حضرت علی ؓ کی سیرت انسانیت کیلئے مشعل راہ : ڈاکٹر فاروق عبداللہ
سرینگر// نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے خلیفہ چہارم حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے یوم شہادت پر کہا ہے کہ فاتحِ خیبرکو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ آپ کی ولادت خانہ کعبہ اور شہادت مسجد میں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ولادت سے شہادت تک حضرت علی ؓ کی مبارک زندگی خوشنودیٔ رب اور رضائے الٰہی میں بسر ہوئی۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ دین اسلام کی آبیاری اور حق وعدالت کے نفاذ کی راہ میں حضرت علیؓ نے اپنی حکمت و دانش، انصاف پسندی،انسانی اقدار ومساوات، مدبرانہ شجاعت، تسلیم صبر ورضا کے ساتھ غیر معمولی ایثار کے جو عملی نمونے پیش کئے اس سے زمانہ کے حق پسندافراد متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔انہوں نے کہا کہ حضرت علی مرتضیٰؓ کی سیرت انسانیت کیلئے مشعل راہ ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جموں وکشمیر کے عوام سے اپیل کی کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے خاص کر شب قدر اور جمعتہ الوداع پر عالم انسانیت کی بقا، جموں وکشمیر کے عوام کی فتح و نصرت،کورونا وائرس سے نجات کیلئے خصوصی دعائوں کا اہتمام کریں۔
نجی اسپتالوں پر اہم ذمہ داری عائد : ڈی سی اننت ناگ | کووڈمریضوں کیلئے بستر مختص کرنے کی ہدایت
اننت ناگ // ضلع میں کوویڈ مریضوں کے علاج و معالجہ کیلئے طبی ڈھانچہ کو مزید بڑھانے اور تیار کرنے کے لئے ڈپٹی کمشنر اننت ناگ ڈاکٹر پیوش سنگلا نے ضلع کے نجی اسپتالوں اور نرسنگ ہوم مالکان سے ایک میٹنگ کی۔ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ نجی اسپتال کوویڈ مثبت مریضوں کے علاج میں خاص طور پر ہنگامی حالات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے مالکان پر زور دیا کہ وہ اپنے اسپتالوں میں آکسیجن اور دیگر بنیادی سہولیات سے لیس 10 بستروں کوتیار کریں جو ہنگامی مقاصد کے لئے استعمال ہوسکتے ہیں۔ڈاکٹر سنگلا نے صحت حکام کو ہدایت دی کہ وہ موجودہ سہولیات کے حوالے سے نجی اسپتالوں کا ڈیٹا بیس تیار کریں تاکہ مریضوں کو ضرورت کے مطابق اور دستیاب سہولیات کے مطابق داخلہ دیا جاسکے۔اسپتال مالکان نے وبائی مرض سے لڑنے کے لئے انتظامیہ سے مکمل تعاون اور تعاون کا اظہار کیا۔بعد میں ڈپٹی کمشنر نے زچگی اور بچوں کے ہسپتال کی دیکھ بھال اور نظام کو فروغ دینے کی کوشش کیلئے اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو ایک ایمبولینس سونپ دی۔
شب قدر ، جمعۃ الوداع اور عید الفطر | شوپیان میں انتظامات یقینی بنانے کی تاکید
شوپیان//شوپیان ضلع میںشب قدر ، جمعۃ الوداع اور عید الفطر کے مقدس مواقع کے پیش نظر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شوپیاں ڈاکٹر شیخ عبد العزیز نے ایک میٹنگ میںانتظامات کا جائزہ لیا۔انہوںنے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ زیارت شریف پنجورا ، آرہامہ اور جامع مسجد اور اس کے آس پاس پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور مناسب صفائی ستھرائی کو یقینی بنانے کے علاوہ ضلع میں ضروری اشیا کا مناسب ذخیرہ بھی موجود رکھیں۔انہوں نے محکمہ فوڈ سیفٹی ، ایف سی ایس اور سی اے میونسپل کمیٹی اور لیگل میٹرولوجی سے مطالبہ کیا کہ وہ قصبہ اور دیگر تمام بازاروں میں مارکیٹ چیکنگ کو تیز کریں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔ انہوں نے پی ڈی ڈی کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت دی اور میونسپل حکام کو شوپیان میں اہم مقامات پر اسٹریٹ لائٹس لگانے کی ہدایت کی۔انہوں نے کووڈ۔19کی بڑھتی ہوئی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کی طرف سے جاری کردہ رہنما خطوط پر عمل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
