کہتے ہیں کہ ماں کے پاؤں تلے جنت ہے تو باپ کے قدموں میں کیا ہوتا ہے۔ یاد رکھیے باپ کے قدموں میں ایک پھٹا ہوا جوتا ہوتا ہے جو اولاد کے خاطر رزق حلال کمانے کے دوران گھس جاتا ہے۔
جب سے آدم علیہ السلام کی اولاد نے لکھنا شروع کیا تب سے ماں کی ممتا کو درشایہ جارہا ہے لیکن باپ کے بارے میں پتہ نہیں کیوں قلم کار خاموش رہے ہیں۔باپ تین حروفی الفاظ ہے۔’ب' کا مطلب بیلوث خدمتگار ،'ا' سے اخلاص سے مالامال اور 'پ' کا مطلب ہے پسینہ بہا کر آبیاری کرنے والا۔ والد انسان کو عدم سے وجود میں لانے والی ذات ہے اور گلشن انسانیت کا بانی بھی۔مطلب دنیا کی شروعات ہی باپ سے ہوئی ہے۔خدا نے سب سے پہلے آدم کی تخلیق کی پھر اس کی پیٹھ سے ماں یعنی حضرت حوا کو پیدا کیا گیا۔ بات صاف ہے کہ والدین میں باپ کا درجہ اول کا حامل ہے۔باپ کی کمزوری ماں ہے اور ماں کی طاقت باپ ہے۔ماں سے پوچھو گے تو باپ کی اہمیت کا احساس ہوگا۔
باپ دنیا کی وہ عظیم ہستی ہے۔ جو ہمیں دنیا کا سب سے بڑا تحفہ ماں کی صورت میں دیتا ہے اور یقیناً اس کا کوئی ثانی نہیں۔ماں جنت ہے اور باپ جنت میں داخل ہونے کا دروازہ۔ماں کی باہوں میں باپ کا اعتبار ہوتاہے اور ماں کی نظروں میں باپ کی صورت ہوتی ہے۔ماں کے دودھ میں باپ کا پسینہ ہوتا ہے۔ماں کی ممتا میں باپ کا پیار ہوتا ہے۔ماں کی کوک میں والد کا خون ہوتا ہے۔ماں جنم دیتی ہے تو باپ پرورش کرتا ہے۔باپ کے رونے میں آنسوں نہیں ہمت ہوتی ہے۔ ماں کے دل میں باپ کی دھڑکن ہوتی ہے۔ماں روئے تو باپ دلاسہ دیتا ہے۔ماں دعا تو باپ دوا ہے۔ماں کی لوری میں باپ کے گیت ہوتے ہیں ماں باغ ہے تو باپ اس کا باغبان۔ ماں اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے اورباپ سچے جذبے اور صادق رشتے کا نام ہے،جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ باپ کی عظمت سے کوئی بھی انسان، دین، مذہب، قوم اور فرقہ انکار نہیں کر سکتا۔ باپ کا رشتہ ہر غرض بناوٹ اور ہر طرح کے تقاضے سے پاک ہوتاہے
باپ کا مقام بیان کرتے ہوئے آپ ؐنے فرمایاباپ جنت کے دروازوں میں بیچ کا دروازہ ہے اگر تو چاہے تو اس دروازے کی حفاظت کر یا اس کو ضائع کردے۔باپ محبت و چاہت ،صبرو خلوص،ایثارو بردباری کا پیکر ہے۔ ہم جس طرح دریا کو کوزے میں قید نہیں کر سکتے اس طرح باپ کی محبت و شفقت ٍ، عنایا ت و خدمات ،محنت،حوصلہ وہمت کو لفظوں میں بیان نہیں کر سکتے۔باپ ایک عظیم ہستی ہے ماں اگر بنیاد ہے تو باپ اس بنیاد کو مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے۔باپ کی محبت اگر تحفظ کا احساس ہے تو ماں کی محبت ٹھنڈی چھائوں۔ باپ ایک عظیم تحفہ ہے ۔ماں چوٹ کھانے کے بعد پیار برساتی ہے تو باپ اس چوٹ سے بچنے کے لئے سختی برتتا ہے۔ماں کی محبت میں اندھا پن ہے لیکن باپ بچوں کو مستقبل کی تاریکیوں سے دور رکھنے کے لئے خود کو دھوپ میں جلاتا ہے تا کہ بچوں کا مستقبل روشن ہو۔