اس وقت پورے ملک میں72واں ایک ماہ طویل مدتی سڑک پر بچاؤ مہم جاری و ساری ہے۔ جو پہلی بار ایک ہفتے کے بجائے ایک ماہ تک چلائی جائے گی۔ محکمہ ٹریفک دیگر محکمہ جات کے اشتراک سے یہ مہم 18 جنوری سے 17 فروری 2021ء تک ہر شہر و قصبہ کے اندر چلائی جائی گی ۔اس سال کی مہم کا مرکزی موضوع " سڑک سرکھشا … جیون رکھشا " منتخب کیا گیا ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد عوام میں سڑک اور آمد رفت سے متعلق مکمل بیداری پیدا کرنا ہے ۔
ہندوستان میں ہر سال ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد سڑک حادثات کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جبکہ اس سے دو گنا تعداد شدید زخمی حالت میں وارد ہو جاتے ہیں ۔قدرتی اور انسانی حادثات کی وجہ سے آئے روز بہت سی جانیںضائع ہوتی ہیں۔ سوشل میڈیا کے دور دورہ سے حادثات ہونے پر ابتدائی طبعی امداد کرنے کے بجائے لوگ ویڈیو شوٹنگ ، فوٹو گرافی اور خبریں بنانے کے ساتھ مصروف رہتے ہیں اور اس فضول کام میں ایک دوسرے پر سبقت لینے میں فخر محسوس کرتے ہے جس سے کئی قیمتی جانوں کو کھونا پڑتا ہے۔ اس ضمن میں سماج کے سبھی افراد کو محتاط کردار ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
اگر ہم سرینگر – جموں قومی شاہراہ کی بات کریں گے تو اس روڑ پر سفر کرنا کسی خطرے سے کم نہیں ۔جموں و کشمیر ٹریفک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے وساطت سے دس سال میں (2010 سے 2020) حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق سرینگر ۔جموں قومی شاہراہ پر 8128 سڑک حادثات رونما ہوئے ہے جس کے نتیجے میں 1750 افراد ہلاک اور 12131 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں انسانی جان کھونے کے بعد بھی قومی شاہراہ کو ہموار آمد رفت کے لئے درست کیا گیا نہ ہی ڑرائیوروں کے ذریعے عمل درآمد ہو رہا ہے ۔
ہمیں چاہیے کہ سڑک کی حفاظت سے متعلق آگاہی کو ایک تحریک بنائیں۔ سڑک کی حفاظت سے متعلق حکومت اپنے تمام اسٹیک ہولڈرز کو حساس بنانے کے لئے ہر سال سڑک کی حفاظت کے لئے ایک طویل پروگرام کا انعقاد کرتی آ رہی ہے ، جس میں عوامی شعور کو اجاگر کرنے کے لئے مختلف اقدامات اور سرگرمیوں کو انجام دیا جاتا ہے۔ وزارت سڑک ، ٹرانسپورٹ اور شاہراہیں مختلف روڈ سرکھشا کی سرگرمیوں اور سیمیناروں ، مباحثوں ، اعزازات ، انعامات ، ورکشاپس وغیرہ کے انعقاد کے لئے وسیع پیمانے پر مالی امداد کی فراہمی کرتی ہے۔
محکمہ ٹریفک پولیس کے ساتھ جڑے دیگر مختلف محکمے مل کر عوام میں آگاہی پیدا کرتی ہیں ، پمفلٹ تقسیم کرتے ہیں اور ڈرائیور برادری کو گاڑی چلانے کے لئے خصوصی قاعدے و ضابطے سکھاتے ہیں۔حال ہی میں ٹریفک پولیس سرینگر کے زیر اہتمام اپنے ایک خصوصی سیمینار میں جموں و کشمیر کے اعلیٰ مذہبی اسکالر ، شیخ الحدیث مفتی نذیر احمد قاسمی صاحب نے اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں سڑکوں کے استعمال اور ٹریفک قوانین پر عمل کرنے کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی ۔اسی موقع پر ایس ایس پی ٹریفک سٹی نے سماجی و اقتصادی امور پر روشنی ڈالی جس میں سڑک حادثات سے منسلک مسائل شامل ہیں اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ محکمہ ٹریفک پولیس سرینگر نے "احتیاط " نامی پروگرام بھی اسی غرض کے لئے شروع کیا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک آگاہی پہنچائی جائے ۔محکمہ ٹریفک پولیس نہ صرف قابل عمل قوانین کو لاگو کرنے کے لئے اقدامات کرتی ہے بلکہ بر وقت کارروائی بھی عملاتی ہے ۔