عوامی مجلس عمل کا باباخاندان سے اظہار تعزیت
سرینگر//عوامی مجلس عمل نے تنظیم کے سرکردہ رہنما ،معروف ایڈوکیٹ اور تاجر نذیر احمد بابا کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے جن کے دوبھائیوں مرحوم انجینئر غلام رسول بابا اور لطیف احمد بابا کی شریک حیات ایک ہی ہفتے کے دوران انتقال کرگئیں۔عوامی مجلس عمل نے بابا خاندان ، خاص طور پر نذیر احمد بابا اور لطیف احمد بابا کے ساتھ دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ بابا خاندان کشمیر کا ایک معروف تاجر پیشہ خاندان ہے جن کا میراعظ خانوادے کے ساتھ صدیوں پرانا تعلق ہے۔بیان میں مرحومین کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے بابا خاندان کو یقین دلایا گیا کہ غم و الم کے ان لمحات میں تنظیم کی جملہ قیادت اُن کے ساتھ کھڑی ہے ۔تنظیم کے سربراہ میرواعظ محمد عمرفاروق کی طرف سے سوگوار کنبے کے ساتھ تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور مرحومین کیلئے جنت نشینی کی دعا کی۔
طبی و نیم طبی عملہ کیلئے خصوصی Incentiveکا اعلان خوش آئند: حکیم | محکمہ صحت کے عارضی اہلکاروں کو بھی مالی امداد دی جائے
سرینگر// پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ چیئرمین حکیم محمدیاسین نے وبائی بیماری کووڈ19 کے خلاف صف اول پر کام کررہے ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے کی حوصلہ افزائی کیلئے خصوصی مالی امداد دینے کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا گے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ایک بیان میں حکیم یاسین نے لیفٹیننٹ گورنر کی طرف سے طبی عملے کو خصوصی مالی مشاہرہ دینے کے اعلان کی سراہنا کرتے ہوئے مانگ کی کہ محکمہ صحت میں معمولی اجرتوں پر کام کررہے HDF ، آشا ورکروں، صفائی کرمچاریوں اور NHM اہلکاروں کو بھی مذکورہ خصوصی مالی امداد ( incentive) کے تحت لایا جائے تاکہ ان کی بھی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ اہلکار معمولی اجرتوں کے باوجود مستقل طبی و نیم طبی عملے کے ساتھ شانہ بشانہ ہوکر جانفشانی کے ساتھ کووڈ بیماری کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔حکیم یاسین نے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے مستقبل قریب میں سبکدوش ہونے والے ڈاکٹروں کی میعاد ملازمت میں توسیع دینے کے لیفٹیننٹ گورنر کے فیصلے کی بھی ستائش کی ۔تاہم انہوں لیفٹیننٹ گورنر کو ایسے تمام ڈاکٹروں اور سول افسروں کی خدمات کو صحت و طبی تعلیم کے محکمے کے لئے واپس حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا جنہوں نے گزشتہ سال کے دوران کووڈ بیماری کی روک تھام میں نمایاں کام انجام دئیے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ ایسے ڈاکٹروں اور سرکاری اہلکاروں کے تجربات سے بھر پور استفادہ کیا جائے تاکہ مہلک کورونا بیماری کے طوفانی پھیلاو کو مؤثر طریقے پر روکا جا سکے۔ حکیم یاسین نے دیہی علاقوں میں کووڈ ویکسینیشن کی رفتار بڑھانے اور وہاں کووڈ مراکزقائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ دیہی عوام کو کووڈ کے خلاف علاج و معالجہ کی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ شہری ہسپتالوں کووڈ مریضوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے پڑے زبردست بوجھ کو بھی کم کیا جا سکے۔
