سرینگر//قرآن مجید سے چھبیس آیات کوحذف کرنے کیلئے شعیہ وقف بورڈ لکھنو کے سابق چیئرمین کی طرف سے عدالت عظمیٰ میں عرضی دائر کرنے کی سیاسی،سماجی،مذہبی اور تجارتی تنظیموں کی طرف سے مذمت کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور انہوں نے اس گستاخ کوسخت سے سخت سزا دینے کا مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان عالم کے جذبات کوٹھیس پہنچانے والے کے خلاف کارروائی کرنا ناگزیرہے۔ایک بیان میں جموں کشمیرپردیش کانگریس کے صدرغلام احمدمیرنے وسیم رضوی کی گستاخانہ حرکت کی کڑی مذمت کرتے ہوئے سخت تشویش کااظہار کیاہے اور قانون کے مطابق اُسے سخت سزادینے کا مطالبہ کیاہے۔وسیم رضوی کے عدالت عظمیٰ سے قران کریم کے خلاف نفرت آمیزعرضی دائر کرنے کیلئے رجوع کرنے پر ردعمل کااظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اُس نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے،جس کیلئے اُسے قانون کے تحت سخت سزادی جانی چاہیے اور توہین قران کیلئے اس کیخلاف معاملہ درج کرنے کاحکم دینے پرزوردیا ہے ۔میر نے مرکزی حکومت پرزوردیا کہ وہ معاملہ کانوٹس لیتے ہوئے قران مخالف تبصرے کیلئے رضوی کیخلاف کارروائی کرے۔میرنے مزیدکہا کہ رضوی جیسے عناصر کیلئے سماج میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس کاتبصرہ خطرناک اوربے قاعدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ قران ایمان اور امن کاصحیفہ ہے اور کرہ ارض پر کوئی اس کوچیلنج نہیں کرسکتا۔جمعیت علماء وسیم رضوی کی اس جاہلانہ اور انتشاری حرکت کی پر زور الفاظ میں مذمت کرتی ہے جس میں اس نے قرآن جیسے مقدس کلام الٰہی سے چھبیس آیات کے حذف کرنے کی ناشائستہ اور بیہودہ بات کہی ہے۔ جمعیت علماء اہل السنۃ والجماعۃ کے سکریٹری مولانا شیخ عبدالقیوم قاسمی مہتمم دارالعلوم شیری بارہمولہ نے کہا کہ قرآن کلام الٰہی ہے اور اس میں کسی قسم کے ردو بدل یا حذف واضافہ کا سوچنا بھی ارتداد ہے، لہذا اپنی ارتدادی سوچ کی وجہ سے وسیم رضوی اور اس جیسے دیگر لوگ بھی ارتداد اور انتشار پھیلانے کے زمرے میں آتے ہیں،دنیائے انسانیت کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ وسیم رضوی نے خدائے ذوالجلال کے کلام مقدس قرآن مجید کی26آیتوں کو صرف اور صرف اس وجہ سے حذف کرنے کی بات کی ہے کیونکہ ان آیات میں ایسی ہی دریدہ ذہنیت،گندی سوچ،مکروہ عزائم،ناپاک ارادوں اور شیطانی منصوبوں کا علاج مذکور ہے اور یہ بد دین رضوی نہیں چاہتا ہے کہ یہ امراض دنیا سے ختم ہوکر مابین مذاہب اعتماد کی فضا قائم رہے۔جمعیت علماء جموں وکشمیر اور مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع بارہمولہ نے اپنے مشترکہ بیان میںکہا کہ ساری دنیا ومافیھا مل کر بھی چاہے تو قرآن مجید کا ایک نقطہ بھی اِدھر سے اُدھر نہیں کرسکتے ،ردو بدل اور حذف واضافہ کی تو بات ہی نہیں۔یہ بات مسلم ہے اور اقوام عالم کا بھی اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن پاک اتحاد وتفاق،اخوت وبھائی چارگی،ایثار وہمدردی،اکرام انسانیت اور مخلوق خدا کے ساتھ انصاف واحترام کا درس دیتا ہے ممکن ہے کہ کچھ عقل کے اندھوں کو دکھائی نہ دے،بہروں کو سنا ئی نہ دے،گونگے بول نہ سکیں ،بے وقوفوں کی سمجھ میں نہ آئے، تو یہ ان کا اپنا قصور ہے۔ جمعیت علماء نے مزید کہا کہ قرآن ہی تو ہے جس نے تمام مذاہب سے وابستہ انسانوں کو بتایا کہ تم سب ایک ہی کنبہ اور ایک ہی ماں باپ یعنی حضرت آدم ؑ وحوا ؑکی اولاد ہولہٰذا اس میں کسی قسم کا بھید بھاؤاور تفریق ہوہی نہیں سکتا ہے۔جمعیت علماء جموں وکشمیر اور مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع بارہمولہ نے مشترکہ طور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس امن دشمن رضوی کو قرار واقعی سزا دیکر ملک کی سب سے بڑی دوسری اکثریت کے ساتھ ساتھ مسلمانان عالم کو مطمئن کرے کیونکہ یہ معاملہ براہ راست مسلمانان عالم کے مذہبی جذبات سے جڑا ہوا ہے۔قرآن پاک کی توہین کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وسیم رضوی اور اس کے ہم فکر حقیقت میں دین اسلام کے دائرے سے کوسوں دور ہیں۔ان باتوں کااظہار مولاناارشدحسین آرمو نے ایک بیان میں کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دین مبین اسلام کا پیغام ہی امن و امان کا ہے، مگر وسیم رضوی اور اس کے جیسے لوگ دنیا میں امن وامان کے خلاف ہیں، کیونکہ وسیم رضوی اور ان کے ہم فکر اصل میں الٰہی قوانین سے خوفزدہ ہیں،اسلامی قوانین ان کے اعمال کو بے نقاب کر دیتے ہیں۔ مسلمانوں میں فرقہ واریت کا پھیلانا ان کی بہت بڑی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ الحمدللہ علمائے اسلام نے ان کے بیان کی مذمت کرکے ان کی خبیث سازش کو بے نقاب کردیا۔ علمائے اسلام کو یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلام دشمن لوگوں کو بے نقاب کرنے کے لئے اتحاد رکھنا لازمی ہے۔قرآن پاک کے سمجھنے کے لئے مفسرین حقیقی کے بیانات کا ساتھ میں رکھنا لازمی ہے تاکہ قرآن مجید کے اصلی معنی کو ہم سمجھ سکیں۔
سپریم کورٹ میں قرآن مخالف عرضی | سوپور اور لنگیٹ میں احتجاج اور پرامن مظاہرے
غلام محمد+اشرف چراغ
سوپور+کپوارہ//شمالی کشمیر سوپور میں ائماء مساجدکے زیرِ اہتمام مفتی تنویر احمد صدر ائماء مساجدکی قیادت میں وسیم رضوی کے حالیہ قرآن مخالف بیان پر پرامن احتجاج کیا گیا۔احتجاج کے دوران وسیم رضوی کو فوری طور گرفتار کرکے پھانسی دینے کا پرزور مطالبہ کیا گیا۔مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈس اٹھارکھے تھے۔احتجاجی مظاہرین نے جلوس کی صورت میں اقبال مارکیٹ سے مین چوک سوپور تک مارچ کیا، اس موقعہ پر مفتی تنویر نے واضح طور پر کہا کہ ہم کسی بھی صورت میں قرآن پاک کی شان و عظمت کے خلاف کوئی ایسا بیان یا کوئی ایسی حرکت قطعاً برداشت نہیں کریں گے جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں۔احتجاجی مظاہرے مسجد سلمان آباد سوپور سے مین چوک سوپور تک پرامن طور پر کئے گئے۔ادھر جامعہ اسلامیہ ریاض الصالحین بوٹینگو سوپور نے بھی وسیم رضوی کی شرانگیزیاں اور قرآن مجید کی نقطہ چینی پر مذمتی بیان جاری کر کے وسیم رضوی کے نظریہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ادھر اتوار کو لوگو ں نے لنگیٹ ہندوارہ میںرضوی کے خلاف زور دار حتجاج کیا ۔اتر پردیش شعیہ وقف بورڈ کے سابق چیئر مین وسیم رضوی کے خلاف لنگیٹ ہندوارہ میںلوگو ں نے بی ڈی سی چیئر مین شوکت پنڈت کی قیادت میں ایک زور دار احتجاج کیا اور لوگو ں نے اس بد بختانہ حرکت کی شدید مذمت کی ۔احتجاج میں شامل لوگوں کا کہنا ہے کہ وسیم رضوی کی وجہ سے مسلما نو ں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور یہ حرکت مسلمانو ں کے درمیان فتنے کی آگ بھڑکانے کی ایک منصوبہ بند سازش ہے ۔