رام بن // گذشتہ تین ہفتوں سے رام بن میں ساولا کوٹ پن بجلی پروجیکٹ کیلئے بنائی جا رہی سڑک کا کام ٹھپ پڑا ہے کیونکہ پروجیکٹ پر کام کرنے والے ٹھکیداروں اور مزدوروں نے الزام عائد کیا کہ ان کے کروڑوں روپے کمپنی کی طرف سے ادا نہیں کئے گے ہیں ۔اس سڑک کے کام کا افتتاح سابقہ وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے سال2002میں دھرم کنڈ کے مقام پر کیا تھا ۔لیکن بار بار فنڈس کی ادائیگی میں تاخیر کے سبب تعمیراتی کام اکثر وبیشتر ٹھپ رہتا ہے ۔جبکہ اکثر اس سڑک کا کام ٹھکیداروں اور مزدوروں کو وقت پر رقوم نہ ملنے کی وجہ سے بھی ٹھپ رہا ۔ یہ پروجیکٹ جموں و کشمیر کا سب سے بڑا پروجیکٹ ہے جس کی صلاحیت 1856 میگاوٹ ہے لیکن کمپنی کی انتظامیہ اور ٹھکیداروں کے درمیان رقومات کی ادائیگی پر رسہ کش کو لیکر ساولا کوٹ پن بجلی پروجیکٹ تاخیر کا شکار ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے ۔ مقامی لوگوں نے بھی بار بار تعمیراتی کام بند ہونے کو لیکر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملے میں انتظامیہ اور سرکار کو توجہ دینے کی مانگ کی ہے ۔کمپنی کے ساتھ کام کر رہے ٹھکیداروں کا کہنا ہے کہ ان کی قریب 15کروڑ کی بلیں واجب الادا ہیں ۔اْنہوں نے بتایا کہ ٹھکیداروں کے پاس گاڑیوں کو تیل ڈالنے اور بنکوں کی قسطیں ادا کر نے کیلئے بھی پھوٹی کوڑی نہیں ہے اور بہت برداشت کرنے کے بعد انہوں نے کام بند کر دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم پریشان ہیں اور حکام کو اس جانب دھیان دینا چاہئے ۔