کشمیر میں صدیوں سے یونانی طرزِ علاج سے ہی بیماریوں کا علاج ہوتا رہا ہے۔ 1864 میں یہاں پہلا انگریزی دوا خانہ عیسائی پادری ریورنڈ کلارک اور اْس کی بیوی ایلیزبیتھ نے سرینگر کے نواکدال علاقے میں کھولا تھا۔ لیکن لوگ پھر بھی حکیموں اور روایتی علاج پر ہی بھروسہ کرتے تھے۔ سر والٹر لارنس کے مطابق 1895میں یہاں سرکاری طور تسلیم شدہ 300 حکیم تھے جو مختلف مقامات پر لوگوں کا علاج کرتے تھے۔
1874 میں ڈاکٹر تھیوڈور میکس ویل نے مہاراجہ کی اجازت سے سرینگر میں جھیل ڈل کے قریب ڈلگیٹ علاقے میں ’درگجن‘ ہسپتال صرف 60 ہزار پائونڈ کی لاگت سے تعمیر کیا۔ آج کی کرنسی قدر کے مطابق اس ہسپتال پر 42 لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے۔برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک سے یہاں آ نے والے مشنری عیسائیوں نے مقامی لوگوں کی مزاحمت کے باوجود لوگوں کو جدید طبی سہولات کی طرف مائل کرنے کی کافی کوشش کی۔ لیکن یونانی طرز علاج کی روایت اس قدر معتبر اور قدیم تھی کہ ’درگجن‘ ہسپتال کے قیام کے تقریباً سو سال بعد یعنی 1964 میں کشمیر کے میڈیکل کالج سے تربیت یافتہ ڈاکٹروں کا پہلا Batch فارغ ہوا۔ تب سے بہت کچھ ہوا۔ نہ صرف یہ کہ ماہر ڈاکٹروں کی ایک فوج تیار ہوگئی بلکہ کشمیر میں طبی انفراسٹرکچر نے بھی بہت ترقی کی۔ کشمیر کے میڈیکل کالج سے فارغ ہونے والے ڈاکٹروں نے جموں کشمیر میں علاج و معالجے کے حوالے سے انقلاب برپا کرنے کے ساتھ ساتھ پوری دْنیا میں بھی نام کمالیا۔
فی الوقت بھارت میں 20356 ہسپتال ہیں اور جموں کشمیر راجستھان کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ راجستھان میں 3145، جموں کشمیر میں 2812 ،ہماچل پردیش میں160،پنجاب میں240، ہریانہ میں 159اور بھارت میں سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اْترپردیش میں831ہسپتال ہیں۔ سینٹرل بورڈ آف ہیلتھ انٹیلی جنس کے اِن اعدادوشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ ہیلتھ انفراسٹرکچر میں ہم لوگ دلی اور ممبئی سے بھی آگے ہیں۔ پھر مسئلہ کیا ہے؟
سینٹرل بورڈ آف ہیلتھ انٹیلی جنس کے ہی اعدادوشمار کو غور سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پورے بھارت میں 2000شہریوں کے لئے ایک ڈاکٹر دستیاب ہے جبکہ اقوام متحدہ کے عالمی ادارۂ صحت (WHO)کے طے شدہ معیار کے مطابق صرف ایک ہزار شہریوں کے لئے ایک ڈاکٹر کا ہونا لازمی ہے۔ جموں کشمیر کی صورتحال تو مزید ابتر ہے، یہاں 3866 شہریوں کے لئے ایک ڈاکٹر موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرینگر یا نواحی علاقوں کے ہسپتالوں میں اکثر زیرتربیت ڈاکٹر لوگوں کا علاج کرتے ہیں۔ حالانکہ میڈیکل کونسل آف انڈیا کی واضح ہدایات کے مطابق پوسٹ گریجویٹ یا زیرتربیت ڈاکٹر علاج کے دوران مریضوں کا ابتدائی معائنہ تو کرسکتا ہے لیکن وہ ذاتی طور پر تشخیص یا علاج کے بارے میں سینئر ڈاکٹر کی مشاورت کے بغیر فیصلہ نہیں کرسکتا۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ یہاں لوگوں کے رش کو دیکھتے ہوئے ہسپتالوں میں معصوم اور سادہ لوح مریضوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔
