جموں //لیفٹنٹ گورنر کے مشیر کے کے شرما نے کہا کہ حکومت مقامی صنعتکاروں کی مدد اور کووڈ – 19 وباء کے سبب انہیں درپیش مشکلات کا ازالہ کرنے کیلئے پُر عزم ہے ۔مشیر جموں اور کشمیر کی صنعتی انجمنوں کے ساتھ تبادلہ خیال کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے ۔ انہوں نے کووڈ 19 وباء کے تناظر میں یو ٹی میں تاجروں کو درپیش مسائل کے تجزئے اور ازالے کیلئے یہ اجلاس طلب کیا تھا ۔فائنانشل کمشنر خزانہ ، ڈائریکٹر صنعت و حرفت جموں ، کمشنر سٹیٹ ٹیکسز، ڈائریکٹر جیالوجی اینڈ مائیننگ ، ایکسائیز کمشنر میٹنگ میں موجود تھے جبکہ ڈائریکٹر صنعت و حرفت کشمیر نے کشمیر انڈسٹریز کے نمائندگان کے سمیت اجلاس میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شرکت کی ۔مشیر نے صنعتی انجمنوں کے ساتھ تبادلہ خیال کے دوران انہیں یقین دلایا کہ کووڈ وباء کے سبب انہیں درپیش مسائل کے ازالہ کیلئے حکومت پُر عزم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی اور دیگر شعبے دُنیا بھر میں اس وباء سے متاثر ہوئے ہیں اور جموں کشمیر یو ٹی میں صنعتی شعبے کو درپیش مسائل کے حل کیلئے اقدامات جاری ہیں ۔مشیر شرما نے ملک بھر بالخصوص جموں کشمیر میں کووڈ 19 وباء سے پیدا شدہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے محکمہ صنعت و حرفت کے کمشنر سیکرٹری کی نگرانی میں محکمہ کی جانب سے لاک ڈاؤن کے دوران صنعتکاروں کے مسائل کے ازالے کیلئے فعال کردار ادا کرنے کیلئے سراہا ۔صنعتی شعبے کے نمائندگان نے کووڈ لاک ڈاؤن کے دوران انہیں درپیش مسائل مشیر کے غوش گذار کئے ۔چئیر مین فیڈریشن آف انڈسٹریز جموں للت مہاجن نے صنعتی شعبے کو واپس اداکی جانے والی جی ایس ٹی رقم کی واگذاری ، بجلی اور کارکنوں کی تنخواہوں پر فکسڈ ڈیمانڈ چارجز میں چھوٹ سے متعلق معاملات اٹھائے ۔ انہوں نے صنعتوں کیلئے ٹرن اوور پر مبنی رعایت کیلئے مالی پیکیج اور چھوٹے اور درمیانہ درجے کی صنعتوں کیلئے بجٹ امداد طلب کی ۔ایسوسی ایشن آف انڈسٹریز کے رتن ڈوگرہ نے مقامی سرکاری خریداری میں مقامی صنعتوں کو ترجیح دینے اور 31 مارچ 2022 تک جی ای ایم پورٹل پر خریداری لازمی قرار دینے کو التوا میں رکھنے کے معاملات اٹھائے ۔پی ایچ ڈی سی سی آئی کے وزیر اور ایسوسی ایشن آف انڈسٹریز سانبہ کے وجے اگروال نے صنعتی شعبے کی تعمیراتی سرگرمیوں کو جپسم اور چونے کے پتھر کی کانکنی پر عائد پابندی کے سبب درپیش مشکلات کا مسئلہ بھی تبادلہ خیال کے دوران اٹھایا اور ساتھ ہی ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ کی جانب سے کانکنی پر عائد پابندی کے مسئلے پر بھی بات ہوئی ۔ کٹھوعہ انڈسٹریل یونٹ ایسوسی ایشن کے اجیت واوا نے اُن یونٹ ہولڈروں کو درپیش مسائل سے بھی مشیر کو آگاہ کیا جنہیں کٹھوعہ میں اپنے یونٹوں تک جانے کیلئے پٹھانکوٹ سے آنا پڑتا ہے ۔ لگوُ ادھیوگ بھارتی سے پروین پارگل نے پلاسٹک کی چیزیں تیار کرنے والے اُن یونٹوں جنہیں این جی ٹی کے تحت بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے کے حق میں انڈسٹریل اسٹیٹس میں اراضی کی الاٹمنٹ کیلئے ترجیح دینے کی مانگ کی ۔ انل سوری اور رونیش گلاٹی نے صنعتی شعبے کو ادائیگیوں ، بقایا جات کی واگذاری میں تعطل اور صنعتوں کا بازاروں تک پہنچ میں کووڈ 19 کے دوران پیش آ رہی مشکلات کے بارے میں جانکاری دی ۔ کشمیر انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے مقررین بشمول ایف سی آئی کے کے اشرف میر ، کے سی سی آئی کے سید عاشق اور فاروق امین اور دیگر صنعتکاروں نے چیری فصل کیلئے مارکیٹ انٹر وینشن اور اس کی بروقت ٹرانسپورٹیشن کے مسائل کے علاوہ بنکروں اور کاریگروں کی باز آباد کاری اور تمام صنعتی یونٹوں کو ایس آر او 519,521 اور 63 کے دائرے میں لانے کی مانگ کی ۔اجلاس میںکشمیر کے شرکاء نے لکھن پور میں ٹول پوسٹ کی منسوخی سے پیدا شدہ مسائل پر غور و خوض کیلئے اعلیٰ اختیار والی کمیٹی کی میٹنگ کے انعقاد کی مانگ کی ۔مشیر شرما نے صنعتکاروں کو اُنہیں درپیش تمام مسائل بشمول کانکنی اور کامگاروں سے متعلق مسئلوں پر غور و خوض کر کے اُن کے ازالے کا یقین دلایا ۔