سرینگر//ڈاکٹر س ایسوسی ایشن کشمیرنے کہا ہے کہ سرکاری سطح پر جو کووِڈ سے ہوئی ہلاکتوں کی تعداد بتائی جاتی ہیں وہ کم اندازہ ہوتی ہیں کیوں کہ وادی میں کورونا وائرس سے ہونی والی بہت سے اموات کی اطلاع نہیں دی جاتی۔ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدرڈاکٹر نثار الحسن نے ایک بیان میں کہا کہ کوروناوائرس کی بیماری سے مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے ،جس کی اطلاع دی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مرنے والوں کی جوتعداد ظاہر کی جاتی ہے وہ کووِڈ انفیکیشن سے مرنے والوں کی اصل تعداد سے کہیں کم ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا سے مرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور جو اعدادوشمار بتائے جاتے ہیں وہ حقیقی صورتحال کی صرف سرسری تصویر ہوتی ہے۔ ڈاکٹر نثار الحسن نے کہا کہ صرف ان ہی اموات کوسرکاری اعدادوشمار میں شامل کیا جاتا ہیں جن کا RT-PCRٹیسٹ مثبت آتا ہے۔انہوں نے کہا ،’’لیکن اس ٹیسٹ میں30فیصد سے زیادہ مثبت معاملات چھوٹ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم متعدد ایسے مریضوں کودیکھتے ہیں جن کا کووِڈ ٹیسٹ منفی ہوتا ہے لیکن ان کاCTاسکین کووِڈ کی علامات کوظاہر کرتا ہیںلیکن ان کورپورٹ نہیں کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا جبکہ بزرگ افراد کااسپتالوں میں داخلہ اور اموات کی شرح بہت زیادہ ہے ،لیکن اسپتالوں میں بہت سوکا کووِڈ ٹیسٹ نہیں کیاجاتا۔انہوں نے کہا کہ بزرگ افراد میں کووِڈ کی علامات نہیں پائی جاتیں بلکہ وہ صرف کمزور محسوس کرتے ہیں اور ذہنی طور منتشر ہوتے ہیں ۔انہوں نے مزیدکہا کہ جب مریض میں علامات نہیں ہوں تو ڈاکٹرتشخیص میں اس کے کووِڈ سے متاثر ہونے کا کم ہی سوچتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہواکہ متعدد مریض کووِڈ سے فوت ہوتے ہیں اور ان کی تشخیص نہیں ہوئی ہوتی۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ کووِڈ سے ہونے والی بہت ساری اموات دیگر بیماریوں میں چھپ جاتی ہیں ۔متعدددل یا پھپھڑوں کے عارضوں میں مبتلاء مریض کووِڈ سے فوت ہوتے ہیں لیکن ان کی موت کو دل کے عارضے یا پھیپھڑوں کی بیماری سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ متعدد لوگوں میں کووِڈ کی علامات پائی جاتی ہیں لیکن وہ اس کیلئے ٹیسٹ نہیں کرتے ہیں کیوں کہ انہیں سماج میں بٹہ لگنے اور گھر کے افراد کے قرنطین کئے جانے کاڈر ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ متعدد لوگ سوچتے ہیں کہ اگر وہ کووِڈ سے مرگئے توانہیں بہتر طریقے سے دفنایا نہیں جائے گااوراس وجہ سے وہ طبی مشورہ یانگرانی سے استفادہ نہیں کرتے ۔انہوں نے کہا کہ اس طرح لوگ گھر میں مرنے کاانتخاب کرتے ہیں اور ان کاکہیں اندراج نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ اصل اعدادوشمار کووِڈ سے ہونے والی تباہی کو کم کرنے کیلئے مناسب ردعمل کیلئے لازمی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کسی مشکل کا حل ڈھونڈنے کیلئے ہمیں یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کتنی بری ہے۔