واشنگٹن//نو منتخب امریکی صدر جوزف بائیڈن نے امریکہ کو ایک با پھر دنیا میں قابل اعتبار بنانے کے عہدکا اظہار کیا ہے ۔فتح کے بعد ولمنگٹن میں اپنے اولین خطاب میں انہوں نے کہا کہ اختلافات سے قطع نظر وہ تمام امریکیوںکے صدر ہیں، مخالفین کو دشمن کی طرح نہ دیکھیں، وہ امریکی ہیں، امریکیوں کی طرح دیکھیں، یہ وقت نسل پرستی کا خاتمہ کرنے کی جنگ کا ہے ، لوگوں کو تقسیم نہیں بلکہ متحد کرنا ہے ۔جو بائیڈن نے کہا کہ آج عوام کی فتح کا دن ہے ،بائیڈن کی سارؤت کروڑ چالیس لاکھ ووٹوں سے انتخاب امریکی صدارتی انتخاب میں نئی تاریخ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی عوام نے فیصلہ سنادیا، اب ان کے اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش ان کا فرض ہے ،مڈل کلاس کو ملک کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے بائیڈن نے کہا کہ متوسط طبقے کو معاشی لحاظ سے مضبوط بنانا ہے ، کورونا ٹاسک فورس کے لیے نامور سائنسدانوں کا اعلان پیر کو کریں گے ۔نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کی فتح پر جشن منایا گیا اور آتش بازی مظاہرہ بھی گیا۔قبل ازیں امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے میزبان وین جونز جو بائیڈن کی فتح کی خبر پر جذباتی ہو گئے اور دورانِ نشریات رو پڑے ۔وین جونز کا کہنا تھا کہ آج اس ملک میں تارکین وطن، سیاہ فام اور مسلمانوں سمیت بہت سے لوگوں نے سکھ کا سانس لیا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جہاں جارج فلوائڈ کی طرح کتنے لوگوں کی سانس رکی ہوئی تھی۔ اب امریکہ میں کسی کو اس بات پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ آپ کے صدر کو آپ کا امریکا میں ہونا پسند نہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج اس ملک میں باپ کے لیے آسان ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بتائے کہ اچھا انسان ہونا کتنا اہم ہے ۔ واضح رہے کہ ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن امریکا کے 46ویں صدر منتخب ہوگئے ہیں، ریاست پنسلوانیا میں ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد جو بائیڈن کے الیکٹورل ووٹوں کی تعداد 273 ہوگئی۔ جبکہ اُن کے حریف ری پبلکن امیدوار اور موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الیکٹورل ووٹوں کی تعداد 214 ہے ۔