سرینگر///ہند وپاک پر کشمیر مسئلہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر Volkan Bozkir نے کہا کہ جموں وکشمیرکادیرینہ تنازعہ مذاکرات اورسلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے ذریعے حل کیاجاناچاہیے۔ سی این آئی کے مطابق نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرمیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر Volkan Bozkirنے کہا کہ عالمی ادارے کے تحت قیام امن کی کارروائیوں میں پاکستان کی بھرپورشمولیت کوسراہاہے جس کامقصد بین الاقوامی امن وسلامتی کو فروغ دیناہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان قیام امن کے مشنوں میں سب سے زیادہ فوجی شمولیت اختیارکرنے والے ملکوں میں شامل ہے۔انہوںنے اس حقیقت کااعادہ کیاکہ جموں وکشمیرکادیرینہ تنازعہ مذاکرات اورسلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے ذریعے حل کیاجاناچاہیے۔ Volkan Bozkir نے کہاکہ وہ جنوبی ایشیائی ملکوں کے اپنے آئندہ دورے کے دوران حکومت پاکستان کی دعوت پرپاکستان کادورہ بھی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ مجھے ہندوستان اور پاکستان کا 1972 کا شملہ معاہدہ بھی یاد ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کی حتمی حیثیت اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن طریقے سے طے کرنا ہے۔اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی اور پاکستان کے صدر ذوالفقار علی بھٹو نے 1972 میں دستخط کیا ہوا شملہ معاہدہ دو طرفہ معاہدہ ہے جو مسئلہ کشمیر پر کسی بھی تیسری فریق کی ثالثی کو مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پھر میں نے یہ ذکر کیا کہ میں نے تمام فریقوں سے ایسے اقدامات کرنے سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس سے جموں و کشمیر کی حیثیت متاثر ہوسکتی ہے۔ عام طور پر میں بات چیت اور سفارتکاری کی حمایت کرتا ہوں ، اور میں پاکستان اور ہندوستان ، پڑوسی ممالک ، دونوں کو حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ اس تنازعہ کو پرامن ذرائع سے حل کریں۔ یہ وہ پیغام تھا جو میں نے دیا تھا۔