ینگون//میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں ایک 20 سالہ لڑکی سر میں گولی لگنے سے ہلاک ہوگئیں۔مایا تیو تھائو کنگ نامی خاتون میانمار میں جاری فوج کیخلاف مظاہروں میں ہلاک ہونے والی پہلی شخص ہیں۔ فوجی بغاوت کے خلاف عوامی احتجاج کئی شہروں تک پھیل گیا۔ فوج کے اقتدارپر قبضے کے خلاف ملک کے بڑے شہر ینگون میں مظاہرین نے فوجی قافلوں کو روکنے کے لیے گاڑیاں بیچ سڑک پر کھڑی کردیں۔ ملک کے مختلف علاقوں میں پولیس نے مظاہرین پر شیلنگ کی اور ربر کی گولیاں برسائیں۔ ینگون میں سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ ایک مظاہرے میں شہریوں نے سرخ پرچم کے ساتھ مارچ کیا اور معزول رہنما آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت کے ساتھ اپنی وفاداری اظہار کی۔ مظاہرین نے آمریت مخالف بینرز اٹھا رکھے تھے۔ ریلی کی وجہ سے مرکزی شاہراہوں کے جنکشن بند ہوگئے اور لوگوں اپنی گاڑیاں ایک طرف پارک کرکے مظاہرین کے ساتھ شامل ہوگئے۔