سڑک حادثہ یا تصادم اس وقت ہوتا ہے جب ایک گاڑی دوسری گاڑی یا راہگیر یا جانور یا دیگر کوئی رکاوٹ یا کھمبے یا پتھر سے ٹکرا جاتی ہے۔ بہت سے لوگ حادثات میں صرف ناتجربہ کاری کے نتیجے سے مرتے ہیں ۔ شراب یا منشیات میںدھت ہونے کے بعد گاڑی چلانا کون سی دانائی ہے ؟ غصے سے بے قابو ہوکر غفلت و لاپرواہی سے گاڑی چلانا کیا حادثات سے بچ سکتی ہے؟ قارئین ایسے سوالات کا جواب ضرور منفی میں ہوگا ۔زیادہ تر ٹریفک حادثات متعدد عوامل کی پیداوار ہیں ، حادثات کے امکانات کو مختلف طریقوں سے کم کیا جاسکتا ہے۔ بعض اوقات قدرتی یا موسمی صورتحال جیسے زلزلہ ، سیلاب ، دھند ، برف ، تیز بارش ، ہوا کے طوفان ، اولے وغیرہ ٹریفک حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ زیادہ تر حادثات درج ذیل وجوہات کی بناء پر ہوتے ہیں۔
1۔ گاڑی کی حالت
گاڑی چلانے سے قبل اس کی حالت کا ملاحظہ ضرور کریں۔گاڑی کی بریک ، اس کے ٹائر ، اسپیڈومیٹر ، سائیڈ کے آئینے وغیرہ ضرور چیک کریں۔ تیز رفتاری سے گاڑی چلانے کی عادت ہرگز نہ رکھیں۔بریک یا اسٹیئرنگ کی ناکامی ، ٹائر پھٹنا ، ناکافی ہیڈلائٹس اور زیادہ بوجھ ( overloading ) تصادم کی بنیادی وجہ بن سکتی ہے۔اس پر مشتمل گاڑیوں کی انجینئرنگ ، باقاعدہ معائنہ ، فٹنگ کا حفاظتی سامان ، جیسے سیٹ بیلٹ، آئر بیگ کے ذریعہ حادثات کو روکا جا سکتا ہے ۔
2۔ سڑکوں کی حالت
اس میں سڑک کی ڈیزائنگ ، patholes ، تباہ شدہ سڑکیں ، تنگ موڑ ، غیرقانونی اسپیڈ بریکروں ، اندھے منحنی خطوط ، دیہی علاقوں کی کٹی ہوئی سڑکوںکو شامل کیاجاسکتاہے۔ گاڑیوں کے زیادہ ہجوم کے علاقوں میں حادثات معمول کی بات ہیں لیکن رات کے وقت دیہی سڑکوں پر مہلک حادثات غیر متناسب طور پر رونما ہوتے ہیں جب ٹریفک نسبتاً ہلکا ہوتا ہے۔ احتیاطی تدابیر میں روڈ یا اسمارٹ ٹریفک انجینئرنگ شامل ہے جس پر نئی سڑکوں کا ڈیزائن ، ٹریفک کی روانی ، کراس ٹریفک کا خاتمہ ، سڑک کی بہتری ، پھسلن علاقوں کی بحالی ، ٹریفک سگنل نصب کرنا ، سڑک کے نشانات ، اور انضباطی نشانیاں جیسے " اسٹاپ " ، " شفاخانہ " ، " ریلوے پھاٹک " اور "اسکول" کی علامتیں شامل ہیں۔
3۔ انسانی مداخلت
اس میں ڈرائیوروں اور دوسرے سڑک استعمال کرنے والوں سے متعلق تمام عوامل شامل ہیں جیسے پیدل چلنے والوں کی لاپرواہی ، ناخواندگی ، قوت بصیرت کی کمی، معذور پن ، بھیک مانگنے والے ، غلط جگہوں پر سڑک پار کرنا ، چلتی ہوئی گاڑی سے باہر سر رکھنا ، ڈرائیوروں سے محو گفتگو ہونا، چلتی بس کو پکڑنا وغیرہ جو تصادم کا باعث بن سکتی ہیں۔ جب گاڑی تیز رفتار ہوتی ہے تو یہ عنصر بہت سے حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ آج کل پڑھے لکھے اور ذمہ دار شہری ہی ڈرائیوروں کو غلط ڈرائیونگ کرنے کے لئے مجبور کرتے ہیں اور دوسرے ڈرائیوروں کو اسی طرح کی غلط کوشش کرنے پر اکساتے ہیں جس کی وجہ سے کچھ ڈرائیور صبر چھوڑ دیتے ہیں اور حادثات کا نتیجہ بنتے ہیں۔
4۔ ڈرائیور کا برتاؤ
ڈرائیور کا سلیقہ و مہارت ، شراب یا منشیات کی وجہ سے خرابی ، آنکھوں میں چڑھاؤ ، زیادہ داداگیری ، تیزرفتاری ، جلدی سے ڈرائیونگ ، قوانین کی خلاف ورزی ، علامات کو سمجھنے میں ناکامی ، تھکاوٹ اور اسٹریٹ ریسنگ شامل ہیں۔ جس سے ڈرائیونگ پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔ ریڈ لائٹ جمپر نہ صرف اس کی زندگی کو خطرے میں ڈالتا ہے بلکہ روڈ استعمال کرنے والوں کے تحفظ کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ ایک ڈرائیور کا یہ عمل دوسرے ڈرائیور کو اسی طرح کی غلط کوشش کرنے پر اکساتا ہے اور بالآخر حادثات کا باعث بنتا ہے۔
