کنگن// وادی کشمیر میں سیاحوں کی آمدورفت کے ساتھ ہی سونہ مرگ میں قائم ہوٹل مالکان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ رواں سال کے آغاز کے ساتھ ہی وادی کشمیر کی طرف سیاحوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا لیکن سونہ مرگ میں قائم ہوٹل مالکان کو ابھی اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔سجاد رسول نامی ایک ہوٹل مالک نے بتایا کہ دفعہ 370کی تنسیخ کے بعد سونہ مرگ میں سینکڑوں چھوٹے بڑے ہوٹل مالکان اور ان میں کام کررہے سینکڑوں ملازم روزگار سے محروم ہوگئے جبکہ ہوٹل مالکان 18ماہ سے بیکاررہنے کی وجہ سے قرضے تلے ڈوب گئے ہیں اور ان کی مالی حالت خراب ہوچکی ہے۔سجاد رسول نے بتایا کہ رواں سال کے آغاز کے ساتھ ہی سیاحوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا لیکن اس کا فائدہ سونہ مرگ کے ہوٹل مالکان کو نہیں ہوا۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ سونہ مرگ کو آمدورفت کے لئے کھول دیا جائے تاکہ ہوٹل مالکان بھی اس سیاحتی سیزن سے فائدہ حاصل کرسکیں ۔انہوں نے ضلع انتظامیہ گاندربل سے مطالبہ کیا کہ سونہ مرگ میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام کو بحال کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ ان دنوں گلمرگ اورپہلگام میں قائم ہوٹلوں میں جگہ بھی نہیں مل رہی ہے لیکن سونہ مرگ کے ہوٹل مالکان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ۔ہوٹل مالکان نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہاسے مطالبہ کیا کہ سونہ مرگ کو بھی سیاحت کیلئے کھولا جائے۔