پونچھ//سرنکوٹ کی ڈی ڈی سی ممبران چوہدری شاہنواز احمد، سہیل ملک اور دیگران نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ کے دفتر کے باہر احتجاجی دھرنا دے کے مغل شاہراہ کو عام لوگوں کے لئے کھولنے کا مطالبہ کیا۔ضلع ترقیاتی کمشنر کے دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے ہوئے مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر مغل شاہراہ کو فوری بحال کرنے کے نعرے درج کئے گئے تھے۔اس دوران ذرائع ابلاغ کے نمائندگان سے بات کرے ہوئے ڈی ڈی سی چیئر پرسن چوہدری شاہنواز نے کہا کہ وہ سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ آخر مغل شاہرا ہ کو بند کیوں رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی تمام سڑکیں بحال کر دی گئی ہیں صرف اسی شاہرا پر کیوں قدغن لگایا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ خطہ پیر پنچال کے لوگوں کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے جسے وہ برداشت نہیں کر سکتے ۔انھوں نے کہا کہ اس وقت جب لوگ کورونا فائرس کا شکار ہو کر علاج کے لئے ترس رہے ہیں اگر مغل شاہراہ بحال ہوگی تو وہ لوگ کشمیر کے ہسپتالوںمیں اپنا علاج کروانے کے لئے جا سکتے ہیں جہاں ہر طرح کی سہولت دستیاب ہے ۔انھوں نے کہا کہ جموں میں لوگوں کو بیڈ دستیاب نہیں ہو رہے ہیں نہ ہی خطہ پیر پنچال کے لوگوں کا وہاں علاج کیا جا رہا ہے ایسے میں مغل شاہراہ کو بند کر کے ان مریضوں کے علاج میں دشواریاں پیدا کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ خطہ پیر پنچال کے لوگوں کے ساتھ سازش کے تحت کیا جا رہاہے۔انہوں نے کہا کہ ضلع ترقیاتی کمشنر نے جب اعلیٰ حکام سے تحریری طور پر اجازت طلب کی تو اعلیٰ حکام کی جانب سے یہ کہا گیا ہے کہ سڑک گاڑیوں کی آمد رفت کے لئے تیار نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بالکل جھوٹ ہے مغل شاہرا بالکل ٹھیک ہے۔انہوں نے کہا کہ سڑک بحال نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے ملازم جو کشمیر میں تعینات ہیں، جو طلبہ وہاں پڑھ رہے ہیں ان کو جموں کے راستے کشمیر جانا پڑتا ہے جو ان کے ساتھ سراسر ظلم ہے۔ انہوںنے لیفٹیننٹ گورنر ایس کے سہنا اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر مغل شاہراہ کو بحال کرنے کی ہدایت کریں۔انہوں نے کہا کہ یہ وقت نہیں ہے کہ وہ احتجاجی مظاہرے کریں لیکن ان کو مجبور کیا گیا ہے کہ وہ خاموش احتجاج کریں۔انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر فوری مغل شاہراہ کو بحال نہ کیا گیا تو وہ بڑی سطح پر احتجاج کریں گے۔