بڈگام// چرار شریف سے ملحقہ نوگام دارون میں اخروٹ کے درخت سے لٹکی ہوئی 30 سالہ شادی شدہ خاتون کی لاش پائی گئی۔میکے والوں اور رشتہ داروں نے اس واقعہ کے خلاف کئے احتجاجی مظاہرے میں الزام عائد کیا کہ سسرال میں ان کی بیٹی کا قتل کیا گیا ہے۔چرار شریف سے ملحقہ علاقہ نوگام دارون میں 30 سالہ شادی شدہ خاتون جس کی شناخت محمودہ کے طور پر ہوئی ہے جس کی شادی دو سال قبل محمد شفیع میر سے ہوئی تھی۔.میکے والوں نے چرار شریف سب ڈسٹرکٹ ہسپتال کے باہر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ محمودہ کو سسرال میں قتل کردیا گیا۔متوفی خاتون کے بھائی آذاد احمد ملک ساکنہ زسو پلوامہ نے بتایا کہ اس کی بہن کی شادی دو سال قبل محمد شفیع میر سے ہوئی تھی۔انہوں نے کہامیری بہن کا قتل کیا گیا ہے۔اسے سسرالیوں نے پھانسی پر لٹکا دیا ہے۔آذاد احمد نے سوالیہ انداز میں کہا کہ اگر اس نے خودکشی کی ہوتی تو جب ہم موقع پر پہنچے تو اس کے سسرال والے کیوں بھاگ گئے۔ اس کے شوہر اور سسرال والوں نے اپنے فون کیوں بند کردیئے.میری بہن اچھی تعلیم یافتہ تھیں َ۔اس نے کشمیر یونیورسٹی سے ایم اے. بی ایڈ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ وہ بہت ہمت اور حوصلہ مند خاتون تھی۔ وہ کبھی خودکشی نہیں کرسکتی ہے،مہلوک خاتون کی لاش 9 اور 10 مئی کی درمیانی شب کو اپنے شوہر کی رہائش گاہ کے قریب اخروٹ کے درخت سے لٹکتی ہوئی پائی گئی۔اس موقع پر میکے والوں نے پولیس اور ضلع انتظامیہ سے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔پولیس کے اعلیٰ حکام نے اس سلسلے میں بتایا کہ ہمیں پیر کی صبح واقعے کی اطلاع ملی تھی جس کے فوراً بعد وہاں ایک ٹیم بھیجی تھی جس کے بعد خاتون کی نعش پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال لائی گئی۔ ابتدائی طور پر 174 کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ ملنے کے بعد مزید تفتیش شروع کی جائے گی ۔