سرینگر // جموں و کشمیر کے سرکاری اسپتالوں میں نصب ای سی جی مشینوں، وینٹی لیٹر، بلڈ پریشر مشینیں، سی ٹی سکین، یو ایس جی، ایکسرے پلانٹ اور دیگر مشینوں کی دیکھ ریکھ کا کام بائیو میڈیکل ایکپیومنٹ مینجمنٹ اور منٹننس پروگرام (BE M M P) کے تحت 5سال کیلئے حیدر آباد کی ایک کمپنی کو دیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر کے سرکاری اسپتالوں میں موجود 14,211 مشینیں اور طبی آلات میں سے 10,925 کوکمپنی نے رجسٹر کیا اور انکی دیکھ ریکھ کا کام سنبھال لیا۔ نوڈل آفیسر ڈاکٹر روشن الدین کسانہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ 3286مشینوں اور طبی آلات کی نشاندہی کا عمل جاری ہے‘‘۔ انہوں نے کہا’’ 31دسمبر تک 638مشینیں اور طبی آلات خراب تھے جن میں50فیصد ابھی بھی خراب ہیں‘‘۔ ڈاکٹر روشن الدین نے بتایا’’ مختلف سرکاری اسپتالوں میں ابھی بھی 319مشینیں اور طبی آلات خراب پڑے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’خراب پڑیں مشینوں کے چند حصے تبدیل کرنے تھے لیکن لاک ڈائون کی وجہ سے انکے پرزہ جاتدستیاب نہ ہوسکے۔ لیکن اب دستیاب ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا’’ آپریشن تھیٹر میں نصب بیڈ، لائیٹیں، لیبر روم میں نصب مشینری اور طبی آلات کے علاوہ مختلف مشینیں کو ٹھیک کرنا کمپنی کی ذمہ داری ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ شکایت موصول ہوتے ہی کمپنی کو 24گھنٹوں کے اندر اندر مشین و طبی آلات ٹھیک کرنے ہونگے۔ ڈاکٹر کسانہ نے بتایا ’’ 5سال تک جاری رہنے والے اس پروگرام کے قوائد و ضوابط کے تحت اگر کوئی مشین 7دنوں کے اندر ٹھیک نہیں کی گئی تو سرکار کمپنی پر جرمانہ عائد کرسکتی ہے‘‘۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر کے سرکاری اسپتالوں میں فنڈس کی کمی اور دفتری طوالت کی وجہ سے کئی سرکاری اسپتالوں کی مشینیں کئی سال تک بے کار پڑی رہتی تھیں ۔