آشاورکروں کی سکیم کے دائرے میں لانے کی مانگ
سرینگر// آشاورکروں نے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا سے مطالبہ کیا ہے کہ طبی و نیم طبی عملہ کی طرز پر انہیں بھی خصوصی مالی امداد دی جائے۔ سب ڈسٹرکٹ ہسپتال چاڈورہ اور چرار شریف سے منسلک اشاورکروں کی ترجمان رفعت جی نے کہا ہے کہ آشا ورکر موجودہ کورونا وبائی بیماری میں جانفشانی اور اپنے آپ کو خطرے میں ڈال کر بیماروں کی خدمت کررہی ہیں۔سی این ایس کے مطابق انہوںنے کہاکہ بڈگام ضلع کے بیرو، خانصاب اور چرارشریف میڈیکل بلاکوں سے وابستہ آشا ورکر صبح سویرے گھروں سے نکل کر نصف رات تک ہسپتالوں میں ہر قسم کے بیماروں کی خدمت کرنے میں جٹ جاتی ہیں لہذا انہیں بھی Incentiveدیاجائے۔ رفعت جی نے ایل جی منہوج سہنا سے اپیل کی کہ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ تمام آشاورکروں کو بھی اس حکم نامے کے مطابق Incentiveدیا جائے۔
4دنوں میں3سرکاری ملازمین کی برطرفی کشمیر مخالف سازش: چودھری رمضان
سرینگر// نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر چودھری محمد رمضان نے گزشتہ 4دنوں کے دوران 3سرکاری ملازمین کی برخاستگی کو انتقام گیری سے تعبیر کرتے ہوئے ملازمین کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک بیان میں چودھری محمد رمضان نے سرکاری ملازمین کی برخاستگی کے نئے سلسلے کو انتقام گیری قراردیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ چودھری محمد رمضان نے کہا کہ بغیر تحقیقات ملازمین کی برخاستگی تاناشاہی، ہٹ دھرمی اور انتقام گیری پر مبنی فیصلہ ہے جس کے تحت گذشتہ4دنوں کے دوران 3ملازمین کو برطرف کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس گورنر انتظامیہ کے ان اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور اسے جموں وکشمیر کے عوام کو اندھیروں میں دھکیلنے کا ایک اور مذموم حربہ مانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کی برطرفی ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ ہے، اس سے قبل گذشتہ سال ایک اور حکمانے کے ذریعے حکومت کو اس بات کا مجاز بنایا گیا کہ وہ ملازمین کو 48 سال کی عمر میں سبکدوش کرسکتی ہے،اس طرز عمل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نئی دلی جموں و کشمیر کے عوام کو اندھیروں میں دھکیل کر محتاج بنانے پر تلی ہوئی ہے۔ چودھری محمد رمضان نے کہا ایک طرف کشمیری نوجوانوں کیلئے سرکاری نوکریوں کے دروازے غیر اعلانیہ طور پر بند کردیئے گئے ہیں جبکہ دوسری جانب ملازمین کو نکالنے کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔ گذشتہ سال 4500سیلف ہیلپ گروپ انجینئروں اور سینکڑوں عارضی ملازمین کو برطرفی اور اب بلا جواز طریقے سے ملازمین کی برخاستگی کشمیر مخالف گھناونی سازش کا حصہ ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت کو خبردار کیا گیا جموں وکشمیر میں روا رکھی گئی ناانصافیوں، امتیازی سلوک اور انتقام گیری کی پالیسی کو ترک کیا جائے اور گورنر انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ فوراً سے پیش تر برطرف کئے گئے ملازمین کی بحالی عمل میں لائی جائے۔
