بانہال // پچھلے چھ مہینوں سے اجرتوں کے بغیر بانہال۔ قاضی گنڈ فورلین ٹنل پر کام کرنے والے مقامی مزدوروں کی طرف سے منگل کی صبح شروع کی گئی کام چھوڑ ہڑتال انتظامیہ اور کمپنی کی طرف سے اجرتوں کو جلد ہی واگذار کرانے کی یقین دھانی کے بعد ختم کی گئی ہے اور ٹنل پروجیکٹ پر کام دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔مقامی ورکروں نے کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پچھلے کئی مہینے سے نویگہ تعمیراتی کمپنی کے ایک ٹھیکیدار کے ساتھ کام کر رہے ہیں لیکن پچھلے سال اگست کے مہینے سے ان کی اجرتیں واگذار ہی نہیں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف سے کمپنی دعوی کررہی ہے کہ ٹھیکیدار جنوری 2021 تک تمام رقم لے چکا ہے جبکہ دوسری طرف سے ٹھیکیدار کا دعوی ہے کہ رقم کمپنی سے لینا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کی وجہ سے بانہال کے ٹھٹھاڑ ، نوگام ، چریل ، لامبر اور کسکوٹ وغیرہ کے گاوں سے تعلق رکھنے والے ایک سو کے قریب ورکر پچھلے چھ مہینے سے اجرتوں کے بغیر ہیں اور اسی مدعے کو لیکر انہوں نے ٹنل کے اندر اور باہر جاری تمام کام منگل کی صبح سے ہی روک دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتال کی وجہ سے ٹنل کے اندر اور باہر جاری الیکٹریکل ، میکنیکل ، سول اور سفیدی وغیرہ کا کام منگل کی سہہ پہر تک ٹھپ رہا۔ واقع کی اطلاع ملتے ہی ایس ڈی ایم بانہال ظہیر عباس اور ایس ایچ او بانہال نعیم الحق متو نے علاقے کا دورہ کیا اور کمپنی اور ٹھیکیدار کے ساتھ بات چیت کے بعد احتجاجی مزدوروں کو دوبارہ کام شروع کرنے پر راضی کیا گیا۔ بات کرنے پر ایس ڈی ایم بانہال ظہیرعباس نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ ٹھیکیدار کی طرف سے مزدوروں کی بقایا رقومات کی ادائیگی میں تاخیر کے مدعے پرٹھیکیدار کو رقومات کی جلد از جلد ادائیگی کیلئے کہا گیا ہے ورنہ ٹھیکیدار کے خلاف کاروائی کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ منگل کی دوپہر بعد ہڑتال ختم کی گئی اور کام کو دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نویگہ کمپنی کا کہنا ہے کہ انہوں نے جنوری 2021 تک تمام رقومات ٹھیکیدار کو ادا کی ہیں اور مزدوروں کی طرف سے کمپنی کا کام بند رکھنا بلا جواز تھا۔