جموں//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر کے کے شرما نے کہا کہ حکومت نے میوہ پیداوار بالخصوص چیری کے لئے بہتر ٹرانسپورٹ سہولیت بہم رکھنے کے لئے لائحہ عمل مرتب کر رہی ہے۔مشیر کے کے شرما ہارون ہارٹیکلچر نرسری کے دورے کے دوران گیلاس میوہ کے پروسسنگ یونٹ ہولڈروں کے نمائندگان کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہے تھے۔اِس موقعہ پر ناظم باغبانی اور محکمہ کے دیگرا علیٰ افسران موجود تھے۔مشیر نے کہا کہ حکومت کووِڈ۔19کے سبب پیدا شدہ صورتحال سے بخوبی واقف ہے اور چیری اُگانے اور اس میوہ کے پروسسنگ یونٹ ہولڈروں کو درپیش مسائل کے ازالے کے لئے کوشاں ہے ۔ اُنہوں نے چیری فصل کی ملک کے دیگر حصوں میں درآمد کرنے کے لئے بہتر ٹرانسپورٹ سہولیت بہم رکھنے کے لئے ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت دی ۔مشیرموصوف نے ناظم باغبانی کشمیر کو ضروری مدد بہم رکھنے کے لئے کہا اور ان کے ملازمین کے لئے نقل و حمل کے اجازت ناموں کا بھی بندوبست کرنے کی انہیں ہدایت دی۔انہوں نے کہاکہ مختلف ٹرمنل بازاروں تک چیری کے لئے ٹرانسپورٹ سہولیت پر رعایت دینے کا معاملہ متعلقہ حکام کے ساتھ اُٹھایا جائے گا۔ڈپٹی ڈائریکٹر باغبانی کو چیری پروسسنگ یونٹ ہولڈروں کے ساتھ تعاون کے لئے نوڈل آفیسرمقرر کیا گیا ہے۔تعاون کرنے اور اُن کی شکایات کا ازالہ کرنے کے لئے نوڈل افسر مقرر کیا گیا ہے۔اس موقعہ پر ناظم باغبانی نے مشیر کو بتایا کہ 215ٹن چیری میوہ پہلے ہی ملک کے مختلف بازاروں کو درآمد کیا گیا ہے اور قریباًچیری میوے بھرے ایک ہزار ڈبے ممبئی اب تک بذریعہ ہوائی جہاز بھیج دئیے گئے ہیں ۔انہیں مزید بتایا گیا کہ گزشتہ برس ملک کی مختلف منڈیوں کو 2000ٹن خام چیری درآمد کی گئی ۔ اس کے علاوہ 6000ٹن کو ڈبہ بند کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ چیری پیداوار قریباً چالیس فیصد جموں وکشمیر میں ہی مقامی طور استعمال میں لایا جاتا ہے ۔