ماں غلطیاں چھپاتی ہے تو باپ غلطیاں کرنے سے باز رکھتا ہے۔ماں کا پیار عیاں ہے اس لئے سب ماں ماں کہتے ہیں لیکن باپ کی محبت غصے ،سختی ،ڈانٹ ڈپٹ، نصیحت ،روک ٹوک ،سوال وجواب اور ناراضگی جیسے سات پردوں کے پیچھے اوجل رہتی ہے۔شاید اسی لئے باپ سے کم محبت ہوتی ہے لیکن باپ کی یہی ادائیں بچوں کی ذندگی میں چار چاند لگاتی ہیں۔سچ میں باپ کی محبت کا انداز نرالا ہے۔
ماں تو ماں ہی ہوتی ہے۔ لفظ ماں ہی اس کی شخصیت کا مکمل تعارف ہے لیکن باپ سے بھی اولاد کا رشتہ بہت انوکھا سا ہے۔شجر سایہ دار کا سا احساس ،گھنی چھائوں اولاد کی تمام ضروریات کو پلک جھپکتے پوری کر دینا ،ہر خواہش کی تکمیل کو اپنا اولین فرض جان کر بھی صلے سے بے پرواہ رہنا۔بظاہر سخت لیکن اندر سے موم ،حساس اور شفیق اولاد کی ہر تکلیف پر بے کل ہوجانا۔دنیا میں ماں کے بعد سب سے اہم اور اولین رشتہ باپ کا ہی ہوتا ہے۔ والد ایک مضبوط سہارا ہے۔باپ دنیا کی وہ عظیم ہستی ہے جو کہ اپنے بچوں کی پرورش کے لئے اپنی جان تک لڑا دیتا ہے۔ ہر باپ کا خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو اعلیٰ سے اعلیٰ میعار زندگی فراہم کرے تاکہ وہ معاشرے میں باعزت زندگی بسر کرسکے اور معاشرتی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکے۔باپ دنیا میں اولاد کی سب سے بڑی طاقت بھی ہے اور سہارا بھی۔باپ بچوں کی نشوونما کے ساتھ ساتھ انکے ناز نکھروں کا بھی خیال رکھتا ہے۔بچوں کی پرورش کرنا آسان کام نہیں ہے بلکہ ایک مشکل زمہ داری ہے جس کو نبھاتے نبھاتے باپ کی جوانی سلگ کر بڑھاپے کی راکھ میں بدل جاتی ہے۔باپ کے تھپڑ میں جو پیار ہوتا ہے وہ دنیا میں کسی کے پیار میں نہیں ہوتا ہے اور نہ ہوگا۔ماں جب بچے کی بیماری پر آنسوں بہاتی ہے ،دلاسہ دیتی ہے اور گود میں جھلاتی ہے تو باپ اس بیماری کا علاج ڈھونڈتا ہے اور بچے کی تندرستی کے لئے زمین آسمان ایک کرتا ہے۔باپ نہ صرف بچوں کا خیال رکھتا ہے بلکہ ماں کا بھی خیال رکھتا ہے۔ماں جب بچے کی غلطی پر پردہ ڈالتی ہے تو بچہ مجرم بن جاتا ہے لیکن باپ کی ڈانٹ ڈپٹ سے بری عادت چھٹ جاتی ہے اور بچہ ایک بہترین شہری بن کر ابھرتا ہے۔باپ کا پیار عملاً ظاہر ہوتا ہے جو بچوں کی سمجھ سے باہر ہے جبکہ ماں کا پیار لفظوں میں بیان ہوتا ہے۔شاید اسی لئے ماں کے بارے میں بہت سارے مضامین پڑھنے کو ملتے ہیں اور باپ کے بارے میں قلم نے خاموشی اختیار کی ہے۔کیونکہ باپ کو دکھاوے کی عادت نہیں اور نہ ہی ریا کاری سے مطلب۔باپ کبھی اپنی پریشانی یا الجھن نہیں بتاتا بلکہ خود ہی ایک مضبوط دیوار کی مانند سامنا کرتا رہتا ہے۔وہ نہ دن کی پرواہ کرتا ہے اور نہ ہی رات کی۔بس فکر معاش میں بیقرار رہتا ہے اور اولاد کی ہر خواہش پوری کرنے میں جھٹ جاتا ہے۔