سرینگر / جموں وکشمیر سول سوسائٹی فورم کے چیئرمین عبدالقیوم وانی اور پیپلزکانفرنس کے لیڈر خورشیدعالم نے جموں کشمیر انتظامیہ کے اس تازہ ترین حکم کو مسترد کردیا ہے جس کے تحت انتظامیہ کو یہ اختیار دیاگیا ہے کہ وہ کسی تحقیقات کے بغیر ملک دشمن سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث پائے جانے والے سرکاری ملازمین کو برخاست کرنے یا ان کے خلاف دیگر کارروائی کرنے کے لئے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دیاگیا۔ سول سوسائٹی فورم کے چیئرمین عبدالقیوم وانی نے ایک بیان میں اس حکم کوجارحانہ ، ظالمانہ اور ملازمین کے مفادات کے منافی قرار دیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ہر طرح کے غلط کام کرنے والے ملازمین سے نمٹنے کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے پہلے سے ہی سروس رولز کے قواعد موجود ہیںجبکہ اب اس حکم کے اجراء سے ملازمین کو ایک بار پھر ذہنی صدمے کی طرف دھکیل دیا گیا ہے جس سے سرکاری اور نجی شعبے کے دفاتر میں موثر ورک کلچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔کسی ملازم کے خلاف سزا متعین کرنا یا برخاست کرنا یا بغیر کسی تفتیش کے سزا یافتہ کارروائی کرنا انصاف کے بنیادی اصولوں اورانسانی حقوق کے منافی ہے۔ ایک ملازم پہلے ایک باعزت شہری ہوتا ہے اور اسے تمام انسانی اور آئینی حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ سول سوسائٹی فورم نے حکومت سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے اور ملازمین کی صفوں میں موجود غصے اور عدم اطمینان کو کم کرنے کے لئے اس بلاجواز حکم کو واپس لینے کی اپیل کی ہے۔ادھرسابق ممبر اسمبلی اور پیپلزکانفرنس کے سینئررہنمامحمدخورشیدعالم نے حکومت کے اُس حالیہ حکم پربرہمی اور تشویش کااظہار کیا ہے جس میں سرکاری ملازموں کو مبینہ طورملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے پربغیرتحقیقات کے نوکری سے برخاست کرنے یاان کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے ٹاسک فورس تشکیل دیاگیا۔انہوں نے اس حکم کواذیت ناک اورسرکاری ملازموں کی توہین کے مترادف قراردیا۔ایک بیان میں خورشیدعالم نے کہاجموں کشمیرکی کثیرآبادی کیلئے سرکاری ملازمت روزگار کابنیادی وسیلہ ہے اورا یسے احکامات سے تشددسے متاثرہ عام لوگوں کی روزی روٹی چھینی جائے گی۔ انہوں نے اس حکم کو فوری طور واپس لینے کا مطالبہ کیا۔