سرینگر// وادی کے معروف، تھیٹر اور ڈرامہ آرٹسٹ وپرڈیوسر پیارے لال رازدان نئی دہلی میں کورونا صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے دوران زندگی کی جنگ ہار گئے۔ سرینگر کے کرہ فلی محلہ سے تعلق رکھنے والے رازدان نے اپنے پیچھے بیوہ اور 4صاحبزادیاں چھوڑ ی ہیں۔ رازدان نے ریڈیو کشمیر سرینگر میں اپنے کیریئر کے دوران ڈراموں کو پیش کرنے میں بہترین کاوشیں کیں اور انہوں نے ہمیشہ کشمیری زبان کو گھر گھر پہنچانے میں کلیدی رول ادا کیا۔ جس کے لئے انہیں قومی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔.پی ایل رازدان نے اپنی سبکدوشی کے بعد بھی بہترین کارکردگی کے ساتھ اپنی پروڈکشن کے شوق کو جاری رکھا۔ انہوں نے ریڈیو ڈرامہ پروڈکشن کے لئے مختلف زمروں میں تین مرتبہ آکاش وانی ایوارڈ بھی جیتا ۔ہر منصوبے کے لئے ، انہوں نے پیشہ ورانہ مہارت ، محنت اور لگن کے اعلی معیار پر قائم رہتے ہوئے کامیابی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا۔ پی ایل رازدان کے انتقال سے پرسار بھارتی کو مشہور پروڈسر اور براڈکاسٹر کا نقصان ہوا ہے۔آنجہانی رازداں کو کشمیری اور اردو دونوں زبانوںمیں انتہائی پْرجوش اور متحرک ڈرامہ آواز کے لئے بھی جانا جاتا تھا۔آکاشوانی سرینگر کے ’یوو وانی سیکشن‘ میں پروڈیوسر کے طور پر بھی انہوں نے کافی کام کیا۔ انہوں نے بعد میں سرینگر میں آل انڈیا ریڈیومیں پروڈیوسر ڈرامہ سیکشن کے طور پر کام کیا اور ڈراموں کی سریز تیار کی جس کو سامعین نے بہت پسند کیا اور ان کی تعریف کی ۔جموں اسٹیشن میں انہوں نے مشہور کشمیری پروگرام ’’ پمپوش‘‘ اور اردو رسالہ ’’خرمن‘‘ کے پروڈیوسر کے طور پر کام کیا۔ رازدان کو ڈرامہ پیش کرنے کے خوب ہنر تھا اور وہ ہمیشہ کشمیری زبان کو تقویت پہنچاتے رہے۔انہوں نے بحیثت فنکار بھی کئی ڈراموں میں قابل ستائش رول کیا۔پی ایل رزدان ریڈیو کشمیر میں کئی برسوں تک کشمیری موسیقی شعبے سے بھی وابستہ رہے۔