دن بھر کی مشقت کے بعد پہلا خیال اپنے بچوں کا آتا ہے اور خوشی خوشی گھر لوٹ جاتا ہے۔باپ وہ مضبوط چھت ہے جو موسم کے ناروا سلوک سے ہمیں تحفظ دیتا ہے اور دنیا کے تمام مصائب سے بچا کے رکھتا ہے۔باپ ایک گھنے سایہ دار درخت کی مانند ہوتا ہے جو سورج کی تپش خود جزب کرتا ہے اور بارش میں باہیں پھیلا کر اپنے بچوں کو پناہ دیتا ہے۔باپ جیسا شفیق ،رفیق اور ہمدرد کوئی نہیں۔وہ نہ صرف بچوں کی پرواہ کرتا ہے بلکہ ماں کی خوشحالی کا بھی دھیان رکھتا ہے۔اپنے اہل وعیال کی کفالت کے لیے خون پسینہ ایک کرتا ہے نہ اپنے آرام کی پرواہ اور نہ ہی اپنے صحت کی فکر۔وہ ذندگی کا ہر لمحہ اپنے بچوں کے مستقبل کو روشن بنانے کے لئے صرف کرتا ہے۔وہ بچے کو سختی سے اس لئے پیش آتا ہے تاکہ وہ کسی کا محتاج نہ بنے۔باپ دنیا کی واحد ہستی ہے جو اپنی اولاد کو خود سے زیادہ چاہتا ہے اور اس سے بہتر زندگی گزار سکے۔ چاہیے کتنا ہی بوڑھا ہو مگر گھر کا سب سے مضبوط ستون باپ ہی ہوتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کہیں ماں کے مقابلے میں باپ کے تئیں ہمارا سلوک مختلف تو نہیں ہے۔ اگر ایسا ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ ماں کی خدمت سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا۔حدیث مبارک کا مفہوم ہے کہ ماں اگر جنت ہے تو اس جنت کا دروازہ باپ ہے۔اگر باپ ناراض ہے تو جنت کا دروازہ بند ہوگا۔مطلب ایک انسان کے پاس محل تو ہے لیکن اس محل میں داخل ہونے کے سارے دروازے بند۔
باپ ایک عظیم تحفہ خداوندی ہے جو ہر درد ،دکھ سہہ کر اولاد سے وفا کرتا ہے۔کائنات کا خوبصورت ترین رشتہ والدین کا ہے۔ یہی وہ عظیم رشتہ ہے جو اولاد کے لئے زندگی کے ہر لمحے ہر موڑ پر دعا گو رہتا ہے۔باپ خاندانی نظام میں رحمت و شفقت کا مظہر اور اولاد کے لئے تعلیم و تربیت اور تعمیر شخصیت کی اساس ہے۔باپ کی اطاعت ،فرمانبرداری خدمت اور حسن سلوک میں عظمت ہے۔یہ اللہ کے قرب اس کی رضا اورخوشنودی کا مظہر ہے۔دنیا کے زیادہ تر باپ بظاہر کرخت،بارعب اور غصے والے لگتے ہیں جب کہ ایسا کچھ نہیں۔انکے غصے کی ہی بدولت اہل خانہ ایک چھت تلے با حفاظت مقیم ہوتے ہیں۔باپ کی ڈانٹ تو اولاد کے لئے ایسی ہے جیسے انسانوں کے لئے ہوا۔باپ کی شفقت اور دعائوں کی حدت خاموش سمندر کی مانند ہے جس کی لہروں میں شدت پنہاں ہوتی ہے۔باپ کی قدر اس یتیم سے پوچھو جس کا بچپن مزدوری کرنے سے تباہ ہوگیا ہے اور جس کے خواب مٹی میں مل گئے ہوں۔باپ کی قدر اس لڑکی سے پوچھو جس کی عزت داؤ پر لگی ہو اور گھریلو زمہ داریاں نبھانے میں دشواریاں آرہی ہوں ۔باپ ہے تو زندگی خوبصورت اور خوشحال ہے ورنہ خودکشی اچھی لگتی ہے۔والد کی عزت کرو۔والد کو زندہ رکھو ٹھیک اسی طرح جس طرح اس نے ہمیں بچپن میں زندہ رکھا۔
پتہ۔ قصبہ کھْل، کولگام کشمیر
ای میل۔[email protected]