اوپر بیان کی گئی صورتحال سے صاف ظاہر ہے کہ طبی نظام کا مطلب صرف عمارتیں تعمیر کرنا اور مشینری فِٹ کرنا نہیں ہے۔ شفاخانہ کا تصور بہترمنظم علاج اور ماہرانہ معالجے کا نام ہے۔ اگر سرکاری سطح پر ہسپتالوں کا انفراسٹرکچر پورے ملک میں دوسرے نمبر پر ہے تو ہمیں پرائیویٹ سیکٹر کی کیا ضرورت ہے؟ لیکن افسوس ہے کہ حکام بھی پرائیویٹ سیکٹر کو ڈیولپمنٹ کے نام پر بڑھاوا دینے پر ہی تْلے ہوئے ہیں۔
گزشتہ ہفتے دل کی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر اوپیندر کول نے مرکزی وزیر جتیندر سنگھ کے ساتھ ملاقات کے دوران سرینگر اور جموں میں جدید طرز کے دو ہسپتال تعمیر کرنے کے منصوبے کی تجویز پیش کردی اور حکومت نے اْنہیں یقین دلایا کہ اْنہیں بھر پور تعاون دیا جائے گا۔ ڈاکٹر کول ’’گوری ہارٹ پروجیکٹ‘‘ کے سربراہ ہیں۔ یہ پروجیکٹ پورے ملک میں جگہ جگہ نجی ہسپتال تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب چونکہ کشمیری ہیں، انہوں نے شروعات کشمیر سے ہی کی ہے۔ انہوں نے تو یہاں تک انکشاف کردیا کہ سرینگر میں زمین بھی منتخب ہوئی ہے اور اس منصوبے پر اس سال اپریل سے کام شروع ہوجائے گا۔ ڈاکٹر کول کے ساتھ ملاقات کے بعد مرکزی وزیر جتندر سنگھ نے انکشاف کیا کہ دیگر کارپوریٹ ادارے جیسے میدانتا، اپالو اور ہندوجاز وغیرہ بھی کشمیر کے ہیلتھ سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔
اس میں حرج نہیں کہ جدید طرز پر مخصوص امراض کے لئے اچھے ادارے قائم ہوجائیں، لیکن بہرحال یہ ایک تجارت ہے اور جدید سہولات اْسی کو میسر ہونگی جو بڑی رقم خرچ کرنے کا اہل ہوگا۔ حکومت کا منڈیٹ ہوتا ہے کہ وہ عوام الناس کے لئے جدید سہولات والے ہسپتالوں کانظام قائم کرے۔ کول صاحب کے ہسپتالوں میں امیروں کا علاج ہوگا، غریب کہاں جائیں گے؟
فی الوقت تو حالت یہ ہے کہ ہسپتال میں جاتے ہی عام مریض پریشان ہوجاتا ہے۔ اوّل تو موجودہ دور میں کورونا وبا نے ہسپتالوں میں معمول کے نظام کا بیڑا غرق کردیا ہے۔ ہسپتال جاتے ہی مریض کو کوِڈ ٹیسٹ سے گزرنا پڑتا ہے اور پھر نااہل اور نیم تربیت یافتہ ڈاکٹروں سے اْس کا پالا پڑتا ہے۔ ہم یہاں عمارتیں توکھڑی کررہے ہیں لیکن ہسپتالوں میں علاج و معالجہ کے لئے مناسب عملے کی تعیناتی کے بارے میں دہائیوں تک فیصلہ نہیں ہوتا۔ خود یہاں کے ڈاکٹروں کی انجمن ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے یہ اعتراف کیا ہے کہ ہسپتالوں کے اندر موجودہ رش کو ہینڈل کرنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔ یہاں تک کہ جموں کے رہنے والے سابق ائرفورس افسر ریٹائرڈ وِنگ کمانڈر مہیش چند سْدھن نے جموں کے ایک روزنامے میں اس بات کا رونا رویا ہے۔ اْن کا کہنا ہے کہ سرینگر کے میڈیکل کالج ہسپتال کے پاس 850 جبکہ جموں کے میڈیکل کالج کے پاس 550بستروں والے دو بڑے ہسپتال ہیں اور جموں کشمیر میں 80 فی صد ہیلتھ کیئر سہولات پرائیوٹ سیکٹر میں ہے۔
