جموں//حکومت نے جموں وکشمیر میں حجام، سیلون اور پارلر کی دکانوں کو کھولنے کی اجازت دی ہے تاہم دکانداروں کی طرف سے ایس او پی کی پاسداری کو یقینی بنایاجائے گااورحفاظتی انتظامات کیلئے ’اپران اور ٹاول‘کی قیمت صارفین ادا کریں گے۔سٹیٹ ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرپرسن بی وی آر سبھرامنیم کی طرف سے جاری ہونے والے حکمنامہ کے مطابق سیلون،حجام اور پارلر کی دکانوں کے کھولتے وقت ایس اوپی پر عمل کیاجاناچاہئے اور خلاف ورزی کرنے والے کو ڈیزاسٹرمینجمنٹ ایکٹ 2005کے تحت جرمانہ ادا کرناہوگا۔حکمنامہ میں بتایاگیاہے کہ حجاموں کو لازمی طور پر چہرے پر برابر آنیوالے ماسک اورہاتھ کے دستانے پہننیں ہوں گے اورانہیں سر بھی ڈھانپناہوگا،ساتھ ہی اگر ممکن ہوتوچہرے کو بھی بند رکھاجائے۔انہیں مشورہ دیاگیاہے کہ صارفین کی حجامت کے دوران باربار سینی ٹائزر سے ہاتھ صاف کرتے رہیں۔حکمنامہ کے مطابق’’عام اور سادہ تولیہ کے بجائے ہر ایک صارف پرعلیحدہ ڈسپوزایبل ٹاول،پیپر شیٹ کا استعمال کیاجاناچاہئے اور صارفین کو ڈسپوزایبل اپران فراہم کئے جانے چاہئیں جس کی قیمت اضافی طو رپرصارفین سے وصول کی جائے‘‘۔ہدایات میں ان احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنے والوں کو انتباہ دیاگیاہے اور یہ بتایاگیاہے کہ سیلون،حجام اورپارلر دکانوں کے اندر عام تولیہ کی اجازت نہیں ہوگی۔ساتھ ہی ہدایت دی گئی ہے کہ ہر ایک صارف کے بعد اس کے استعمال میں آنیوالی کرسی اور دیگر سامان کو 70فیصدالکوہل پر مبنی جراثیم کش شئے سے صاف کیاجائے۔حجاموں کیلئے ہدایت میں بتایاگیاہے کہ وہ کرسیوں کے درمیان 1.5میٹر کی دوری رکھیں۔حجاموں،پارلر اور سیلون والوں کو خبردار کرتے ہوئے یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بخار،کھانسی،سردی اور گلے میں درد کی شکایت کرنے والے افراد کو دکان کے اندر آنے کی اجازت نہ دیں۔ان سے کہاگیاہے کہ وہ بلیڈ وغیرہ کوکھلے طورپر نہ پھینکیں بلکہ اسے ڈھانپ کر میونسپل کارپوریشن یا میونسپل کمیٹی کے حوالے کریں تاکہ اسے مناسب ڈھنگ سے ٹھکانے لگایاجاسکے۔بھیڑ سے بچنے کیلئے ٹوکن یا پیشگی اپائنٹمنٹ لینے کی ہدایت دی گئی ہے۔حجاموں،ورکروں اور صارفین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آروگیہ سیتو ایپ کا استعمال کریں جبکہ صارفین دکان کے اندر داخل ہونے سے قبل ہاتھوں کو سینی ٹائز کریں اور چہرے پر برابر آنیوالاماسک پہنیں۔