موبائل فون و گاڑیوں کے پُرزوں، پلاسٹک ونڈو پین ، چمڑے، قیمتی پتھر، روئی اور ریشم پر درآمدی ڈیوٹی میں اضافہ،400 پرانی کسٹم ڈیوٹیوں کا جائزہ لیا جائے گا
لوہے اور اسٹیل کی درآمدات پر ڈیوٹی 7.5فیصد کرنے کی سفارش، اسٹیل اسکریپ پر کسٹم ڈیوٹی ایک سال کیلئے ختم کرنے کی تجویز
نئی دہلی// وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پارلیمنٹ میں شور و غل کے درمیان پیر کو لوک سبھا میں مرکزی بجٹ 2021-22 پیش کیا۔لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے ایوان کی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے جیسے ہی سیتارمن کو مالی سال 2021-22 کا عام بجٹ پیش کرنے کیلئے پکارا تو ایوان میں شور شرابہ شروع ہوگیا۔اس سے قبل ، مرکزی کابینہ نے پیر کو عام بجٹ 2021 -22 کی منظوری دے دی۔ سیتارمن نے مرکزی بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کووڈ-19 ویکسین پروگرام پر 35400 کروڑ روپے خرچ کرنے کا التزام کیا گیا ہے ۔مشن پوشن ابھیان 2.0 کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مہم کے ذریعہ ہر ضلع میں غذایت کو فروغ دینے کے پروگرام بنائے جائیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ طبی شعبہ کا بجٹ دو لاکھ کروڑ روپے کا ہوگا۔نیوموکوکل ویکسین کا پروگرام پورے ملک میں چلایا جائے گا۔ اس سے ہر سال 50 ہزار بچوں کی جان بچانے میں مدد ملے گی۔ فی الحال یہ ویکسین پانچ ریاستوں میں دی جارہی ہے ۔مرکزی وزیر نے کہا کہ سال 2021 سے اگلے پانچ برس کے لئے سوچھ بھارت مشن – شہری کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہورہا ہے جس کیلئے ایک لاکھ 41 ہزار 678 کروڑ روپے کا التزام کیا گیا ہے ۔اس میں سیوریج مینجمنٹ ، کچرے کے پانی کے انتظام ، پانی کے اخراج کے ذرائع پر الگ الگ اور شہری تعمیرات سے پیدا ہونے والے کچرے کے انتظام پر توجہ دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لئے 2217 کروڑ روپے کی لاگت سے دس لاکھ سے زیادہ آبادی والے 42 شہروں میں مرکز بنائے جائیں گے ۔پرانی گاڑیوں کی اسکریپنگ کیلئے پالیسی لائی جارہی ہے ۔انہوں نے اجولا یوجنا میں ایک کروڑ اور کنبوں کو جوڑے جانے کا اعلان کیا۔ ابھی تک یوجنا سے تقریباً آٹھ کروڑ کنبوں کو جوڑا جاچکا ہے ۔ ساتھ ہی سال 22-2021 میں ہائیڈروجن توانائی مشن شروع کرنے کا اعلان کیا۔ سیتارمن نے کہا کہ مالی سال 22-2021 میں اگلے پانچ سال کے لئے پیداوار پر مبنی چھوٹ منصوبے میں 1.97 لاکھ کروڑ روپے کا التزام کیا گیا ہے ۔ جس سے ہندوستانی صنعتوں کو عالمی سطح پر چیمپین بنانے میں مدد ملے گی اور نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔
اس کے علاوہ کپڑا صنعت میں عالمی سطح کا بنیادی ڈھانچہ بنانے کے لئے اگلے تین سال میں ٹیکسٹائل پارک قائم ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے لئے مجوزہ بجٹ میں ایک لاکھ 18 ہزار 101 کروڑ روپے کا التزام کیا گیا ہے جس میں سے ایک لاکھ کروڑ سے زیادہ کی رقم بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے پر خرچ کی جائے گی۔ بھارت مالا پروجیکٹ کے تحت مارچ 2022 تک 8500 کلومیٹر سڑک پروجیکٹ شروع کردئے جائیں گے اور 11 ہزار کلومیٹر قومی شاہراہ کا تعمیراتی کام پورا کرلیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ دوسری سطح کے شہروں اور پہلی سطح کے شہروں کے بیرونی علاقوں میں میٹرو ریل کے لئے نئی تکنیک استعمال کی جائے گی جو کم لاگت والی اور محفوظ ہوگی۔بس ٹرانسپورٹ سروس کیلئے 18 ہزار کروڑ روپے کا التزام کیا گیا ہے جس کا استعمال سرکاری – نجی حصہ داری کے لئے ہوگا اور نجی شعبہ کو 20 ہزار سے زیادہ بسیں خریدنے ،ان کو چلانے اور رکھ رکھاؤ میں مدد ملے گی۔ سیتارمن نے مشن نیوٹریشن کمپین 2.0 کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مہم کے ذریعے ہر ضلع میں تغذیہ کو فروغ دینے کے پروگرام بنائے جائیں گے ۔ سیتارمن نے کہا کہ دسمبر 2023 تک ملک میں سبھی براڈ گیج ریلوے لائنوں کی بجلی کاری ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ سرمایہ بازار میں یکسانیت اورمعقولیت لانے کے لئے ، سیبی ایکٹ 1992 ، ڈیپازٹریز ایکٹ 1996 اور سیکیورٹیز کنٹریکٹ ریگولیشن 1956 اور گورنمنٹ سیکیورٹیز ایکٹ 2007 کو ایک ساتھ اسٹاک مارکیٹ کوڈ کے ساتھ لایا جائے گا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ 75 سال سے زائد عمر کے افراد اور صرف پنشن اور سود پر منحصر افراد کو انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اب انکم ٹیکس ریٹرن فارم میں کیپیٹل مارکیٹ اور بینک ڈیپازٹ سود سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تفصیلات بھی پہلے سے پُر ہوں گی۔ چھوٹے ٹیکس دہندگان کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے تنازعہ حل کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز ہے ۔
انہوں نے کہا کہ غیر سرکاری تنظیموں ، نجی اسکولوں اور ریاستوں کے اشتراک سے 100 ملٹری اسکول قائم کئے جائیں گے ۔ اس کے علاوہ ہائر ایجوکیشن کمیشن آف انڈیا بھی قائم کیا جائے گا۔ لیہہ میں ایک سنٹرل یونیورسٹی قائم ہوگی۔انہوں نے آٹو پارٹس ، اسٹیل پیچ ، پلاسٹک ونڈو پین ، چمڑے ، قیمتی پتھر ، روئی ، ریشم پر درآمدی ڈیوٹی میں اضافے کا اعلان کیا۔ اسٹیل اسکریپ پر کسٹم ڈیوٹی کو ایک سال کے لئے ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ آئرن اور اسٹیل کی درآمدات پر ڈیوٹی کو 7.5 فیصد کرنے کی تجویز ہے ۔ اس کے علاوہ چار سو پرانے کسٹم ڈیوٹیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ ٹیکس راحت کی مدت میں ایک سال کی توسیع شروع کرنے کے لئے تجویز کی گئی ہے ۔