سرینگر //پچھلے 2برسوں سے مفلوج ہو چکے جموں وکشمیر وقف بورڈ میں تعینات چیف ایگزیکٹو افسر سمیت دیگر عملہ جہاں بغیر بورڈ کے منصوبہ بندی کا کوئی بھی فیصلہ نہیں لے سکاہے، وہیں متعلقہ ادارہ زیر قبضہ اثاثوں پر قبضہ چھڑانے میں بھی ناکام ہے اور بند پڑے اثاثوں کو دوبارہ سے بحال کرنے میں بھی متعلقہ عہددار کوئی فیصلہ نہیں لے پاتے ہیں ۔ذرائع نے مزید بتایا کہ بورڈ کے پاس اس وقت جو زمین دستیاب ہے اس پر اثاثے تعمیر کرنے کیلئے بھی کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ اگر اس اراضی کو استعمال میں لایا جا سکے، تو وہاں شاپنگ مال ، مریج ہال ، دکانیں تعمیر کرکے وہاں سے لاکھوں کی آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن یہ اراضی بیکار پڑی ہے۔ منور آباد سرینگر میں افغان ہوٹل کے سامنے وقف کی زمین پر شاپنگ مال قائم کرنے کا منصوبہ تھا، لیکن یہ منصوبہ بھی ٹھپ پڑا ہے ۔ جناب صاحب صورہ زیارت کے پاس وقف کی زمین خالی پڑی ہے اس کو بھی استعمال میں نہیں لایا جا سکا ہے ۔عید گاہ بٹ راج کالونی کے نزدیک بھی سڑک کے کنارے 8کنال اراضی کو استعمال میں لانے میں بورڈ ناکام رہا ہے ۔بورڈ کے عہدیداران اگرچہ یہ دلیل دے رہے ہیں کہ بورڈ کو حاصل ہونے والا سارا پیسہ ملازمین کی تنخواہوں پر خرچ ہوتا ہے پھر بھی ملازمین نالاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بورڈ کے سابقہ حکام کی غلط پالیسوں اور منصوبہ بندی سے ادارہ ترقی نہیں کر سکا ہے۔ ادارے میں کام کرنے والے ملازمین کے مطابق وقف بورڈ کی ترقی کیسے ممکن ہو سکتی ہے، جب بلیوارڈ روڑ پر 40کمروں پر مشتمل گلمرگ ہوٹل ،جو 2015سے بند پڑا ہے ، کو کھولنے میں ناکام رہا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ یہ ہوٹل پہلے فورسز کے قبضہ میں تھا بعد میں اگرچہ اس کو خالی کرایاگیااورسال2011میں ہوٹل کے گرائونڈ فلور کے 11کمروں کو 11لاکھ کے عوض3 سال کیلئے لیز پر دیا گیامگر ابھی تک اس پر قبضہ ہے اور اس قبضہ کو چھڑانے میں بھی حکام نے کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں اٹھایا ہے ۔حالانکہ وقف کو اس سے لاکھوں روپے کی آمدنی ہوتی ۔ معلوم ہوا ہے کہ بابا ریشی میں 7ہزار کنال اراضی وقف کی ہے اور اس زمین سے جو بھی درخت گرے وہ محکمہ جنگلات نے حاصل کئے اور اس کے عوض انہیں وقف بورڈ کو 45لاکھ روپے ادا کرنے تھے، لیکن برسوں گزر گئے یہ پیسہ ادا نہیں ہو سکا ۔ محکمہ جنگلات نے انہیں یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ لکڑی معیاری نہیں تھی ۔وقف بورڈ کے چیف ایگزیکٹو افسر مفتی فرید نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وقف بورڈ کی مکمل تشکیل کے بغیر ان کے حد اختیار میں نہیں ہے کہ وہ کسی بھی منصوبہ بنی کا کوئی فیصلہ لے سکیں ۔البتہ جب ان کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی اس وقت یہ کہا گیا تھا کہ آپ کو بورڈ کا روٹین ورک دیکھنا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں ۔گلمرگ ہوٹل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے اور اس کا فیصلہ حکام ہی لے سکتی ہے ۔ بابا ریشی میں درختوںکے معاوضے کے حوالے سے مفتی فرید نے کہا کہ یہ کیس چیف سکریٹری کے پاس تھا، انہوں نے معاوضہ کے کچھ قسط رکھے تھے اور سننے میں آیا تھا کہ انہوں نے 30لاکھ جمع کئے بھی ہیں مگر یقین کیساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں کہیں بھی وقف کی زمین خالی ہے وہاں لوگوں کی مانگ ہے کہ وہاں شاپنگ کمپلیکس اور کیمونٹی سنٹر بنائے جائیں لیکن یہ فیصلہ حکام کو ہی لینا ہے ۔