5۔ آرام دہ اور پرسکون ڈرائیونگ
گاڑی چلانے کے دوران معمولی سی خلفشاری ایک بڑے حادثات کا سبب بن سکتی ہے ۔جس میں آج کل بڑے درپیش مسائل موبائل فون پر بات کرنا ، فیس بک پیج کو اپ ڈیٹ کرنا ، واٹس ایپ میسجز پڑھنا، شیئر کرنا اور ڈرائیونگ کے دوران چیٹنگ کرنا جیسے متعدد عوامل تصادم آرائی کے باعث بن سکتے ہیں۔ فون پر گفتگو اور فیس بک یا واٹس ایپ کے استعمال سے ڈرائیور کے دماغ کا ایک بڑا حصہ گرفتار ہو سکتا ہے جب کہ اس کا چھوٹا سا حصہ ڈرائیونگ کو سنبھال لیتا ہے۔ یہ تصادم کی ایک اور وجہ بن سکتی ہے۔ کسی بھی ڈرائیور کو گاڑی چلاتے وقت فون پر گفتگو کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ گاڑی کو ایک طرف روک کر ہی ایمرجنسی فون کر سکتے ہیں۔ ایل سی ڈی ، وی سی ڈی اور ٹیپ ریکارڈ و ریڈیو وغیرہ کو گاڑی چلاتے وقت دیکھنے اور سننے سے گریز کریں ، بصورت دیگر یہ سب موسیقی کے آلات ڈرائیور کے توجہ کو اپنی طرف راغب کر سکتے ہیں اور سڑک کے ٹریفک حادثات کا سبب بن سکتے ہیں۔
دیکھا جائے تو ٹریفک کی ہموار نقل و حرکت کے لئے محکمہ ٹریفک پولیس کی ایک قلیل تعداد ( تقریباً 1500 ) شب و روز اپنے فرائض انجام دے رہی ہے ۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کے لئے یہ نیلی وردی میں ملبوس قلیل تعداد ہر جگہ حاضر نہیں رہ سکتی ہے۔ بلکہ اس میں ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تب جا کے اس سڑک سرکھشا مہم کے بنیادی مقصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اسکوصرف محکمہ ٹریفک کی ذمہ داری گننانادانی ہوگی کیوں کہ محکمہ ٹریفک نیلی وردی میں ملبوس جوانوں کی ٹریفک کنٹرول کرنے کے لئے ہر جگہ موجودگی کا انتظام نہیں کر سکتی ہے لیکن لائن میں جڑے دیگر محکمے بھی ٹریفک حادثات کو کم کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس بے ضمیری اور غفلت و لاپرواہی کی ڈرائیونگ کو ختم کرنے کے لئے تمام متعلقہ محکمہ جات کو آپسی تال میل اور اتحاد و اتفاق کے ساتھ کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ مزید والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو چھوٹی عمر میں ہی تیز رفتار موٹر سائیکل و گاڑیاں پیش کرنے سے بازرکھیں۔ تعلیم یافتہ افراد اور بزرگ شہریوں کو بھی اس مقصد کی حمایت میںآگے آنا چاہیے۔ حادثات کی روک تھام کے لئے روڈٹریفک ماہر استادوں ( Instructors ) اور اسکول اساتذہ کے ذریعہ اسکولوں میں بچوں کی تعلیم و تربیت کے منظم و مؤثر اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اور دیگر تشہیری ذرائع کی بدولت روڈ ٹریفک کے تمام صارفین کی توجہ اس کے خطرات اور محفوظ طریقوں کی طرف راغب کرنی چاہیے ۔ اس طرح سے ہم سب مل کر اس آگاہی مہم کو کامیاب بنا کر کئی لوگوں کی قیمتی جانیں بچانے میں ایک مسیحا کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
آئیے آج ہم سب یہ عہد کرتے ہے کہ جب بھی ہم گاڑی چلائیں گے تو ہمیشہ بہترین طریقے اور احتیاطی تدابیر کو اختیار کرتے ہوئے زندگی کو خوشگوار بنا کر ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں گے۔
پتہ۔ہاری پاری گام ترال
رابطہ ۔ 9858109109
����������