سرینگر//اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کے لوگ سیاسی طور بااختیار بنانے میں کی جارہی غیر ضروری تاخیر سے سخت تکلیف بردداشت کر رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایک تقریب کے دوران بخاری نے کہاکہ منتخب حکومت کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا اور ایک افسرشاہی نظام کبھی بھی لوگوں کی خواہشات کو پورا نہیں کرسکتا۔ ریاستی درجہ کی جلد بحالی کی ضرورت پرزور دیتے ہوئے انہوں نے کہا،’’لوگ جب بھی ہم سے ملتے ہیں تو روزمرہ مسائل اور مشکلات کی طویل فہرست پیش کرتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ افسر شاہی نظام میں احتساب غائب ہے اور ایسا تبھی ہوتا ہے جب عوامی حکومت نہ ہو‘‘۔ بخاری نے کہاکہ اپنی پارٹی باربار حکومت ِ ہند سے گذارش کر رہی ہے کہ جموں وکشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی میں تاخیر نہ کی جائے، اور ہمیں پختہ یقین ہے کہ صرف اسٹیٹ ہڈ کی بحالی سے عوامی مشکلات حل ہوسکتی ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ موجودہ انتظامیہ کی لاپرواہی اور غیرسنجیدہ پن کی وجہ سے ترقیاتی پروجیکٹ تعطل کا شکار ہیں اور تعمیر وترقی کے جمود سے صورتحال پریشان کن ہے۔ بخاری نے مزید کہا’’اپنی پارٹی لوگوں کو درپیش مشکلات کا حل چاہتی ہے، جمہوری حکومت کی عدم موجودگی میں ترقیاتی کام رُکے پڑے ہیں اور اِس وقت یہ ناگزیر بن چکا ہے کہ ایک جوابدہ حکومت منتخب ہوکر آئے جولوگوں کی مشکلات کو حل کرنے پر توجہ دے۔ انہوں نے مزید کہاکہ اپنی پارٹی ’صداقت کی سیاست‘کے اصول پر یقین رکھتی ہے جس کا تقاضی زمینی سطح پر مخلصانہ کوششیں ہیں۔ اس موقع پر متعدد پنچایتی ممبران اور سیاسی کارکن پارٹی میں شامل ہوئے۔پارٹی میں شامل ہونے والے نئی ساتھیوں نے پارٹی لیڈرشپ کا شکریہ ادا کیا۔