مینڈھر//تحصیل سرنکوٹ کی پنچایت ہل ہنڈیاں مرہوٹ کے صارفین محکمہ بجلی سے نالاں ہیں کیونکہ پنچایت میں نصب بجلی کی تاریں عارضی کھمبوں کے ساتھ بندھی ہوئی ہیں جس سے کسی بھی وقت کوئی بڑا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ۔مقامی لوگوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس جانب فوری طور دھیان دیا جائے تاکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ پنچائت ہل ہنڈیاں مرہوٹ کے سرپنچ محمد یوسف نے محکمہ بجلی کے اعلیٰ ملازمین و ریاستی گورنرر انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ابھی بھی میری پنچائت کے اندر بجلی کی تاریں درختوں کے ساتھ لکٹی ہوئی ہیں اور کسی بڑے حادثے کو دعوت دے رہی ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ میں نے بہت بار متعلقہ محکمہ کے اعلی آفیسران اور ضلع کے اعلی آفیسران سے بجلی کے معاملہ کو لیکر بات چیت کی لیکن اس کا کوئی حل نہیں نکلا ۔انکا کہنا تھا کہ متعلقہ محکمہ کے اعلی آفیسران بس نئی نئی سکیموں کے بارے میں بتا رہے ہیں اور زمینی سطح پر کوئی بھی کام نہیں کررہے ہیں ۔انکا کہنا تھا کہ مقامی صارفین بجلی فیس بھی وقت پر ادا کر رہے ہیں لیکن بجلی کے ترسیلی نظام کی حالت انتہائی خستہ ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ میری پنچائت کے اندر وارڈ نمبر 7ڈنہ میں ایک بھی بجلی کھمبا نصب نہیں ہے اور وہاں مظبوط کھمبوں کی جگہ لوگوں کو پیڑوں کے ساتھ بجلی کی تاریں باندھ کر بجلی دی جاتی ہے جو کسی بھی وقت بڑے حادثہ کا سبب بن سکتے ہیں ۔ سرپنچ نے مزید کہا کہ اس وقت ان کی پنچایت میں 200بجلی کے کھمبوں اور تین ٹرانسفارمروں کی ضرورت ہے ۔ جبکہ ٹرانسفارمروں کے معاملہ کو لیکر ہم نے بیک ٹوولیج پروگرام میں بھی اعلیٰ حکام کو بتایا لیکن اسکا کوئی حل نہیں نکلا ۔انہوں نے متعلقہ محکمہ کے اعلی آفیسران و گورنرر انتظامیہ سے اپیل کی کہ بجلی کے نظام کو درست کیا جائے تاکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