گول //رام بن کے گول میں صفائی ستھرائی کا کوئی بھی نظام نہیں ہے جہاں بازاروں میں نالیوں کی حالت ابتر ہے وہیں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر جمع رہنے سے غفونت پھیل رہی ہے اور حکام اس جانب توجہ دینے کے بجائے خاموش تماشاہی بنی ہوئی ہے ۔ چند سال قبل گول کو میونسپل حدود میں داخلے کے لئے ایک نوٹسفکیشن جاری ہوئی تھی جس کی چند لوگوں نے مخالفت کی جس وجہ سے گول میونسپل حدود میں نہیں آیا ۔ گول بازار جو تین پنچایتوں پر مشتمل ہے اور ان پنچائتوں کی جانب سے بھی صفائی ستھرائی کے حوالے سے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں جبکہ ان پنچایتوں کی کچھ ذمہ داریاں بنتی ہیں کہ گول بازار کو جاذب نظر بنانے کیلئے اقدامات اُٹھائیں ۔ یہاں پر محکمہ دیہی ترقی کے پاس ایک ایسی سکیم بھی ہے جسے سوچھ بھارت مشن کے تحت جانا جاتا ہے او ر ٹی وی ، ریڈیو ، اخبارات ، سوشل میڈیا میں کافی چرچا رہتا ہے لیکن یہ کوئی خرچہ نہیں کرتے ،زمینی سطح پر کوئی رقم نہیں لگائی جا رہی ہے اور اس طرح گول قصبہ گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا ہے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گول بازار کے ساتھ محکمہ دیہی ترقی کا دفتر جہاں پر بی ڈی او بیٹھتے ہیں اور ساتھ میں تحصیل ، ایس ڈی ایم ، ایس ڈی پی او ، نائب تحصیلدار وغیرہ وغیرہ دفاتر بھی ہیں اور تمام آفیسران کا آنا جانا بازار سے لگا رہتا ہے اور بازار کی سڑک کو گریف حکام کے حوالے اور اسی محکمہ کو اس کی صفائی ، ستھرائی کا خیال بھی رکھنا ہے لیکن نا ہی یہاں پر سوچھ بھارت مشن کے تحت کوئی مشن چلایا جاتا ہے اور نا ہی ان پنچایتی نمائندوں نے اس کی طرف آج تک کوئی توجہ دی ہے ۔