مرکزی سرکار نے حالیہ بجٹ کے دوران صحت عامہ پر خرچ ہونے والی رقم کو 94 ہزار 452 کروڑ روپے سے بڑھا کر سوا دو لاکھ کروڑ روپے کردیا ہے۔ صحتِ عامہ کے مصارف میں پہلی مرتبہ 137 فی صد اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ ظاہر ہے جموں کشمیر کے ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے کے بجٹ میں خطیر رقم ہیلتھ انفرا سٹرکچر کے لئے بھی ہوگی۔ لیکن پھر یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمیں یہ رقم عمارتیں تعمیر کرنے میں خرچ کرنی ہے یا ہسپتالوں کا نظام بہتر بنانے کے لئے؟
عام شہری کو کوئی اعتراض نہیں کہ گورنر انتظامیہ کشمیر اور جموں میں صحت اور طبی نگہداشت کے شعبے میں پرائیوٹ متعلقین سے کتنی بڑی سرمایہ کاری کروائے۔ لیکن کم از کم حکومت پر فرض عائد ہوتا ہے کہ جموں کشمیر میں جو سرکاری انفراسٹرکچرموجود ہے اْس میں مکمل نظام بحال کرنے کی سمت مناسب اقدامات کئے جائیں۔ اگر ہسپتالوں میں نیم طبی عملے کی کمی ہے تو اسامیوں کو پْر کرنے میں کیا رْکاوٹ ہے؟ اب تو سیاسی مداخلت بھی نہیں، اب کیا مسئلہ ہے۔ اگر ہسپتالوں میں مختلف شعبوں کے تحت کام کرنے والے ڈاکٹروں، تکنیکی ماہرین اور دیگر سٹاف کی کمی ہے تو کیا وہ نئی عمارتوں کی تعمیر سے ٹھیکیداروں کی تجوریاں بھرنے سے پوری ہوگی؟
تازہ اعدادوشمار کے مطابق جموں کشمیر کی سوا کروڑ آبادی میں 87فی صد لوگ سمارٹ فون استعمال کرتے ہیں۔ ہسپتالوں میں بھیڑ اور قطاروں کی روایت کو توڑنے کے لئے چند تکنیکی ماہرین کی مدد سے آن لائن رجسٹریشن ممکن ہوسکتی تھی، لیکن ہم صرف عمارتیں توڑنے اور نئی عمارتیں تعمیر کرنے میں لگے ہیں۔ ہر ہسپتال میں ایک ہی کام کے لئے چار کھڑکیوں پر قطار میں کھڑا رہ کر رجسٹریشن اور فیس کی ادائیگی کا کام ہوتا ہے۔ کیا اسے جدید طرز پر نہیں کیا جاسکتا تاکہ درد سے تڑپ رہے مریض کا تیمار دار قطار میں خود بھی بیمار نہ ہوجائے۔
ایک بڑی عمارت پر ریڈکراس لگانے اور بعض لوگوں کو سفید کوٹ پہنانے سے ہسپتال نہیں بنتا۔ ’’ہاسپِٹل مینجمنٹ‘‘ اب پوری دْنیا میں باقاعدہ شعبہ ٔ علم ہے۔ ہمارے یہاں جب ڈاکٹر ہی سپرانٹنڈنٹ اور ڈائریکٹر بن جائے تو ہسپتال کا بیڑا غرق ہوجاتا ہے۔ پندرہ یا بیس سال تک مہارت حاصل کرنے کے بعد ایک بڑے ڈاکٹر کو ڈائریکٹر بننے کا چسکا لگ جاتا ہے، پھر درجن بھر ڈاکٹر اْس کے چیلے چانٹے بن جاتے ہیں اور مریضوں کے علاج کا کام پوسٹ گریجویٹ اور زیرتربیت طالبعلموں کو سونپا جاتا ہے، ایسے میں طبی نظام کا جو ہونا ہے وہی ہوگا۔ اور پھر جب صرف دو ماہ کے اندر 50افراد دل کا دورہ پڑنے سے مر جاتے ہیں تو ہم فوراً پرائیوٹ سیکٹر کی طرف دیکھتے ہیں۔
لیفٹنٹ گورنر منوج کمار سنہا اور اْن کے مشیروں کی یہ منصبی ذمہ داری ہے کہ وہ جموں کشمیر میں ہسپتال انتظامیہ میں نظم و نسق بحال کرنے کے لئے دیانت داری سے پہل کریں کیونکہ ہر مسلے کا حل ٹھیکیدار یا کارپوریٹ سرمایہ دار نہیں ہوتا۔ ہمارے یہاں کا ہسپتال انفراسٹرکچر پورے ملک میں دوسرے درجے پر ہے، ماہر ڈاکٹروں کی کمی نہیں، مشنری بھی ہے اور عمارتیں بھی، صرف دیانت داری سے اس بارے میں غور کرنے کی ضرورت ہے۔
(کالم نویس معروف سماجی کارکن ہیں)
رابطہ۔ 9469679449
ای میل۔[email protected]
�������������