جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلیٰ پروفیسر بھیم سنگھ نے آل انڈیا ریڈیو (اے آئی آر) کی صبح اور شام کی ہندی اور انگلش کی قومی خبروں کے اختتام پر ہندستان کے تمام اہم خطوں کی موسمیاتی رپورٹ میں گلگت (پاکستان) اور مظفر آباد (پاک مقبوضہ کشمیر) کی موسمیاتی رپورٹ پیش کرنے اور آسام، منی پور اورناگالینڈ (مشرقی خطہ )کی موسمیاتی رپورٹ کو نظر انداز کرنے پر حیرت ظاہر کرتے ہوئے مرکزی حکومت ا س کا جواز دینے کی درخواست کی ہے۔پارٹی کی اسٹیٹ لیگل ایڈ کمیٹی، جموں وکشمیر نیاتوار کے روز جموں میں ایک ہنگامی میٹنگ میں فیصلہ کیا کہ وہ ہندستانی آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کی حفاظت کے لئے سپریم کورٹ جائے گی۔ میٹنگ میں کہا گیا کہ جموں وکشمیر کے درجہ کو کم کرکے اسے مرکز کے زیرانتظام ریاست میں تبدیل کردیا گیا جو ہندستانی حکومت کی غیرآئینی، غیرقانونی اور بدنیتی پر مبنی کارروائی ،ہے جسے مہاراجہ گلاب سنگھ نے 1846میں قائم کیا تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جموں وکشمیر کا نصف سے زیادہ حصہ 1948سے پاکستان اور چین کے غیرقانونی اور غیرآئینی قبضہ میں ہے ۔ پروفیسر بھیم سنگھ نے ریاست کے تقریباًً 84000مربع میل علاقہ پر غیرقانونی قبضہ کے معاملہ میں ہندستان کے صدر جمہوریہ رامنا تھ کووند سے فوری طورپر مداخلت کرنے کی اپیل کی ۔ انہوں نے حیرت ظاہر کی کہ کس طرح بی جے پی کی سربراہی والی مرکزی حکومت ریاست کے تقریباً نصف حصہ پر پاکستان اور چین کے سامنے خودسپردگی کرسکتی ہے۔ بیان کے مطابق انہوں نے الحاق نامہ، جموں وکشمیر کے علاقہ گلگت ۔بلتستان پر پاکستان کے غیرقانونی قبضہ پر ہندستانی حکومت کے پارلیمنٹ کے اندر اور اقوام متحدہ میں خاموش رہنے پر حیرت کا اظہار کیا۔پروفیسر بھیم سنگھ نے آل انڈیا ریڈیو کے ذریعہ مشرقی خطہ (آسام، ناگالینڈ اور منی پور) کو نظرانداز کرنے اور مظفر آباد (پاک مقبوضہ کشمیر) اور گلگت (جس پر پاکستان نے 1947میں جموں وکشمیر پر الحاق نامہ پر دستخط کرنے کے بعد قبضہ کیا تھا) پر موسمیاتی رپورٹ دینے کے تعلق سے ہندستان کے صدر جمہوریہ اور پارلیمنٹ کے اسپیکر کو بھی ایک خط لکھا ہے۔