سری نگر// جموں و کشمیر انتظامیہ کا تحقیقات کے بغیر ’’ملک دشمن‘‘ سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث پائے جانے والے سرکاری ملازمین کو برخاست کرنے یا ان کے خلاف دیگر کارروائی کرنے کے لئے خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دینے کے حالیہ حکم کو سخت اور ظالمانہ قدم قرار دیتے ہوئے سی پی آئی (ایم) رہنما یوسف تاریگامی نے کہا کہ یہ خطے میں کام کرنے والے لاکھوں ملازمین کے مفادات کے خلاف ہے۔ ایک بیان میں تاریگامی نے کہا کی پہلے ہی سے ان ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے کافی قوانین موجود ہیں ، جو نوکری کے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں اور نئے احکامات جاری کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ حالیہ حکم حکومت اور بیوروکریٹس کو اپنے ماتحت افراد کو دبانے کے لئے ایک آلے کے طور پر کام کرسکتا ہے۔ غیر یقینی صورتحال کی تلوار ملازمین کے سروں پر لٹکتی ہوئی ہے جس کا ان کے اعلی افسران بھی استحصال کرسکتے ہیں۔ کسی ملازم کو برخاست کرنا یا بغیر کسی تفتیش کے اس کے خلاف کارروائی کرنا انصاف کے بنیادی اصولوں اور حقوق کے منافی ہے۔ ایک ملازم پہلے شہری ہوتا ہے اور اسے تمام آئینی حقوق حاصل ہیں۔ وقت کی ضرورت ان آئینی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے ملازمین کی صفوں میں ناراضگی اور عدم اطمینان کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس حکم کو اجرا کرنے سے پہلے سوچا ہی نہیں گیا تھا اور اس پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