات کو دیکھتے ہیں۔مثال کے طور سال2019-20ہی لیجئے۔اگر20مارچ کی سب سے زیادہ سپلائی کو ہی زیر بحث سال میں برقرار رکھاگیا ہوتاتو کچھ ماہ میں بالکل ہی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی اور کچھ ماہ میں لوڈ شیڈنگ 5فیصد سے بھی کم ہوتی اور صرف 4ماہ میں خلیج10فیصد سے زیادہ رہتی ۔سال بھر کی مجموعی خلیج پھر بھی موجودہ خلیج کا عشر عشیر نہیںہوتی۔انسان یہ سوچ کر حیران و پریشان ہوجاتا ہے کہ کیوںکر ماہ در ماہ او ر سال در سال گزشتہ کئی برسوں سے بالکل 20فیصد پر برقرار رکھاگیا ہے۔کسی کے فائدہ کیلئے اور یہ جاننا بھی بہتر ہوتاہوگا کہ وہ فائدہ کیا ہے کہ ہمیں بجلی کیلئے ترسایا جارہا ہے۔
ایک وضاحت جو کسی کے بھی دماغ میں آسکتی ہے ،کا تعلق ہمارے بھاری بجلی نقصانات سے ہے چاہئے وہ کمرشل ہوں،ترسیلی یا تقسیم کاری۔چونکہ جموںوکشمیر کو ملک میں سب سے زیادہ ترسیلی ،تقسیم کاری اور کمر شل نقصانات رکھنے کا طرہ امتیاز حاصل ہے،شاید اسی وجہ سے حکومت نے دانستہ طور فیصلہ لیا ہے کہ سب سے زیادہ سپلائی(peak Met)کو محدود رکھاجائے اوریہ کبھی بھی سب سے زیادہ طلب(Peak demand)سے ہم آہنگ نہیں ہونی چاہئے تاکہ نقصان کو کم کیاجاسکے ۔بصورت دیگر اس 20فیصد پُر اسرار خلیج کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے۔