سرینگر //کشمیر سے مہمان پرندوں کی واپسی کا سلسلہ آہستہ آہستہ شروع ہو چکا ہے۔ محکمہ نے دعویٰ کیا ہے کہ امسال کشمیر میں نئے دو مہمان پرندوں کا اضافہ ہوا ہے ۔اس سال کشمیر آنے والے مہمان پرندوں کی سروے اگرچہ ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے تاہم محکمہ کا کہنا ہے کہ اس سال تقریباً 12لاکھ سے زائد پرندوں نے کشمیر کا رخ کیا ہے اور ان میں دو ایسے پرندے بھی شامل ہیں جو پہلی بار رپورٹ ہوئے ہیں ۔معلوم رہے کہ سرما کی آمد کے ساتھ ہی کشمیر کی آبی پناہ گاہوں کو چار چاند لگانے کیلئے ہر سال لاکھوں مہاجر پرندے مختلف ممالک سے آتے ہیں۔ رواں سال آنے والے مہاجر پرندوں کی تعداد کے بارے میں محکمہ گنتی کر رہا ہے لیکن اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اس سال بھی 12لاکھ سے زائد پرندوں کی آمد ہوئی ،جو اب آہستہ آہستہ واپس جا رہے ہیں ۔ ان مہاجر پرندوں سے نہ صرف ان آبی پناہ گاہوں کی رونق بڑھ جاتی ہے بلکہ وادی کا حسن بھی دوبالاہوجاتا تھا ۔ ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال10لاکھ مہاجر پرندوں نے کشمیر کا رخ کیا تھا اور اس سال بھی انہیں اُمید ہے کہ اس سے زیادہ پرندے آئے ہوں گے ۔محکمہ وائلڈ لایف کی ویٹ لینڈ وارڈن کشمیر مس افشان نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ کشمیر وارد ہونے والے مہاجر پرندوں کی تعداد میں کمی آئی ہے بلکہ اس بار 2 نئے قسم کے اضافی پرندے کشمیر میں دیکھے گئے ہیں۔مس افشاں نے کہا کہ ان پرندوں میں white fronted goose اور Tundra swan شامل ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ مہاجر پرندوں کی گنتی کا سلسلہ فروری سے شروع کیا جاتا ہے اور امسال ٹھنڈ ہونے کی وجہ سے پرندے یہاں ہی موجود ہیں،جن کی گنتی ہو رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس سال سردیاں طویل زیادہ ہوئیں اور انہیں اُمید ہے کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں قریب 2لاکھ پرند زیادہ کشمیر آئے ہونگے ۔معلوم رہے کہ یخ بستہ سردیوں میں رہنے کیلئے سائبریااور وسطیٰ ایشیاء کیساتھ ساتھ دیگر ممالک سے کشمیر آنے والے مہاجر آبی پرندوں کی آمد کا سلسلہ اکتوبر مہینے کے آخری دنوں میں شروع ہوجاتا ہے اور مارچ میں یہ پرندے پھر اپنے اپنے ممالک میں واپس چلے جاتے ہیں۔ پرندوں کے یہ اقسام سائبیریا، چین، مشرقی یورپ،اور فلپائن سے لمبی مسافت طے کرکے وارد کشمیر ہوتے ہیں۔پرندے وادی میں چار ماہ قیام کرکے لوٹتے ہیںاور اس دوران وہ کشمیر کی آبگاہوں کو عارضی پناہ گاہوں کے طور استعمال کرتے ہیں‘‘۔ماہرین کہتے ہیں کہ یہ پرندے کشمیر کے ایکو سسٹم کو برقرار رکھنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں اس لئے ان سے اتنی ہی محبت کی جانی چاہئے جتنی ہم اپنے بچوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ یہ ماحول کیلئے غیر موزوں، نقصان دہ اور ناپسندیدہ کیڑے مکوڑے کھاتے ہیں۔ ایسی مچھلیاں، پودے اور گھاس کھاتے ہیں جن کا حد سے زیادہ بڑھنا ماحول کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے ماحول کو متوازن رکھنے میں یہ مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قدرتی آبی پناہ گاہوں کی خوبصورتی اس لئے برقرار ہے کیونکہ یہ مہاجر پرندے ان میں پیدا ہونے والی بیماروں کو کم کرتے ہیں۔