حکومتی کارروائی غیر انسانی اور قابل مذمت: حریت (ع)
سرینگر//حریت کانفرنس (ع)نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ گورنمنٹ مڈل سکول کپوارہ کے ایک معزز استادادریس جان کو اپنی ملازمت سے برخاست کرنے کے بعد جموںوکشمیر کی موجودہ حکومت نے اب پلوامہ کے نائب تحصیلدار ، نذیر احمد وانی (جوریونیو آفیسر تھا) کو اپنے عہدے سے برخاست کردیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ اس طرح کے اقدامات حال ہی میں منظور کئے جانے والے ان سخت قوانین کی پاسداری کے تناظر میں کئے جارہے ہیں جن کے مطابق ’’ریاست کی سلامتی کے مفاد میں بغیر کسی تفتیش اور تحقیق کے لیفٹننٹ گورنر کسی بھی سرکاری ملازم کو فوری طور پر برخاست کرسکتا ہے‘‘۔حریت (ع)مذکورہ ملازمین کو حکومت کے ذریعہ اس برخاستگی کیخلاف شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے نہ صرف صدائے احتجاج بلند کرتی ہے بلکہ اس اقدام کی پْر زور مذمت کرتی ہے۔بیان میںکہا گیا کہ یہ کس قدر حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ آج جبکہ پوری دنیا کی طرح جموںوکشمیر کے عوام COVID-19 کے مہلک وبا سے دوچار ہیں اور روزانہ COVID معاملات اور اموات کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ،حکمران طبقہ عوامی مصائب اور مشکلات کو کم اور حل کرنے کے بجائے اس طرح کی بے رحمانہ برخاستگی کی کارروائیوں میں لگے ہیں۔حریت (ع)نے عوام کو اس طرح کے سخت اقدامات کے ذریعے برسر روزگارملازمین کو روزگار سے محروم کرنے کی کارروائی کو انتہائی غیر انسانی اور انتقام گیرانہ عمل قرار دیتے ہوئے اس طرح کے قوانین اور احکامات فوری طور پر کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کرتی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ سرکاری ملازمین کو خوفزدہ اور ہراساں کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جانا چاہئے۔حریت (ع)نے انسانی حقوق کی محافظ تنظیموں کے علاوہ قانونی ماہرین سے بھی اپیل کی کہ وہ حکومت کے اس طرح کے سخت اقدامات کا سنجیدہ نوٹس لیں اور جموںوکشمیر کے سرکاری ملازمین کو ان کے حقوق کے تحفظ کے ضمن میں ہرممکن مدد فراہم کریں۔
سوپور میں کووڈ سے55سالہ شہری اور نوزائیدہ فوت
غلام محمد
سوپور//لالہ بب صاحب سوپور میں کورونا سے 55سالہ شہری سب ڈسٹرکٹ ہسپتال سوپور میں فوت ہوا۔ ایک اہلکار نے کہاکہ مریض کوایک ہفتہ قبل نمونیہ کی وجہ سے کووڈ19ہسپتال میں داخل کیاگیا تھا اور اس کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ہسپتال میں علاج و معالجہ جاری تھا۔ مذکورہ اہلکار نے کہاکہ ایک ہفتہ کے بعد مریض کا کورونا ٹیسٹ سوموار کومنفی آگیا لیکن منگلوار کو چل بسا۔ خواجہ باغ بارہمولہ سے تعلق رکھنے والی کورونا مثبت حاملہ خاتون نے منگل کی صبح نوزائیدہ پیدا ہوا تاہم وہ کچھ وقت کے بعد ہی اس مہلک بیماری سے انتقال کرگیا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پچھلے 3دنوں کے دوران یہ چوتھی ہلاکت ہے۔ پچھلے ایک ماہ کے دوران سوپور میں کورونا کے مثبت معاملات کی تعداد 750تک پہنچ گئی جن میں44مریضوں کو کووڈ ہسپتال سوپور میں داخل کیاگیا جبکہ دیگر گھروں میں قرنطینہ تھے۔
کورونا سے نمٹنے میں حکومت ناکام:اپنی پارٹی
