عظمیٰ نیوز سروس
بانڈی پورہ//سکاسٹ کی ڈائریکٹر ایکسٹینشن پروفیسر ریحانہ حبیب کنٹھ نے ہفتہ کے روزکرشی وگیان کیندربانڈی پورہ میں کسانوں پر مرکوز اختراعات کو فروغ دینے کیلئے جاری تحقیقی سرگرمیوں، عملی مظاہروں اور زرعی توسیعی پروگراموں کا جائزہ لیا۔پروفیسر کنٹھ کا استقبال ڈاکٹر طارق سلطان، سینئر سائنسدان و سربراہ کے وی کے بانڈی پورہ نے کیا، جنہوں نے مرکز میں جاری تحقیقی منصوبوں، توسیعی اقدامات، فرنٹ لائن ڈیمونسٹریشنز اور زرعی ٹیکنالوجی کی منتقلی کے پروگراموں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔دورے کے دوران پروفیسر کانٹھ نے مرکز کے کنول (Lotus)اور مکھانہ (Makhana)کے کھیتوں، سنگھاڑے کی یونٹس، دھان کے تحقیقی کھیتوں، ہائی ٹیک گرین ہاسزاور دیگر تحقیقی و مظاہراتی سہولیات کا معائنہ کیا۔
انہوں نے فروغ دی جانے والی جدید زرعی ٹیکنالوجیز کا جائزہ لیا اور ان کی صلاحیت کو سراہا کہ یہ فصلوں میں تنوع پیدا کرنے، زرعی پیداوار بڑھانے اور کسانوں کیلئے پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔سائنسدانوں اور عملے کے ساتھ بات چیت کے دوران پروفیسر کانٹھ نے اس بات پر زور دیا کہ تحقیق اور توسیعی سرگرمیوں کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ سائنسی اختراعات کو تیزی اور وسیع پیمانے پر زمینی سطح تک پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے فیلڈ مظاہروں میں توسیع، کسانوں کی صلاحیت سازی کے پروگراموں اور بروقت تکنیکی رہنمائی فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ زرعی برادری کو ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔انہوں نے کنول، مکھانہ، سنگھاڑا، محفوظ کاشت کاری اور بہتر دھان کی پیداوارکے شعبوں میں مقامی ضروریات کے مطابق ٹیکنالوجیز کو فروغ دینے کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات زرعی نظام میں تنوع پیدا کرنے، پیداوار بڑھانے اور ضلع بھر میں کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