کوٹرنکہ //کوٹرنکہ زون میں محکمہ تعلیم کا حال خراب ہونے کی وجہ سے بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے تاہم متعلقہ محکمہ اور تعمیر اتی ایجنسیاں لاپرواہی کا شکار ہو گئی ہیں ۔مقامی لوگوں نے محکمہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ زون کے متعدد دیہات میں سکولی عمارتیں برسوں سے تشنہ تکمیل ہیں تاہم ان کو مکمل ہی نہیں کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے خطہ افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والے والدین اپنے بچوں کو اب سرکاری سکولوں میں بھیجنے سے بھی ڈرتے ہیں ۔نائب سرپنچ پنچایت حلعہ اپر گھبر ارشد حسین میر نی بتایا کہ گور نمنٹ پرائمری سکول سریانی نکہ و پرائمری سکول گلیر کا سٹاف اٹیچ کیا گیا جس کی وجہ سے مذکورہ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچوں کا مستقبل تاریک ہونا شروع ہو گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ گورنمنٹ مڈل سکول پہلواڑ کی عمارت خستہ حالی کا شکار ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ انتظامیہ کی جانب سے 1978میں گورنمنٹ پرائمری سکول پہلواڑ کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا تاہم 2009میں سکول کا درجہ بڑھا کر پرائمری سے مڈل کیا گیا ۔انتظامیہ نے بچوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے 2013میں عمارت کے 2اضافی کمرے تعمیر کئے گئے ۔4لاکھ سے زائد لاگت سے تعمیر ہورہی عمارت کی صرف دیواریں ہی تعمیر کی جاسکی تاہم آتھ برسوں کے بعد بھی عمارت کو مکمل ہی نہیں کیا گیا ۔مکینوں نے بتایا کہ عمارت کی دیواریں اب آہستہ آہستہ گرنا شروع ہو گئی ہیں ۔ایک شخص نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ عمارت کی تعمیر میں صرف 1 لاکھ 80ہزارروپے خرچ کئے گئے ہیں تاہم باقی پیسے ایس ایس اے اکائونٹ میں موجود ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ 2015میں گورنمنٹ پرائمری سکول ہرنوٹ کو بھی مڈل سکول پہلواڑ کے ساتھ ضم کیا گیا اور اس دوران بچوں کی مجموعی تعداد 80تھی جبکہ دوکمروں میں طلباء کو رکھا جاتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سکول کا ساز و سامان رکھنے اور ٹیچروں کیلئے محض ایک ہی کمرہ ہے جبکہ موسم میں بہتری کے دوران بچوں کو کھیتوں میں بیٹھا یا جاتا ہے ۔مکینوں نے بتایا کہ بارشوں کے دوران بچوں کی تعلیم پوری طرح سے متاثر رہتی ہے ۔مقامی لوگوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ زون کوٹرنکہ میں آنے والے سرکاری سکولوں کی حالت کو معیاری بنایا جائے تاکہ بچوں کو جدید اور معیاری تعلیم سے آراست کیاجاسکے ۔