سرینگر//اپنی پارٹی صوبائی صدر کشمیر محمد اشرف میر نے جموں وکشمیر میں کویڈ19معاملات میں تیزی کے ساتھ ہورہے اضافے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ ایک بیان میں اشرف میر نے کہاکہ حکومت موثر طریقے سے موجودہ کوروناوبائی لہر سے نپٹنے میں مکمل طور ناکام رہی ہے اوراس پر روک لگانے کے لئے مطلوبہ پیشگی انتظامات ناکافی تھے۔ انہوں نے کہاکہ دہلی اور مہاراشٹرا کی مثال جموں وکشمیر انتظامیہ کیلئے چشم کشا ہونی چاہئے جہاں پر انتظامی خامیوں کی وجہ سے کئی قیمتی جانیں تلف ہوئیں لیکن حیران کن امر ہے کہ اِس سے سبق سیکھنے کی بجائے انتظامیہ کے غیر سنجیدہ رویہ نے یونین ٹیریٹری میں بحران جیسی صورتحال پیدا کر دی ہے‘‘۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر بھر میں مناسب تعداد میں حیات بخش ادویات اور آکسیجن سپلائی کی دستیابی سے متعلق حکومتی اعلانات کھوکھلے ہیں کیونکہ زمینی سطح پر Remdesivir.کی قلت سے لوگ جوجھ رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت کو چاہئے کہ صحیح اعداد و شمار جمع کر کے اپنے دعوؤں کے ساتھ اُس کا موازنا کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ 45سال کی عمر سے زائد افراد کو دوسری خوراک کے لئے تاریخوں کا انتظار کرنا پڑ رہا ہے جبکہ 18سال سے زائد عمر کے افراد اندراج کے بعد 10سے15دنوں کا سلاٹ دیئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ خوراک کے لئے سلاٹ دینے میں تاخیر صرف جموں وکشمیر کے اندر حقیقت کو چھپانے کی کوشش ہے ، جہاں ویکسین کی قلت ہے اور لوگوں کو جھوٹی اُمید دلائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ لیفٹیننٹ گورنر کے صلاحکار بصیر خان کی طرف سے جموں وکشمیر میں کویڈ19بحران سے متعلق دعوؤں کو حقائق کے ساتھ موازانہ کرنا چاہئے، جب تلک زمینی حقیقت کو تسلیم نہیں کیاجاتالوگوں کو تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اشرف میر نے کہا’’ لیفٹیننٹ گورنر کی سربراہی والی پانچ رکنی کورونا بحران انتظامیہ کمیٹی ہو یا صلاحکار بصیر خان کی طرف سے حالیہ اعلان، انتظامیہ کے پاس کوئی روڈ میپ نہیں کہ کیسے اِس بحران سے نپٹا جائے۔ دیگر ریاستوں سے لگاتار ورکرز بغیر کویڈ19ٹسٹ کروائے آرہے ہیں، لوگوں کو حیات بخش ادویات اور کویڈ خوراک اندراج کے لئے دربدر ٹھوکریں کھانی پڑ رہی ہیں۔ موجودہ کورونا صورتحال نے انتظامیہ میں پائی جارہی خامیوں کی پول کھول دی ہے اور لوگوں کو تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے‘‘۔ جموں وکشمیر میں کویڈ19ٹسٹنگ سہولت کی دستیابی کا تذکر کرتے ہوئے میر نے کویڈ آر ٹی پی آر سی ٹسٹ کٹس کی قلت پر انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہاکہ کویڈ19آر ٹی پی سی آر ٹسٹ کی چار تاسات دنوں سے قلت ہے، بہت سارے مریض پریشان ہیں جوکہ اپنی رپورٹوں کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آج بھی 51قیمتی جانیں چلی گئیں اور اِس میں لگاتار اضافہ ہورہا ہے۔ انتظامیہ کو چاہئے کہ اِس بحران کو سنجیدگی سے لیاجائے اور ہنگامی بنیادوں پر اِس کا توڑ کرنے کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں۔ اموات کی اِس سونامی سے بچنے کے لئے صرف ٹیکہ کاری واحد حل ہے۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ نجی اسپتالوں اور نرسنگ ہومز کو بھی حیات بخش ادویات Remdesivir اورDexamethasoneفراہم کی جائیں تاکہ لوگ باآسانی ایمرجنسی کے وقت یہ ادویات لے سکیں۔ اس سے سرکاری صحت مراکز پر دباؤ کم ہوگا۔